وطن کی مٹی گواہ رہنا : کیپٹن ارجمند یار کھنڈ کی وطن عزیز کے لیے بے مثال قربانی اور جام شہادت نوش کرنے کا ایسا سچا واقعہ جو آپ کا لہو گرما دے گا

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) 15فرنٹئیر فورس رجمنٹ پاکستان کی اعلیٰ ترین جنگجو یونٹوںمیں شمار ہوتی ہے جسے کئی ایک جنگی اعزاز حاصل ہیں۔اس یونٹ کو بذاتِ خود بھی اورپاکستان آرمی کو بھی اس یونٹ کی کارکردگی پر فخر ہے۔مارچ 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے تو تمام فوجی یونٹوںکو بغاوت پر قابو پانے کیلئے

نامور کالم نگار سکندر خان بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک کے طول وعرض میں پھیلادیا گیا۔ان میں15فرنٹئیرفورس بھی شامل تھی۔نومبر71ء میںجب جنگ شروع ہوئی تو اس یونٹ کو جیسور روڈ پر دولت پور قصبے کے نزدیک پوزیشن لینے کا حکم ملا۔ یونٹ نے جو سب سے آگے پوزیشن قائم کی اسے ایک نوجوان کپتان ارجمند یارکھنڈ کمانڈ کررہا تھا۔جنگ کا گواتنازیادہ تجربہ تو نہ تھا لیکن جذبہ ناقابلِ شکست تھااوربلند جذبے ہی میدانِ جنگ میں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔اس محاذ پر پہلا بھارتی حملہ 23نومبر سے شروع ہوا۔سب سے پہلے دشمن نے ہوائی حملے شروع کئے ساتھ ہی مکتی باہنی کے گوریلوں نے کاروائیاں شروع کردیں۔ بھارتی بمبارآتے مرضی سے بمباری کرکے چلے جاتے۔ انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔مقابلہ صرف دشمن کی فوج سے ہی نہ تھا بلکہ مکتی باہنی اس علاقے میں ایک طاقتور فورس تھی اوراسے پاکستان کے سابق باغی بنگالی آفیسرزکمان کررہے تھے جوحملے میں بھارتی فوج کی بھی رہنمائی کر تے تھے۔یہ لوگ علاقے سے بخوبی واقف تھے جبکہ پاکستان فوج کیلئے علاقہ بالکل نیاتھا۔ہر طرف سے دشمن کا خطرہ تھااوردشمن اس انداز سے حملے کررہاتھاکہ یونٹ کیلئے جنگ کرنے کی اعصابی قوت جواب دیئے جائے۔اسے جنگی اصطلاح میں War of Attrition کہا جاتا ہے۔جس کا مطلب ہے کہ دشمن کو بڑے حملے سے پہلے ہی اتنا تھکا دیا جائے کہ وہ مقابلے کے قابل نہ رہے اوریہ صورت کسی بھی اچھی یونٹ کیلئے تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس ایک یونٹ کے مدمقابل بھارت کی تین بڑی کریک بٹالین جنگی پوزیشن میں تھیں اور یہ تھیں4.سکھ بٹالین۔ 8مدراس بٹالین۔اور13ڈوگرہ بٹالین ۔

انہیں مکتی باہنی کے علاوہ ایک ٹینک سکواڈرن اورفیلڈ توپخانہ کی مددبھی حاصل تھی۔کیپٹن ارجمندکی پوزیشن کی دائیں جانب7 پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی نے پوزیشن لے رکھی تھی۔اس محاذ پر 3دسمبر سے مسلسل حملے شروع ہوئے۔ یونٹ نے کئی حملے پسپا کئے لیکن جب دشمن کا پریشر بہت زیادہ بڑھاتو یونٹ نے پیچھے ہٹ کر پوزیشنیں سنبھال لیں۔دشمن کو ایک ایک انچ زمین کیلئے لڑنا پڑا۔ یونٹ13دسمبرتک محاذپرڈٹی رہی۔ 13دسمبرکو بھاریتوں نے پورے بریگیڈ کا حملہ کیاجو پسپا کردیاگیا۔بلآخر تنگ آکر بھارتیوں نے اس یونٹ کوبائی پاس کرکے آگے گزرنے کی کوشش کی جو ناکام بنادی گئی۔ یہ یونٹ15دسمبر تک لڑتی رہی اور باوجود بھارتیوں کے مسلسل پروپیگنڈا اورکوشش کے ہتھیارڈالنے سے انکار کردیا۔ 15دسمبرکو یونٹ کیپٹن ارجمند یارکھنڈکے ساتھ کچھ جوان چھوڑ کر پیچھے نئی پوزیشنوں پرمنتقل ہونا شروع ہوئی۔ جنگ کا سارازوراس نوجوان کپتان اور اس کے جوانوں پر آگیا۔کیپٹن ارجمند نے خود مشین گن پوزیشن سنبھال لی۔ 15دسمبرکو 13ڈوگرہ بٹالین کا شدید حملہ ہوا۔اسکے دائیں طرف 7 پنجاب کا لیفٹیننٹ سالار بیگ اورا نکے جوان شہید ہو گئے۔دشمن کے توپ خانے کا کمانڈنگ آفیسرایک ہیلی کاپٹرپر کیپٹن ارجمند کے مورچوںپر فائر کر ارہاتھا ۔لہٰذا پاکستانیوں نے اس ہیلی کاپٹر کواپنی مشین گن کا نشانہ بنایااور اگلے لمحے ہیلی کاپٹر آگ کا گولہ بن کر زمین پر آرہا۔بھارتی توپ خانے کا کرنل بھی اسی آگ میں جل گیا۔اب تو بھارتیوں نے ہر صورت میں اس پلاٹون کو ختم کرنے کیلئے نیا حملہ شروع کیا۔یہ چھوٹا سا دستہ پوری ڈوگرہ بٹالین کیلئے دیوار بنا ہواتھا۔ 13ڈوگرا بٹالین کا حملہ یونٹ کے سیکنڈ ا ن کمان میجر ٹھاکر نے خود لیڈ کیا۔اس چھوٹے سے دستے نے تقریباًایک گھنٹے تک حملہ روکے رکھا۔

پیچھے سے کسی قسم کی مدد حاصل نہ تھی۔ایک تنہا دستہ کب تک پوری بٹالین کا مقابلہ کر سکتا تھا۔ پیچھے یونٹ کے ہیڈ کوارٹر سے رابطہ مکتی باہنی اورڈوگرا رجمنٹ کی ایک کمپنی نے منقطع کر دیاتھا۔یوں پوری پارٹی گھیرے میں آگئی۔اتنی دیر میںدشمن کے ایک گولے سے کیپٹن کھنڈ کا بایاں بازو کٹ کر نیچے لٹک گیا۔لیکن کیپٹن کھنڈ نے پوزیشن نہ چھوڑی اورنہ ہی ہتھیارڈالنے کا سوچا۔مشین گن کا فائر جاری رکھااوردشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔تمام جوانوں نے لڑ کر موقع پر ہی جام شہادت نوش کیا۔جب میجر ٹھاکرکیپٹن کھنڈ کے مورچے کے پاس پہنچاتو وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے بے ہوش تھا۔میجر ٹھاکر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’جب ہم مورچے کے پاس پہنچے تو ایک نوجوان سپاہی(نوجوان کپتان نے رینک نہیں پہن رکھے تھے) بے ہوشی کی حالت میں اپنی مشین گن پر آگے کی طرف جھکا ہواتھا۔اُسکی انگلی مشین گن کے ٹریگر پر تھی ۔بایاں بازوجسم سے کٹ کر نیچے لٹک رہاتھا جس میں سے مسلسل خون بہہ رہاتھا۔ یہ نوجوان سپاہی اپنا ایمونیشن ختم کر چکاتھا۔ایک گولی تک باقی نہ تھی۔میرے نزدیک پہنچنے پر دھیمی آواز میں پانی مانگا لیکن جب میں پانی لیکر پہنچاتو اسکی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔بعد میں جب اس کے جسم سے اسکی تلاشی لی گئی تو پتہ چلا کہ یہ کیپٹن ارجمند یار کھنڈ تھا‘‘ اِنَّالِلّہِ وَ اِنَّااِلیہِ رَاجِعُونo پاکستان کا یہ دلیر فرزند اور اس کے ساتھیوـںکو میں پوری قوم کی طرف سے سلا م پیش کرتا ہوں۔ایسے فرزند جننے والی مائیں بھی مبارکباد کی مستحق ہیں۔زندگی کے ہر شعبے کی طرح جنگ کے بھی اپنے اصول وضوابط ہوتے ہیںاورفوج کو ان اصول وضوابط کی مکمل تربیت دی جاتی ہے۔ان اصول و ضوابط کی پابندی کامیابی سے ہمکنارکرتی ہے اورجب ان پر عمل نہ کیا جائے تواچھی سے اچھی فوج کا انجام تباہی ہوتا ہے۔یہی کچھ بعض پاکستانی یونٹوں کیساتھ ہوا۔جنگ کا پہلا اصول یہ ہوتاہے کہ ہر یونٹ کو بطور ایک یونٹ اکٹھے لڑایاجاتا ہے اورجب کوئی یونٹ اکٹھی ایک جسم کی طرح جنگ میں حصہ لیتی ہے تو جوانوں کاجذبہ۔ کامریڈشپ اوریونٹ کی عزت وقارمقدم ہوتے ہیں اوریوں یونٹ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں