بھارتی پائلٹ کی رہائی کا عمران خان کا فیصلہ بالکل غلط ہے کیونکہ ۔۔۔۔۔ یورپ میں مقیم نامور پاکستانی صحافی نے ایسی بات کہہ ڈالی جو کسی کے وہم و گمان میں نہ تھی

لاہور (ویب ڈیسک) بھارتی پائلٹ کو بالآخر رہا ہونا ہی تھا، مگر اتنی جلدی رہائی اور وہ بھی ان کی طرف سے کسی دوستانہ پیغام کے بغیر ایک غلط فیصلہ ہے۔ گزشتہ پچاس برس پر پھیلی ہماری جنگی تاریخ اتنی درخشاں نہیں کہ فخر کیا جا سکے۔ تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر

یورپ میں مقیم نامور پاکستانی صحافی راجہ اکبر داد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔1965کی جنگ جس طرح ہم پر مسلط کردی گئی اور جس طرح اختتام کو پہنچی، ایسے مایوس کن حقائق ہیں کہ انہیں دہرانا ایک تکلیف دہ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ اس وقت کی تحریک کو بھی آج کی طرح عروج پر پہنچنے کے لئے بے پناہ قربانیوں اور قیدوبند کی تکالیف اٹھانی پڑیں۔اس وقت بھی میدان جنگ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گلی کوچے تھے اور حملہ لاہور بارڈر سے کردیا گیا۔ اس وقت کے حکمران اگر ان تمام بھارتی متوقع اقدامات کا احاطہ نہ کرسکے اور ملک ایک بے نتیجہ جنگ میں پھنس گیا۔ اعلان تاشقند جیسے کمزور اور نتیجہ کے علاوہ جنگ بندی کے بعد جس طرح مجاہدین اور ان کے ہمدردان کا مقبوضہ علاقہ میں قتل عام ہوا، وہ اس تاریخ کا ایک نہایت تاریک باب ہے جس پر پاکستان میں کبھی بامقصد بات نہیں ہوئی۔ گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے پاک، بھارت تعلقات اور دنیا کے اہم ایوانوں میں جس طرح کی ہلچل مدا دی ہے وہ اس خطہ کے ان دو ممالک کے حوالے سے اہم اور توجہ طلب ہے۔ 1965میں بھی اسی طرح کے تحریکی اور قدرتی موسم کے باہمی تعاون کے نتیجے میں مزید تیزی آئی جسے روکنے کے لئے بالآخر بھارت کو پاکستان پہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑی، آج جس طرح کا ماحول بنا ہوا ہے کہ سیاست بھی گرم ہے، تحریک بھی عروج پر ہے اور ان دونوں کا اگر کہیں نہ کہیں کسی مرحلہ پر جلد ملاپ ہو جاتا ہے تو ایک مختصر جنگ کے واضح امکانات موجود ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر چلتی احتجاجی تحریک بھارت کا اندرونی معاملہ ہے

اوراس سے نمٹنے کے لئے وہ پوری اہلیت رکھتا ہے۔ ان کا یہ رویہ کم و بیش پچھلے پانچ برس سے ہم پر واضح ہے۔ ہماری لاکھ کوششوں کے باوجود وہ اپنا یہ موقف درست سمجھتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ہماری بے شمار درخواستوں کے باوجود وہ ملک ہمارے ساتھ انگیج ہونے کیلئے تیار نہیں۔ بھارتی سفارتکاری کا حال اچھا نہیں دکھائی دیتا جبکہ اہم فورمز پر پاکستانی موقف جو بڑا واضح ہے ، کو زیادہ بہتر پذیرائی ملتی نظر آتی ہے نہ ہی پاکستان ہمسایہ ملک کی طرح کمزور دلائل لئے دنیا کو پریشان کرنے میں یقین رکھتاہے۔ اگرچہ حالیہ پلوامہ واقعہ کو ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا مگر آج تقریباً ایک ہفتہ بعد بھارتی بیانات میں پہلے دن والی گرمی نظر نہیں آتی، وجہ؟ جس کے لئے مربوط سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ پلوامہ کس نے کرایا ہے؟ بھارت پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ دوسری طرف ہمارا موقف یہ ہے کہ ہمیں نہیں علم کہ کون ذمہ دار ہے؟ البتہ ہم ذمہ دار نہیں۔ بھارت کے پاس ثبوت ہیں یا نہیں ہمارا دردسر نہیں اور نہ ہی ہمیں کسی تحقیات میں شامل ہونےکی پیشکش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے صورتحال پر پاکستانی موقف کمزور ہوتا ہے جس کی بلا وہی نمٹے۔ بھارت کے 12 جہاز آئے، فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی اور تمام بخیریت واپس چلے گے۔ اگر یہ معاملات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی سوچ تھی تو اسی رات بھارت کے اندر ہوائی جہازوں سے بمباری کرنا، عدم مداخلت اورعدم ٹکراؤ کی پالیسی سے متصادم ہے۔ اس تمام منظر کو دیکھنے کے بعد یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ

ہمارے کیا اہداف ہیں اورہم انہیں کس طرح حاصل کرنے جارہے ہیں؟ یا ہم صورتحال کیلئے بالکل تیار ہی نہیں تھے اور ہمارا دشمن اپنی بہتر پلاننگ کی وجہ سے ایک بار پھر ہمیں جنگ میں دھکیلنے کے قریب پہنچ گیا۔ اعلیٰ سیاسی اور عسکری حلقوں سے کشمیر پر جس طرح کی بیان بازی ہمیںماضی قریب کو دیکھنے میںملی ہے ہر طرف سے یہ درست تاثر ابھرے کے اب یہ مسئلہ کسی حل کی طرف بڑھ رہاہے۔کشمیر کےاندر پاکستانی پرچموں میں لپٹے اٹھتے جنازے، وادی کے اندر بیشتر علاقوں میں بھارت کیلئے آؤٹ آف کنٹرول صورتحال اور پاکستانی عوام کے جوش وجذبے وہ فیکٹرز ہیں جن سے واضح ہو رہا ہے کہ مسئلہ پر بات چیت کاماحول بن رہا ہے۔ پچھلے چھ ماہ کی متحرک سفارتکاری سے بھی اچھے نتائج کی خبریں سننے کو مل رہی تھیں کہ وہ کچھ ہوگیا جس کا انتظار تھا۔ پاک، بھارت جنگی انگیج منٹ ہوگئی، اس جنگی چپقلش کی وجوہات دنیا پر واضح کرنا اہم ہیں۔ ایل او سی پر مسلسل گولہ باری اورلوگوں کی درہم برہم زندگیاں بھی وجوہات پر بات کرنے پر مصر ہیں۔ دوملکوں کے درمیان ایل او سی پر جس طرح کی گولہ باری پچھلے چھ ماہ سے جاری ہے، لفاظی گولہ باری بھی جاری ہے۔ ماحول بالکل دوستانہ نہیں بلکہ حقیقت میںدونوں ملک حالت جنگ میں ہیں۔ ان حالات میں پاکستان دونوں محاذوں پر کنفیوژن کا شکار ہے۔ بھائی ہمیں صرف اپنی فضائی اہلیت ثابت کرنےمیں کچھ فائدہ نہیں۔ اگر کشمیری تحریک کو کامیاب ہونا ہے تو جب تک اس میں دیگر ممالک کی کسی نہ کسی انداز میں مداخلت ممکن نہیں ہوپاتی کامیابی کے امکانات اچھے نہیں۔

پاکستان ہی اس ایشو کو انٹرنیشنلائز کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے جبکہ بھارت کی ہمیشہ یہی کوشش رہے گی کہ پہلے تو اس ایشو کو بین الاقوامی بننے ہی نہ دیا جائے یا زیادہ سے زیادہ اسے دونوں ملک کےدرمیان ایک ایشو مان کر اسے حل کرنے میں چھ سات دہائیاں مزید گزار دی جائیں اور اس دوران حریت پسندوں کو زیر کرلیاجائے اور اسی پالیسی پر وہ بھرپور طریقہ سے کامیاب انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر ایشو کو انٹرنیشنلائز کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکا۔ پرانہ مسئلہ اور اسے ایک حل طلب شکل میں زندہ رکھنا آسان نہیں۔ آج کا ماحول بننے میںبڑا وقت لگا ہے اور بے پناہ قربانیوں کا مرہون منت ہے۔ مسئلہ کشمیر اور اس سے جڑے مسائل کے حل کیلئے ایک مختصر جنگ کی ضرورت ہے جس کے بعد تمام ممالک سمجھوتہ کرانے دوڑے آئیں گے اورجس دن وہ مرحلہ آگیا، مسئلہ حل ہوجائے گا۔ بھارت نے اگر ہمارا کوئی پائلٹ پکڑا ہوتا تو وہ کبھی اسے اتنی جلدی اور بغیر کسی رعایت کے رہا نہ کرتا۔ حالت جنگ کے حالات میں جیسے کہ ہمارے ہاں موجود ہیں۔ جنگی قیدیوں کو Bargaing Toolsکے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، چند ملکوں کے تعریفی کلمات سے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے پیٹ نہیں بھرے۔ اتنے بڑے خیرسگالی عندیہ کے بعد بھی بھارت کے منہ سے نہیں نکل سکا کہ وہ مملکت پاکستان کا مشکور ہے اور وہ پاکستان کے متعلق بُرے خیالات نہیں رکھتا۔ وہ ہم پر حملہ کے آپشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔کشمیریوں کو بھی اردگرد کے حالات کا اچھی طرح جائزہ لے کر ہی اپنی تحریک کی راہیںمتعین کرنی چاہئیں۔ مقبوضہ علاقہ میں بھارتی ظلم و ستم میں 1965 جیسی جنونی ریاستی ظلم و ستم کی وجوہات نہیں پیدا ہونی چاہئیں اور اگر پاکستان کیلئے یہ ممکنہ منظر تکلیف دہ ہے تو آگے بڑھے اور کچھ کر دکھائے۔ کیونکہ قیادت کو علم ہونا چاہئے کہ ہر روز کچھ کرنے کے ماحول نہیں بن پاتے۔ ایک مذاکراتی ممکنہ حل مشرف،سکندرحیات فارمولا بھی ہے جس وادی کیلئے خود مختاری، جموں بھارت کے پاس اور آزاد کشمیر گلگت پاکستان کے رہنے کی تجاویز پر بات کی جائے۔ اللہ پاکستان کا محافظ اور مہربان رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں