جنگ تو ٹل گئی مگر پاکستان اور عمران خان کو ایک اور بڑا خطرہ بدستو ر لاحق ہے ۔۔۔۔۔ صف اول کی صحافی کی ایک جاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) برصغیر وہ خطہ ہے جہاں جنگ کے بادل کبھی بھی آ سکتے ہیں۔ موسمی بھی اور بے موسمی بھی۔ سُکھ کا سانس ملا بھی ہے تو خدشہ ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں۔ ایسی بے یقینی میں کوئی بھی خطہ کیا ترقی کر سکتا ہے اور جنتا کو کیسے میٹھی نیند آ سکتی ہے؟

نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عالمی ذرائع ابلاغ حالیہ جنگی ٹریلر پر پھبتیاں کستے ہوئے، کسی بھی واقعہ پر برصغیر میں نیوکلیئر جنگ کے امکان پر مضطرب نظر آتے ہیں۔ 26، 27، 28 فروری کو جنگ کی آگ علاقائی حدود کی خلاف ورزیوں کو پھلانگتے ہوئے جانے کیا سے کیا صورت اختیار کر سکتی تھی۔ اس کا اُنہیں خوب پتہ ہے جن کے ہاتھ بندوق کی لبلبی پہ تھے۔ اب کہ پھر عالمی برادری کی بھرپور مداخلت کام آئی، اپنوں کی بھی اور غیروں کی بھی۔ لیکن کب تک؟ اس بار سرحدیں پھلانگی گئی ہیں، لیکن ایک حد میں رہتے ہوئے۔ دونوں طرف کے سپہ سالاروں کو معلوم تھا کہ وہ کس حد تک وار گیم کھیل سکتے ہیں۔ خاص طور پر جنرل باجوہ اپنی جنگ کو نہ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر مستحکم رہے اور یہی ایک آزمودہ اور سنجیدہ جرنیل کی نشانی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت بھی سیاسی قیادت اور آگ بگولہ ہوئے میڈیا کی انگیخت میں نہیں آئی اور معاملہ سرحدی ٹھوں ٹھاں پہ ٹل گیا۔ جو سوچنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ایک ’’فدائی‘‘ یا گروپ ایک اشتعال انگیز کارروائی سے دو نیوکلیئر طاقتوں کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے، خواہ اُکسانے والا اِدھر ہو یا اُدھر۔ ایسے میں جب کشمیر میں عوامی جذبات بہت بھڑکے ہوئے ہیں اور نوجوان غضبناک غصے میں ہیں تو کبھی بھی اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کشمیر کے سانحہ میں، برصغیر کسی بھی خوفناک المیے کا شکار ہو سکتا ہے۔ کشمیر سیاسی و مذہبی طور پر تقسیم ہو چکا ہے

اور وادی کی مسلم اکثریت کی تقریباً تمام سیاسی جہتیں بھارت کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں، لیکن نہ تو کوئی مرکزی قیادت ہے اور نہ ایک متحدہ تنظیم۔ ایک طرف بھارتی عسکری ستم گری ہے اور دوسری جانب شہری و دیہی آبادی کی بغاوت۔ بھارت کے پاس کوئی حل بچا ہے، نہ پاکستان کے پاس کوئی راستہ۔ یہ نراج کشمیریوں کے لئے سوہانِ روح ہے اور پاک بھارت مناقشے کی ایک مستقل علت۔ برصغیر کے سنجیدہ لوگوں اور طاقتور حلقوں کو اس بارے میں سر جوڑنا ہوگا کہ کیا راہِ نجات ہے؟ جنگی طبل ٹھنڈے پڑے ہیں تو بھارت میں انتخابات کا طبل بج چکا ہے۔ بھارت میں یہ شاذ و نادر ہی ہوا تھا کہ حکمران جماعت اور اس کا وزیراعظم حزبِ اختلاف اور اس کے رہنمائوں کو ’’دیش دروہی‘‘ قرار دے اور مخالفین جنگجو قوم پرست نیتا کی فوجی مہم جوئی کا مذاق اُڑائے۔ یہ تو اب ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ مودی پلوامہ کے خون اور فوج کی نام نہاد کامیابیوں کو اپنی پھیکی انتخابی مہم کو جنگجویانہ تڑکا لگانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے قوم پرستی اور جارحانہ عسکریت پسندی کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تو حزبِ اختلاف اور کانگریس حالیہ جنگی کارکردگی کو مشکوک قرار دے رہی ہے۔ جس پر مودی اپنی سینا کی ناک نیچے پناہ لیتے ہوئے اپوزیشن پر برس رہے ہیں کہ وہ بھارتی فوج کی تذلیل کر رہی ہے اور وہ پاکستان کی زبان بول رہی ہے۔ عین اس وقت انڈین سپریم کورٹ نے

رام جنم بھومی/ بابری مسجد تنازعہ کے حل کے لئے جسٹس خلیف اللہ کی سربراہی میں ایک تین رُکنی مصالحتی کمیشن تشکیل کیا ہے، جس سے کمیونل یعنی مذہبی منافرت کا معاملہ آٹھ ہفتوں کے لئے ٹل تو گیا ہے، لیکن اس پر فرقہ وارانہ قوتیں خوب سیاست چمکائیں گی۔ جب قوم پرستی اور مذہبی منافرت مل جائیں تو سیاست کیا کیا خوفناک صورتیں لے سکتی ہے، اُس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس انتخابی دھینگامشتی میں جو مودی اور اینٹی مودی صورت لے چکی ہے، پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکایا جائے گا اور کوئی پارٹی اس مسئلے پر کوئی ٹھوس مہم نہیں چلائے گی کہ آخر بھارت کی پاکستان اور کشمیر کے بارے میں متبادل پالیسی کیا ہو؟ دوسری طرف سیاسی مخالفین کو ملک دشمن اور غیرمحب وطن قرار دینے کی بیماری تو پاکستان میں زیادہ تھی، وہ تین روزہ قومی اتفاقِ رائے کے بعد پھر سے پوری منفی توانائی سے عود کر آئی ہے۔ اس کا مظاہرہ کیا بھی تو اسد عمر نے جنہوں نے بلاول بھٹو کی تقریر پر بلاوجہ نہایت اشتعال انگیز انداز میں ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے دی گئی سنجیدہ تجاویز کو بیرونی آقائوں کی خوشنودی قرار دیتے ہوئے بھارتی بیانیے کا چربہ قرار دے دیا۔ حالانکہ بلاول کا بھارت بارے بیانیہ نہایت جارحانہ تھا، پھر بھی انہیں نہ بخشا گیا۔ ایسے وقت پہ جب دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گرد تنظیموں کے قلع قمع کے لئے حکومت کو تمام پارلیمانی جماعتوں کو اعتمادمیں لینے کی ضرورت ہے، وزیراعظم اور اُن کے رفقا کو

ایک بڑے قومی مقصد کی خاطر اپنی حسِ اشتعال انگیزی کو قابو میں رکھناچاہیے تھا۔ بلاول بھٹو نے شاید غلط نہیں کہا کہ عمران خان اگر دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنی صفوں سے کالعدم تنظیموں کے حامیوں کو نکال باہر کریں۔ دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی و فرقہ پرستی ایک بڑا مخمصہ ہے۔ جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کی سیاست نے پاکستان کو ایک گھمبیر مسئلے سے دوچار کر دیا۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے المناک قتلِ عام نے قوم کو جھنجھوڑ ڈالا تھا جس پر جنوری 2015 میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اجماع سے ایک متفقہ 20 نکاتی نیشنل ایکشن پروگرام ترتیب پایا تھا۔ ضربِ عضب سے ردّالفساد تک بھرپور فوجی آپریشنز ہوئے۔ لیکن ان سب کے باوجود انتہاپسند کالعدم تنظیمیں برقرار رہیں۔ انہیں بار بار کالعدم کیا جاتا رہا اور وہ نئے نئے ناموں سے میدان میں ڈٹی رہیں۔ اب پھر سے 68 تنظیموں کو کالعدم کیا گیا ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق کریک ڈائون جاری ہے۔ اور پھر بھی مسئلہ اپنی جگہ ہےاور یہ جو نظریاتی قلب ماہیئت تھی اس کا بیڑا کون اُٹھائے کہ اس کو کئی دہائیاں درکار ہیں۔ جو پھندہ دشمن کے لئے تخلیق کیا گیا تھا، کہیں وہ تخلیق کاروں کے گلے کا پھندہ نہ بن کے رہ جائے۔ ضرورت ہے پاکستان کو ہر طرح کی دہشت گردی سے نجات دلائی جائے اور کشمیریوں کو بھی اس تہمت سے کہ اُن کی جدوجہد جمہوری نہیں بلکہ دہشت گردانہ ہے۔ جو آگ لگائی تھی، اُس سے خرمن کو کیسے بچایا جائے۔ جنگ تو ٹل گئی، مگر خطرہ موجود ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں