تحریک انصاف کے سارے وزراء ایک جیسے نہیں ، ان میں سے یہ صاحب تو اس ملک اور قوم کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ۔۔۔۔ چند روز قبل ایک معروف صحافی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ؟ کینسر میں مبتلا بچوں کے والدین کے کام کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) قارئین! آج کے دن کے لیے ترکِ سیاست کا ارادہ ہے۔ برادرِ متحرم حسن نثار نے گزشتہ روز ٹھیک ہی لکھا کہ ہر روز ہی منحوس سیاست اور مجہول جمہوریت پر لکھتے لکھتے میں اُوب جاتا ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ قارئین نہ اُکتا جاتے ہوں۔

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سو آج تبدیلیٔ آب و ہوا کے لیے اُن سے یکجہتی کا ارادہ ہے۔ آج بات کریں گے انسانیت کی‘ ایثار کی‘ احساس کی اور دوسروں کا درد محسوس کرنے والوں کی۔ ہم سب کے دلوں میں زندہ منو بھائی کے اس کارواں کی‘ جو آج بھی دُکھی انسانیت کا درد بانٹنے کے لیے شہر شہر رواں دواں ہے۔ عادتیں، برتاؤ اور رکھ رکھاؤ یقینا نسلوں کا پتا دیتے ہیں‘ اور نسل ہی بتاتی ہے کہ ”اَصل‘‘ کون ہے؟ یہاں اَصل سے میری مراد خالص اور مخلص ہے۔ اَصل ہی وہ واحد نسل ہے جو معاشرے میں اپنی پہچان اور مقام کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رہتی ہے‘ باقی سب نقل ہی نقل ہے۔ شکل اس کی کوئی بھی ہو۔شہرِ اقتدار کے پولیس سربراہ عامر ذوالفقار نے ہمیشہ خوشگوار حیرت سے دوچار رکھا ہے۔ یہ جہاں بھی گئے ایسی ہی کوئی داستان ضرور چھوڑ آئے۔ گزشتہ روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ سندس فاؤنڈیشن کے بھائیوں جیسے دوست یاسین خان نے فون پر مطلع کیا کہ کل صبح اسلام آباد پولیس سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے اسلام آباد جانا ہے اور منو بھائی کا حکم ہے کہ تمام احباب کی حاضری ناگزیر ہے۔ غیر حاضری کی صورت میں وہ خواب میں آ کر خوب کھچائی کریں گے۔ منو بھائی کا حکم نامہ سننے کے بعد میں نے آئی جی اسلام آباد کو فون کیا‘ اور کہا کہ سنا ہے آپ اور آپ کی فورس تھیلیسمیا اور ہیموفیلیا سے متاثرہ بچوں کو خون کی فراہمی کے لیے سندس فاؤنڈیشن اسلام آباد سینٹر جا رہے ہیں۔

وہ جواباً بولے ”بھائی آپ لوگ تشریف لائیں‘ مجھے معلوم ہے کہ منو بھائی کا کارِ خیر ہے۔ اس میں برکت اور معیاری اضافے کے لیے ہم آپ کے چشمِ براہ ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی سے بھی میں نے درخواست کی ہے کہ وہ سندس فاؤنڈیشن کے بچوں کے لیے سجائی جانے والی اس تقریب میں ضرور شرکت کریں۔ انہوں نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام تر مصروفیات کے باوجود ضرور آئیں گے۔ میں اور وہ سب سے پہلے خون کا تحفہ دے کر باقاعدہ اس مہم کا آغاز کریں گے۔ اس سلسلے میں میری سہیل وڑائچ سے بھی بات ہوئی ہے۔ متاثرہ بچوں کی آسانی، سہولت اور امداد کے لیے میں اور میری فورس ہمہ وقت تیار ہیں اور کبھی مایوس نہیں کریں گے‘‘۔ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ منو بھائی مجھ جیسے خاکسار سمیت سہیل وڑائچ، خالد عباس ڈار، سہیل احمد (عزیزی)، خواجہ سلمان رفیق، زاہد چوہدری، ہمایوں سلیم، عامر مرزا، شہزاد اختر‘ میاں اکرم اور کئی دوسرے احباب کو اپنی زندگی میں ہی پابند کر گئے تھے کہ سندس فاؤنڈیشن کے بچوں کو کبھی مایوس نہ کرنا۔ ان کی آسانی اور بحالیٔ صحت کے لیے جب بھی آواز دی جائے تو لبیک کہنا۔ وہ دن اور آج کا دن تھیلیسمیا، ہیموفیلیا اور خون کے کینسر کے متاثرہ بچوں کے لیے جب بھی‘ اور جہاں بھی جانا ہو ہم سب کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتا۔ رابطے اور کوآرڈینیشن کے حوالے سے یاسین خان کا کردار کچھ اس طرح کا بن گیا ہے‘ گویا منو بھائی نے

ہمارے اُوپر کوئی مانیٹر لگا رکھا ہو۔ وہ خود چین سے بیٹھتا ہے‘ نہ ہم میں سے کسی کو بیٹھنے دیتا ہے۔ بس سب کو جگائے اور بھگائے رکھتا ہے۔ ڈیوٹی ہو سندس فاؤنڈیشن کے بچوں کی تو مزاحمت اور کوتاہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب تک سانس میں سانس اور دَم میں دَم ہے‘ منو بھائی کا یہ کارِ خیر بڑھتا اور چلتا ہی رہے گا۔ پروگرام کے مطابق برادرم سہیل وڑائچ، منو بھائی کے پرانے سیوک خالد عباس ڈار، یاسین خان اور رانا امتیاز کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تو منو بھائی کی یادوں اور باتوں میں پتا ہی نہ چلا کہ کب اسلام آباد ٹول پلازہ آیا اور کب اسلام آباد پہنچ گئے۔ گیٹ پر اسلام آباد پولیس کے افسران اور جوان انتہائی مستعدی اور گرمجوشی سے مہمانوں کی رہنمائی کر رہے تھے جبکہ تھیلیسمیا سے متاثرہ بچوں کی کثیر تعداد اُجلے‘ زرق برق لباس پہنے اور ہاتھوں میں پھول لیے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور آئی جی اسلام آباد کی آمد کے منتظر تھے۔ سندس فاؤنڈیشن کے معاملات اور اخراجات رواں دواں رکھنے میں معاون منو بھائی کے درجنوں کارکن اور پیروکار بھی انتہائی گرمجوشی سے مہمانوں کے استقبال اور خاطر تواضع کے انتظامات میں مصروف تھے۔ سندس فاؤنڈیشن اسلام آباد سینٹر کے سربراہ وائس ایئر مارشل(ر) آفتاب حسین نے ہمیں انتظامات اور شیڈول کے بارے میں آگاہ کیا۔ سارے انتظامات سے اُن کے جذبے، محنت، لگن اور متاثرہ بچوں سے محبت کی جھلک صاف نظر آرہی تھی۔ہمارے پہنچتے ہی آئی جی صاحب اور فوراً بعد آفریدی صاحب آ گئے۔ بچوں نے انہیں خوش آمدید کہا

اور پھول پیش کیے۔ شہریار آفریدی نے وہی پھول اُن بچوں کو پیش کیے‘ انہیں پیار کیا اور سیدھے فاؤنڈیشن کے اُس حصے میں گئے جہاں متاثرہ بچے انتقالِ خون کے عمل سے گزر رہے تھے۔ وزیر داخلہ اور آئی جی نے بچوں کی خیریت دریافت کی اور تحائف پیش کیے۔ انہوں نے سینٹر میں تشخیصی لیبارٹری، بلڈ بینک اور متاثرہ بچوں کو فراہم کی جانے والی دیگر طبی سہولیات کے معیار کو بے حد سراہا۔ تھیلیسمیا سے متاثرہ بچوں سے ملنے کے بعد شہریار آفریدی کی درد مندی اور فکر مندی دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کے سارے وزرا ایک جیسے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: آج سے میں سندس فاؤنڈیشن کا والنٹیئر ہوں‘ ان بچوں کے لیے کام کروں گا۔ پھر شہریار آفریدی اور عامر ذوالفقار سب سے پہلے خون کا عطیہ دینے کے لیے اس حصہ میں جا پہنچے جہاں فاؤنڈیشن کا عملہ تمام تر انتظامات کے ساتھ موجود تھا۔ دونوں اپنے اپنے بیڈ پر لیٹ گئے اور سب سے پہلے خون دے کر بلڈ کولیکشن مہم کا آغاز کیا۔ بعد ازاں اسلام آباد پولیس کے 90 جوانوں نے پہلے مرحلے میں اس کارِ خیر میں شمولیت اختیار کرکے خون کا عطیہ دیا۔ اسلام آباد پولیس کی طرف سے آئی جی اور سندس فاؤنڈیشن کی طرف سے سہیل وڑائچ اور خالد عباس ڈار نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر عامر ذوالفقار نے اپنے ماتحت اعلیٰ افسران و جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کام لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہے اور اس کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں۔ کسی کو خون دے کر اس کی جان بچانا بھی اُسی فرض کی ایک شکل ہے‘

جس کا پابند ہمیں یہ وردی بناتی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا: یہاں آ کر مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ کتنا بڑا کام ہے اور بے شک اﷲ ایسے کاموں کے لیے اپنے مخصوص بندوں کا ہی انتخاب کرتا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ منو بھائی کے اس کارواں کو آگے بڑھانے کے لیے خود بھی لاہور میں واقع سندس کے ہیڈ آفس آئیں گے‘ اور وزیر اعظم سے بھی بات کریں گے کہ ان متاثرہ بچوں کے لیے حکومت کیا آسانیاں اور سہولیات پیدا کر سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے باور کرایا کہ انسان کی تخلیق ”دردِ دل‘‘ کے واسطے ہی کی گئی ہے۔ دوسروں کا درد محسوس کر کے ہی ہم حقیقی معنوں میں انسان کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ خالد عباس ڈار نے منو بھائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”بابے کا فون اکثر آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تو فلاں جگہ کیوں نہیں پہنچا؟ میں تو اسی لیے ہر جگہ بھاگا پھرتا ہوں کہ کہیں بابے کا فون دوبارہ نہ آ جائے‘‘۔ خون کا عطیہ دینے والے جوانوں کو ایک روز کی چھٹی دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے عامر ذوالفقار نے بتایا کہ ایک دوسرے کے کام آنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ ہمارے افسران اور جوان باقاعدگی سے سندس فاؤنڈیشن کے بچوں کے لیے خون کے عطیات دیتے رہیں گے۔ کیا پتا کل ہمیں اپنی فورس میں سے کسی کے لیے خون کی ضرورت پڑ جائے اور یہی عطیہ کیا ہوا خون ہم میں سے کسی کے کام آ جائے۔ ویل ڈن آئی جی اسلام آباد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں