این آر او کی تلاش….؟ عام آدمی…….. ذوالفقار احمد راحت

عام آدمی…….. ذوالفقار احمد راحت
این آر او کی تلاش….؟
جمہوریت کو بچانے کے لئے ملک و قوم کے غم اور دکھ درد میں نڈھال نوجوان قیادت مریم نواز شریف اور بلال بھٹو زرداری نے افطار ڈنر پر ملاقات کر کے نئے ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کی بنیاد رکھنے کا عزم کیا ہے۔ عشائیہ کی اس تقریب میں قبلہ فضل الرحمن، میر حاصل بزنجو، اے این پی کے وفد سمیت جماعت اسلامی کی قیادت بھی موجود تھی۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز شریف کے دائیں بائیں فرحت اللہ بابر، پرویز رشید اور رضا ربانی جیسے نظریاتی لیڈران بھی ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ یہ مناظر دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ واقعی ”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“۔ کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دشمن کل کے دوست بننے کے لئے ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے۔ ایک وقت تھا پرانے روایتی لوگ دوست سے دشمن بننے کے لئے سالہا سال کا وقت لیتے تھے اور اسی طرح دشمن کو دوست بناتے بھی بہت سوچتے تھے مگر آج کل کی نوجوان نسل کچھ زیادہ ہی سپیڈ سے چلتی ہے۔ ماضی میں دوست تو دور کی بات لوگ دشمن بھی خاندانی تلاش کرتے تھے۔ آجکل بس سب کچھ ڈیجیٹلائز ہو گیا ہے، وٹس اپ کے ایک ایس ایم ایس پر دوستی اور دوسرے پر دشمنی شروع ہو جاتی ہے! خیر بات ہو رہی تھی بلاول بھٹو کے افطار ڈنر کی جس میں شامل ہونے والے بزنجو صاحب کے والد اور بلاول بھٹو کے نانا مرحوم نے ایک دوسرے کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا تھا، اسی طرح قبلہ مولانا فضل الرحمن کے والد محترم مفتی محمود بلاول کے نانا زیڈ۔ اے بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک کے سربراہ تھے۔ اے این پی کے ولی خاں کے بھی زیڈ۔ اے بھٹو سے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے مگر کیا کیا جائے قوم ان عظیم رہنماﺅں کی عظمت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ تو قوم اور ملک کے عظیم تر مفاد کے پیش نظر اپنی ذاتی لڑائیاں، نفرتیں سب کچھ بھلا کر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نے تو جمہوریت کو بچانے کیلئے ذاتی لڑائیوں اور انا کو قربان کر کے ”عظیم ترین“ مثال قائم کر دی ہے۔ ایک طرف یہ تمام رہنما جن کو پی ٹی آئی سیاسی بے روزگار اور کرپٹ ٹولہ قرار دے رہی ہے، حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں مگر دوسری جانب میاں نواز شریف 6 ہفتے تک بیماری کے نام پر عدالتی ریلیف کے بعد خاموش ریلی نکال کر کوٹ لکھپت جیل میں ایک بار پھر قیام پذیر ہو گئے ہیں جہاں سے اب بھی پیغام رسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا کارڈ استعمال کر کے دباﺅ بڑھایا جا رہا ہے دوسری طرف سیاسی، غیر سیاسی اور غیرملکی افراد صبح و شام این آر او کے لئے رابطے کر رہے ہیں۔ اسی حوالے سے تمام تر تفصیلات عمران خان اور انکے دو قریبی دوستوں کے موبائل میں موجود ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عمران خان کی طرف سے نواز شریف کو کسی قسم کا ریلیف تو شاید نہ ملے البتہ این آر او یا معافی تلافی کے لئے رابطوں کی تفصیلات ضرور پبلک ہو سکتی ہیں۔
افطار ڈنر کے بعد شریف خاندان میں بھی صورتحال خاصی دلچسپی ہو گئی ہے۔ مریم نواز کے متحرک ہونے کے ساتھ ہی حمزہ شہباز اور شہباز شریف کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ اب حمزہ شہباز اور شہباز شریف اور انکی فیملی کو تکالیف کی بجائے ریلیف دینے کے فارمولے پر غور شروع ہو گیا ہے مگر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو کتنے ریلیف کی ضرورت ہے اس کا فیصلہ بھی وہ خود کریں گے۔ آپشن موجود ہے، پیغام پہنچ چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت مخالف تحریک میں حمزہ شہباز شریف کا کردار انکے خاندان کے لئے ریلیف یا تکلیف کا حتمی فیصلہ کریگا۔ میاں نواز شریف کی رائے ونڈ سے کوٹ لکھپت تک خاموش ریلی اور اب جیل سے رابطوں کا معاملہ بھی بالکل سادہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ میرے ساتھ جو ہو گیا اس پر خاموشی ہو سکتی ہے مگر مریم نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر سودے بازی نہیں ہو سکتی، مریم نواز کے روشن سیاسی مستقبل کی ضمانت دینے کی بات بھی چل رہی ہے البتہ پیسوں کی واپسی سمیت دیگر معاملات جو پورا پیکیج ہے اس کو فائنل کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے۔ حالات و واقعات سے باخبر حضرات کا خیال ہے کہ عید اور بجٹ کے بعد حکومت مخالف تحریک یا تو کسی مک مکا کے نتیجہ میں روک دی جائیگی یا پھر اگر پیکیج طے نہ ہونے کی صورت میں چلتی ہے تو پھر نتیجہ خیز نہیں ہو گی کیونکہ پاکستان میں آج تک کی سیاسی تاریخ کے مطابق کوئی بھی سیاسی تحریک کامیاب نہیں ہوئی جب تک اس کو کامیاب کرنے والی قوتیں سپورٹ نہ کریں۔ آج تمام تر مشکلات اور معاشی کرائسز کے باوجود وہ قوتیں عمران خان اور انکی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں جو نہ صرف عمران خان کے ایجنڈے کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں بلکہ کپتان کے ساتھ یہ پارٹنرشپ آگے چلانے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں اور یہ پارٹنرشپ اس لئے بھی آگے چلنے کا امکان ہے کہ اس میں پچ پر بیٹنگ کرنے والا ہر لحاظ سے ایک پاپولر کھلاڑی ہے۔ اس پاپولر کھلاڑی کی تمام غلطیوں حتیٰ کہ بار بار ایل بی ڈبلیو اور کیچ کیچ کی اپیلوں پر بھی امپائر آﺅٹ دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس میں ویسے ہمارے بولنگ اور فیلڈنگ کروانے والے دوستوں کی ناراضگی بھی نہیں بنتی کیونکہ آج تک ہمارے ہاں کبھی کوئی کھلاڑی امپائر کے بغیر چند گیندوں کے سامنے بھی نہیں ٹک سکا …. لہٰذا آج جو دوست فیلڈنگ کر رہے ہیں وہ بھی دراصل بیٹنگ کی باری مانگ رہے ہیں۔ یہی ناراضگی ہے…. یہی لڑائی ہے! کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے علم میں ہو گا کہ عمران خان اور میاں نواز شریف کی لڑائیوں کا آغاز بھی کرکٹ کے میدان سے ہی ہوا تھا۔ اس وقت عمران خان کا سب سے بڑا گلہ یہ ہوتا تھا کہ نواز شریف امپائر کے ساتھ ملکر کھیلتا ہے اور آج نواز شریف کو گلہ ہے کہ عمران خان امپائر کے ساتھ مل چکا ہے…. اور اگر یہ بات واقعی سچ ہے کہ عمران خان امپائر سے ملا ہوا ہے تو عمران خان ملنے ملانے کے معاملے میں بھی نواز شریف سے کئی سال پیچھے ہے۔ اس لئے عمران خان نے ابھی چوکے چھکے لگانے ہیں اور میچ کو ٹی ٹونٹی ٹونٹی کی طرح نہیں بلکہ ٹیسٹ میچ کی طرح کھیلنا ہو گا اور کھلاڑیوں کی اہلیت اور صلاحیت کو ساتھ ساتھ پرکھنا ہو گا ورنہ امپائر کی تمام تر شفقت اور ہوم گراﺅنڈ پر تماشائیوں کی مکمل سپورٹ کے باوجود بڑے بڑے کپتان میچ ہار بھی جایا کرتے ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں