1998 میں میاں نواز شریف نے اپنے ہم زلف کو برما کا سفیر کیوں مقرر کیا تھا ؟ آخر وہ کیا کر نا چاہتے تھے ؟ شریف مافیا کے بچے کھچے حواریوں کو بھی تتر بتر کر دینے والے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انسان کو غلط اعمال کی سزا دنیا ہی میں مل جاتی ہے۔ دینی نقطہ نظر یہ ہے کہ سزا اور جزا کا عمل اگلے جہان ہوگا۔ ہم روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے آئے ہیں کہ بعض بدطینت‘ ظالم اور کرپٹ لوگ اس دنیا میں بڑے پھلتے پھولتے ہیں۔

نامور کالم نگا ر جاوید حفیظ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بہرحال کسی کو سزا کہاں ملے گی اور کسی کو نیک اعمال کا اجر کب‘ کہاں اور کیسے ملے گا اس کا فیصلہ خالقِ کائنات کرتا ہے‘ مخلوق نہیں۔ میاں نواز شریف‘ آصف علی زرداری اور جنرل پرویز مشرف ہمارے ماضی قریب کے حکمران رہے ہیں۔ تینوں متنازع شخصیات ہیں‘ تینوں کو اقتدار سے بے حد محبت تھی‘ اسی وجہ سے ان کی شخصیات میں خود غرضی کی ایک مشترک صفت پائی جاتی ہے۔ اس بات کی وضاحت آگے آئے گی کہ آج کل تینوں کی صحت خاصی خراب ہے۔ تینوں میں سے ایک کو سزا ہو چکی ہے دوسرے دونوںکئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ میں تینوں سے مل چکا ہوں اور ہر ایک کو خوش اخلاق پایا لیکن ان کی خوش اخلاقی آج موضوعِ سخن نہیں۔سب سے پہلے میاں نواز شریف کی بات جو پاکستان کے تیسرے سزا یافتہ وزیراعظم ہیں ۔اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو اور یوسف رضا گیلانی کو بھی سزا ہوئی تھی مگر ان دونوں پر کرپشن کے الزامات نہیں تھے۔ ویسے تو میاں صاحب کی لندن کی جائیداد پہلی مرتبہ 1998ء میں اخبارات کی زینت بنی تھی لیکن زیادہ شور تحریکِ انصاف کے دھرنے میں پڑا اور پھر پانامہ لیکس کی آسمانی بجلی گری۔ یہ بجلی اتنی پاور فل تھی کہ کرپشن کا ایک میگا کیس بن کر ہی رہا اور پھر سب تدبیریں الٹی پڑنے لگیں ۔نہ اسمبلی میں وضاحتیں کام آئیں اور نہ ہی قطری خط۔ شاعر کے لفظوں میں کچھ تصرف کے ساتھ

کرپشن کی بیماری اقتدار لیوا ثابت ہوئی اور جوں جوں دوا کی درد بڑھتا ہی گیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ میاں فیملی کی لندن کی پراپرٹی کا ایم ٹو یعنی اسلام آباد لاہور موٹر وے سے تعلق ہے۔ لندن کے اپارٹمنٹ 1993 ء کے آس پاس خریدے گئے اور موٹر وے بھی انہی برسوں میں بن رہی تھی۔ اس زمانے میں Daewoo کمپنی کے ہیڈ مسٹر کِم وو چنگ تھے۔ غالباً 1991 ء کی بات ہے وزیراعظم نواز شریف جنوبی کوریا سرکاری دورے پر گئے اور وہاں کی اقتصادی ترقی اور شاندار موٹر ویز نے میاں صاحب کو بہت متاثر کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ کوریا کی کمپنی دے وو بہت متحرک اور تجربہ کار ہے۔ میاں صاحب کی ملاقات Kim Woo Chung سے کرائی گئی۔ پاکستان میں دے وو کو موٹر وے بنانے کا ٹھیکہ مل گیا۔ کوریا میں کرپشن اس قدر عام تھی کہ وہاں کے کئی صدر بھی جیل جا چکے ہیں۔ مسٹر کم وو چنگ بھی جیل میں رہے ہیں اور آج کل کوریا سے مفرور ہیں۔ باقی بات میں آپ کے تخیل کی پرواز پر چھوڑ تا ہوں۔ 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے میاں صاحب کی حکومت کرپشن کا الزام لگا کر برطرف کردی۔ 1997ء میں مسلم لیگ نون ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ منتخب ہوئی۔ 1998ء میں وزیراعظم نے جنرل جہانگیر کرامت جیسے شریف النفس انسان سے استعفیٰ لیا۔ ان کی غلطی اگر کوئی تھی تو صرف اتنی کہ وہ نیشنل سکیورٹی کونسل کی تجویز ایک پبلک فورم میں دے بیٹھے تھے۔ 1998ء میں میاں صاحب کا جاہ و جلال دیدنی تھی۔ سپریم کورٹ پر چڑھائی بھی انہی ایام میں ہوئی۔

‘امیر المومنین ‘بننے کا شوق بھی چرایا ‘چوٹی زیریں جا کر صدر فاروق لغاری سے آئین کا آرٹیکل 58 ٹو (B) بھی ختم کرایا گیا۔ میاں صاحب نے تین مرتبہ ثابت کیا ہے کہ انہیں صرف اتنا اقتدار عزیز ہے اور یہ بھی بار بار عیاں ہوا کہ اپنے کام میں خاصے ماٹھے ہیں۔ کارگل کے بارے میں فوج نے دو مرتبہ بریفنگ دی تو موصوف نے ایک سوال بھی نہیں پوچھا۔ سب سوال جنرل مجید ملک مرحوم نے کئے۔ اٹھارہویں ترمیم میں اس لئے خوش خوش شریک ہوئے کہ تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کا بخار چڑھا ہوا تھا۔ جنرل جہانگیر کرامت کی تو چھوٹی سی بات پر چھٹی کرا دی تھی لیکن جنرل مشرف کو کارگل کی غیر ضروری مہم جوئی بھی معاف کر دی ۔برما میں اپنے ہم زلف کو 1998ء میں صرف اس لئے سفیر مقرر کیا کہ وہاں سے چند اور ممالک کواتفاق مل کے شوگر پلانٹ آسانی سے بیچے جا سکتے تھے ۔میاں صاحب Conflict of interestکی اصلاح کو غیر ضروری تصور کرتے ہیں۔ اپنے عہدے سے مالی منفعت حاصل کرنے کو وہ جائز سمجھتے رہے۔ اور اب آتے ہیں زرداری صاحب کی طرف۔ خلقِ خدا عمومی طور پر انہیں بے حد کرپٹ سمجھتی ہے لیکن یہ الزام کبھی ان پر ثابت نہیں ہوا۔ اب انہیں پھر سے اسی قسم کے الزامات کا سامنا ہے مگر جب تک کوئی بات ثابت نہ ہو جائے میں انہیں بری الذمہ ہی سمجھوں گا۔ میں صوبائی خود مختاری کا ہمیشہ سے حامی رہا ہوں۔ مگر اٹھارہویں ترمیم بہت جلد بازی اور راز داری سے کی گئی۔

کیا یہ ضروری نہ تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی پوری سوچ بچار کے بعد لائی جاتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ صوبوں کو اتنے اختیارات اور وسائل دینے سے پہلے وہاں کے افسران کی تربیت بھی کی جاتی ‘ ان کی صلاحیت بھی بڑھائی جاتی۔ صوبوں کو یکدم بہت سے وسائل دے دیئے گئے لیکن اُن کے صحیح استعمال کے طریقے نہیں بتائے گئے۔ نتیجہ ہم نے دیکھ لیا کہ بلوچستان کے ایک صوبائی سیکرٹری کے گھر سے کروڑوں روپے درآمد ہوئے ۔کیا یہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظلم نہیں تھا؟ زرداری صاحب نے سارا کام خاموشی سے رضا ربانی سے کرایا اور جب انہیں صلہ دینے کا وقت آیا تو نظریں پھیر لیں۔ اٹھارہویں ترمیم پاس کراتے وقت زرداری صاحب کے ذہن میں ضرور ہوگا کہ ہم مرکز میں زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔ پیپلز پارٹی سے نہ دہشت گردی پر قابو پایا گیا اور نہ ہی لوڈشیڈنگ کنٹرول میں آئی۔ دیہی سندھ کے علاوہ باقی سارے ملک میں پیپلز پارٹی والوں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں ۔یہ بھی ایک طرح سے مکافات عمل کا مظہر تھا کیونکہ آئینی ترمیم سے مرکزی حکومت مالی طور پر کمزور ہوئی۔ میاں نواز شریف اس پراسرار طریقے سے آئین کی ترمیم میں مکمل شریک تھے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ حسین حقانی جیسے شخص کو امریکہ میں سفیر بنادیا اور پھر اسی کے ذریعے ریمنڈ ڈیوس جیسے سینکڑوں لوگوں کو پاکستان کے ویزے دلوانا کسی صورت حب الوطنی کا مظہر نہ تھا۔ زرداری صاحب سیماب صفت شخصیت ہیں‘ اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کر کے لمبے عرصے کے لئے سین سے غائب ہو جاتے ہیں۔

مجھے ان کے ساتھ 1996ء میں دو شنبے میں دو تین روز گزارنے کا موقع ملا۔ افسوس ہوتا ہے کہ ان کی تب اور اب کی صحت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے۔صدر مشرف نے 2007ء میں اپنے اقتدار کی ڈوبتی ناؤ بچانے کے لئے این آر او کار استہ نکالا مگر وہ تدبیر بھی الٹی پڑ گئی۔ این آر او کرانے کے لئے پیپلز پارٹی نے امریکہ کی سفارش کرائی تھی۔ اس میں سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ ہزاروں فوجداری مقدمات میں ملوث لوگوں کو معاف کر دیا گیا۔ یہ ایک گناہ کبیرہ تھا۔ عذر یہ پیش کیا گیا کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنے تھے۔ ہر فوجداری کیس میں مدعی ریاست ہوتی ہے ‘لگ یوں رہا تھا کہ ریاست پاکستان اپنے گناہ کا اقرار کر رہی ہے۔ بعد میں جنرل مشرف نے متعدد بار اس بات کا اقرار کیا کہ این آر او بہت بڑی غلطی تھی۔میں نے کارگل کے بارے میں نسیم زہرا کی کتاب پچھلے دنوں دیکھی ہے۔ وزیراعظم کو کارگل کے بارے میں بریفنگ وقوعے کے بعد دی گئی اور وہ بھی ادھوری۔ اور اپنے میاں صاحب بریفنگ کے بارے میں سوال کرنے سے قاصر رہے‘ البتہ شنید ہے کہ سینڈوچ انہیں بہت پسند آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم مہاتیر یا طیب اردوان کے پائے کا کوئی لیڈر پیدا نہیں کر سکے۔ جنرل مشرف نے تو جکارتہ میں سفارت خانے کی شاندار عمارتیں بیچنے والے سفیر سے بھی کچھ نہیں پوچھا۔ ان تینوں لیڈروں نے حب الوطنی اور ایمانداری کی بجائے خود غرضی کو شعار بنایا۔ کیا تینوں کی گرتی ہوئی صحت مکافاتِ عمل ہے ؟کیا انہیں عوام کی آہیں لگ گئی ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں