باہر دیکھیں، جالب ہووے گا، کرایہ منگے گا، اے رکشے والے نوں دے دویں۔۔۔۔۔ نامور کالم نگار نے حبیب جالب اور منو بھائی سےو ابستہ اپنی یادیں قارئین سے شیئر کر ڈالیں

لاہور (ویب ڈیسک) کل جب لاہور میں ایک ویب اخبار نے میرا انٹرویو کرتے ہوئے یہ سوال پوچھا کہ لاہور آ کر میرے احساسات کیا ہوتے ہیں تو میں نے بے ساختہ یہ جملہ کہا کہ لاہور واقعی لاہور ہے۔یہ رسمی جملہ بن گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لاہور کی پرشکوہ، پر تاثیر، متحرک اور تہذیبی عوامل سے رچی بسی زندگی ایک آئینے کے طور پر موجود ہوتی ہے۔ میری ساری زندگی ملتان میں گزری ہے، تعلیم، ملازمت، سوشل و سرکاری مصروفیات، یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اس زندگی میں لاہور کی بو باس بھی اس لئے پورے طور پر موجود ہے کہ 45 برسوں سے لاہور میں جو آنا جانا لگا رہا ہے، اس نے اس شہر سے میرے رومانس کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جو لوگ مستقل لاہور میں رہتے ہیں، وہ شاید اتنے زیادہ اس کے رومانس میں مبتلا نہ ہوں، ان لوگوں کی نسبت جو کچھ وقت کے لئے یہاں آتے ہیں اور اس کی فضاؤں اور ہواؤں کی خوشبو کا ذخیرہ لے کر اپنے اپنے شہروں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ کل ہی میری فلم ڈائریکٹر سید نور سے ملاقات ہوئی، جو میرے بڑے بھائی رائے فاروق کے ساتھ ایک نئی فلم کے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں 1976ء میں جب پہلی بار لاہور آیا تو ملتان روڈ پر لیرک سنیما کے عقب میں فاروق بھائی کی رہائش گاہ تھی، وہ علاقہ بسطامی روڈ کہلاتا ہے۔ اس سے آگے یتیم خانہ چوک ہے۔ اس زمانے میں یتیم خانہ چوک سے آگے ویرانہ تھا اور باری سٹوڈیوز تک کئی میل کا سفر ویگن میں بیٹھ کر اسی ویرانے سے گزرتے ہوئے کرنا پڑتا۔آج یہ حال ہے کہ باری سٹوڈیو سے کئی میل آگے تک لاہور آباد ہو چکا ہے۔ بلکہ اس کا پھیلاؤ چاروں سمت ہے، لاہور کا تقریباً ہر دوسرا شخص اپنا شہر یا علاقہ چھوڑ کر یہاں آباد ہوا ہے۔ اب یہ سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے

لاہور کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اتنی تیزی سے پھیلنے کے باوجود یہ جنگل نہیں بنا، اس میں آج 2019ء میں گھومتے ہوئے بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی تدبیر موجود ہے، کسی منصوبہ بندی کے تحت یہ گنجان آباد ہوا ہے۔ جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں، تب پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور ہی اس شہر کی علمی شناخت ہوتے تھے۔ پنجاب میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں تھیں، اس لئے ماسٹر سطح کی تعلیم کے لئے طلبہ پنجاب یونیورسٹی یا گورنمنٹ کالج میں داخلہ لینے کے لئے لاہور کا رخ کرتے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی 1975ء میں قائم ہوئی۔ لیکن ابتدا میں یہاں محدود تعلیمی شعبے تھے۔ اس لئے لاہور کی طرف جنوبی پنجاب یا ملتان سے طلبہ و طالبات کا رخ جاری رہا۔ آج اگر لاہور کو دیکھیں تو تعلیمی لحاظ سے اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ ہر نوع کی تعلیم کے بیسیوں ادارے موجود ہیں۔ جتنی تعلیمی سہولتیں اس وقت لاہور کے طلبہ و طالبات کو حاصل ہیں، شاید ملک کے کسی شہر میں موجود نہیں اس میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے اور بعض یونیورسٹیاں تو عالمی معیار کو چھو رہی ہیں۔ لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو مجھے آج بھی چالیس سال پہلے والا لاہور بہت یاد آتا ہے۔میں 9 نمبر ویگن پر بیٹھ کر ملتان روڈ سے ریگل چوک پہنچنے کے لئے جی پی او چوک پر اتر جاتااور وہاں سے پیدل ریگل چوک کی طرف جاتا، فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے مال روڈ پر رواں دواں ٹریفک کو دیکھتا، اتنا رش نہیں ہوتا تھا اور

گرمی کی شاموں میں مال روڈ کی ٹھنڈی فضا بہت خوشگوار تاثر چھوڑتی۔ ریگل چوک میں ایک بنچ پڑا ہوتا تھا، میں اس پر بیٹھ جاتا اور لاہور کی زندگی کا نظارہ کرتا۔ سامنے ہال روڈ اور اس سے آگے پینوراما سنٹر کی عمارت کو دیکھتا، مجھے یوں لگتا جیسے لاہور کی زندگی متحرک ہونے کے باوجود ٹھہری ہوئی اور پر سکون ہے آج کا لاہور اس حوالے سے بہت بدل چکا ہے۔ زندگی بہت تیز ہو گئی ہے۔ وہ سکون و اطمینان نظر نہیں آتا جو اس دور کا خاصا تھا۔ تاہم میری یادوں میں وہی لاہور ایک خوشگوار احساس بن کر زندہ ہے۔ میں اکثر ریواز گارڈن اتر کر منو بھائی سے ملنے چلا جاتا۔ آج میں خود کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت کسی کی آمد سے ربط ٹوٹ جاتا ہے اور خواہش ہوتی ہے کہ اس دوران کوئی نہ آئے۔ لیکن میں صبح سویرے منو بھائی کے ہاں جا دھمکتا وہ خود یا ان کے بیٹے کاشف جالی والا دروازہ کھولتے اور مجھے اندر جانے کا پروانہ مل جاتا۔ میں دیکھتا کہ منو بھائی کمرے کے ایک کونے میں پڑی میز پر کالم لکھ رہے ہیں اور میں بیٹھا ہوں، اس دوران کبھی کبھار وہ پوچھ لیتے۔ ’’ہور نسیم کی حال اے۔‘‘ میں کہتا بالکل ٹھیک، وہ کہتے چنگی گل اے، اس کے بعد پھر کالم لکھنے لگ جاتے۔کبھی اس عمل کو ایک گھنٹہ لگ جاتا اور کبھی وہ جلد کام مکمل کر لیتے۔ایک دن اسی دوران دروازے کی بیل بجی تو انہوں نے کہا۔ ’’باہر دیکھیں، جالب ہووے گا، پھر جیب سے بیس روپے نکال کر دیئے اور کہا ’’ کرایہ منگے گا، اے رکشے والے نوں دے دویں‘‘ میں باہر نکلا تو دیکھا حبیب جالب موجود ہیں، مجھے دیکھتے ہی کہا۔

منو بھائی کو بولو جالب آیا ہے، میں نے کہا ہاں انہوں نے مجھے بھیجا ہے اور یہ کرایہ بھی دیا ہے، انہوں نے بیس روپے لے کر رکشے والے کو دیئے اور مجھ سے پہلے اندر داخل ہو گئے۔ تب میں نے دو باتیں نوٹ کیں، پہلی یہ کہ حبیب جالب اور منو بھائی میں گہرا یارانہ ہے اور دوسری یہ کہ حبیب جالب نامساعد حالات کے باوجود جنرل ضیاء الحق سے کوئی سہولت لینے کو تیار نہیں جس شخص کے پاس رکشے کا کرایہ نہ ہو اور دوسری طرف وقت کا حاکم اس کی شاعری سے خوفزدہ ہو، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں مضبوط اور انا پرست کون زیادہ تھا۔ جب ٹاؤن شپ ابھی آباد ہو رہا تھا۔ تو منیر نیازی نے ابتدا ہی میں وہاں اپنا گھر بنا لیا میں اپنے شعری مجموعے ’’ آئینوں کے شہر میں پہلا پتھر‘‘ پر رائے لینے کے لئے ملتان سے لاہور ان کے پاس آیا انہوں نے اپنی بیٹھک میں بٹھایا اور بیٹھتے ہی عجب سوال پوچھا، ’’شاعری کیوں کرتے ہو؟‘‘ اتنا بڑا شاعر اور یہ سوال، میں بھلا کیا جواب دیتا خیر میں نے کہہ دیا۔ ’’آپ سے متاثر ہو کر‘‘ یہ سنتے ہی جلال میں آ گئے، ’’ مجھ سے متاثر ہو کر کیا تم مجھ جیسی شاعری کر سکتے ہو، ایسے خواب نہ دیکھو جو پورے نہ ہوں۔‘‘ میرے ساتھ معروف کالم نگار اظہر سلیم مجوکہ موجود تھے۔ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے میرا مسودہ دیکھے بغیر میز پر پٹخ دیا۔ میں کوئی رائے نہیں دوں گا، جس نوجوان کو اپنی شاعری پر بھروسہ نہ ہو اسے شاعر کیسے مان لوں؟ ہم دونوں نوجوان تھے، خوفزدہ ہو گئے، خاموشی سے مسودہ اٹھایا اور چلے آئے۔ وہاں سے سیدھے منو بھائی کے پاس پہنچے۔ انہیں ساری روداد سنائی، وہ ہنسے اور کہا ’’ تہانوں کس پاگل نے کیا سی اوہدے کول جاؤ، شکر اے بچ کے آ گئے او۔

‘‘ پھر ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ کتاب کے لئے فلیپ لکھ دیں وہ ہماری حالت دیکھ چکے تھے۔ اس لئے پہلے اندر گئے چائے کا کہا اور پھر میرے مسودے کی ورق گردانی کرتے رہے تقریباً نصف گھنٹے بعد انہوں نے لکھنا شروع کیا اور پندرہ منٹ بعد اپنی رائے لکھ کر ہمیں دے دی، جو میرے شعری مجموعے کے بیک ٹائٹل پر موجود ہے۔ اس زمانے میں لاہور آ کر بڑے نام والے ادیبوں شاعروں سے ملاقات کا بہت شوق رہتا، کشور ناہید ماہِ نو کی مدیر تھیں اور حبیب اللہ روڈ پر ان کا دفتر تھا۔ ان کے پاس ضرور ملنے جاتا کیونکہ وہ کوئی نہ کوئی ادبی کام ذمے لگا دیتی تھیں۔ وہ اکثر کہتیں شاعری وائری چھوڑو، نثر اور ترجمے کی طرف آؤ۔ پھر وہ کوئی نہ کوئی انگریزی مضمون یا کسی مغربی نقاد یا افسانہ نگار کا انٹرویو تھما دیتیں کہ اسے ترجمہ کر کے بھیجو۔ اس زمانے میں ماہ نو کے ہر شمارے میں میرا کوئی نہ کوئی ترجمہ موجود ہوتا تھا۔ انہی کے کہنے پر میں نے ژاں پال سارتر کی وجودیت پر مبنی ایک کتاب کا ترجمہ کیا، جو ’’سارتر کے مضامین‘‘ کے نام سے شائع ہوئی اور پہلی بار لوگوں کو اردو میں سارتر کو پڑھنے کا موقع ملا۔ لاہور کی ادبی زندگی کے ساتھ ساتھ آرٹ و کلچر کا حوالہ بھی ہمیشہ پر کشش رہا ہے۔ لاہور کو بجا طور پر فنون لطیفہ کا شہر کہا جاتا ہے۔ کیسے کیسے فنکار اس شہر نے پروان چڑھائے ہیں میں نے حنیف رامے صاحب کو پینٹگز بناتے دیکھا،

وہ اس بات سے بے خبر ہو جاتے کہ کوئی ان کے پاس بیٹھا ہے۔ البتہ جب وہ گفتگو کرتے تو ایک سحر طاری ہو جاتا آج بھی لاہور علم و ادب کا گہوارہ ہے۔ روزانہ مشاعرے ہوتے ہیں، کلچرل پروگرام بھی جاری رہتے ہیں، لیکن رکھ رکھاؤ اور روایات ٹوٹ رہی ہیں، ایک بہت زیادہ تیزی نظر آتی ہے۔ شو آف زیادہ ہو گیا ہے اور معیار اور تہذیبی روایات پر توجہ کم ہو گئی ہے۔ بہر حال یہ بھی موجودہ تیز رفتار اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے دور کا عکس ہے۔ ظاہر ہے لاہور اس کے ساتھ چلے گا پیچھے تو نہیں رہ سکتا۔ ایک بات البتہ پہلے کی طرح موجود ہے، وقت نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اس میں اضافہ ہی کیا ہے وہ بات لاہوریوں کی عادت کام و دہن سے تعلق رکھتی ہے۔ پہلے صرف چوک لکشمی کھانوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج شہر کے ہر کونے میں انواع و اقسام کے ہوٹل ریستوران اور کھابے کھل چکے ہیں کل رات مجھے خواجہ اقبال، ماڈل ٹاؤن میں بھیّا کے کباب کھلانے لے گئے۔ وہاں میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ملتان سوہن حلوے کی طرح بھیا کے نام سے بھی کئی کباب کی دکانیں موجود ہیں اور ہر ایک پر اصلی بھیا کباب لکھا ہوا ہے۔ ملتان کے علاقے قدیر آباد میں آپ جائیں تو ملتانی سوہن حلوے کی درجنوں دکانیں ملیں گی اور ہر دکان پر اصلی ملتانی سوہن حلوہ لکھا دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے۔ ہوٹلنگ کا رجحان لاہوریوں کی تہذیبی زندگی کا بنیادی حوالہ ہے جو نصف صدی میں بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔ لاہور کے بارے میں بہت کچھ لکھنے کو ہے لیکن کالم کی کوتاہ دامنی کے باعث آج یہیں ختم کرتا ہوں اس رومانس کی اگلی قسط پھر کبھی سہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں