ابھی ویڈیو سامنے نہ لاؤ ورنہ۔۔۔۔۔ (ن) لیگ کے متعدد سینیئر رہنماؤں نے مریم نواز کو کیا مشورہ دیا تھا اور اس پر عمل نہ کرنے کا انہیں کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ؟ مظہر عباس کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) احتساب کےعمل‘ کو کون متنازع بنارہاہے اور کیوں؟ حکومت پی ایم ایل(ن) کی نائب صدرمریم نوازکی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی جاری کردہ ویڈیوکی تحقیقات اور فرانزک کرانے کااعلان کرچکی ہےتو ایسااُس وقت کیوں نہیں کیاگیا جب نیب چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی ویڈیو ایک ٹی وی چینل نے

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیک کی تھی پی ایم ایل(ن) کی اعلیٰ قیادت نےپارٹ ون جاری کرنے سے پہلے تمام مبینہ ویڈیوز کاجائزہ لیاہوگااورقانونی راستوں کےساتھ ساتھ ممکنہ نتائج پر بھی غورکیاہوگا۔ جاوید اقبال اور ارشد ملک دونوں نے الزامات سے انکارکیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں حتیٰ کہ پیمرانے ایک بار پھراُن ٹی وی چینل کو نوٹسزجاری کیے ہیں، جنھوں نےارشد ملک کی ویڈیو نشر کی۔ جاوید اقبال کےکیس میں ایک چینل کو 10لاکھ روپے جرمانہ کیاگیاتھا۔ کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت مخالف مہم تیز کردی ہے اور 25جولائی کو الیکشن 2018 کو ایک سال مکمل ہونے پریومِ سیاہ منانےکااعلان کیاہے۔ مریم نےنہ صرف اپنی سیاسی قسمت دائو پر لگادی ہے بلکہ پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ کی بھی جس میں پی ایم ایل(ن) کے صدر شہباز شریف بھی شامل ہیں جنھوں نے بظاہر اُن کے خیالات کی توثیق کی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پریس کانفرنس میں ویڈیو جاری کرنے کافیصلہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مشاورت کے بعد کیاگیا جبکہ کچھ پارٹی رہنمائوں نے قبل ازوقت ویڈیو جاری کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور انھیں ممکنہ نتائج کے بارے میں خبرداربھی کیا۔ جاوید اقبال، جنھوں نے کالم نگار کے خلاف کوئی قانونی راستہ اختیارنہیں کیاتھااور وہ تاحال اپنے انٹرویو پرقائم ہیں،ان کےبرعکس جج ارشد ملک نے نہ صرف معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایک خط لکھنے کافیصلہ بھی کیاہے۔ تاہم ارشدملک کےپی ایم ایل(ن)اورسابق وزیراعظم نواز شریف پراپنےحق میں فیصلہ لینےکیلئےرشوت کی پشکش کرنےاورسنجیدہ

نوعیت کی دھمکیاں دینےکےالزامات کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہےاوراس سےچندسوالات بھی جنم لیتےہیں۔ کچھ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے ارشد ملک تک رسائی حاصل کی تو انھوں نے اس وقت کیوں ان کے خلاف کارروئی نہیں کی۔ انھوں نےاپنی زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق اتھارٹیز کو کیوں نہیں بتایا۔ مریم نواز اور پی ایم ایل(ن) نے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا کہ کیا وہ اس ویڈیو کو جمع کرائیں گے یا نہیں لیکن انھوں نےاسےجاری کرنےسے قبل شریف خاندان کے اہم وکیل خواجہ حارث سے قانونی رائے ضرور لی ہوگی۔ لہذا ایک بات یقینی ہے کہ یہ معاملہ جلدی سے ختم نہیں ہوگا۔ یاتواس کافیصلہ شریف اور مریم کی اپنی سزاکےخلاف اپیلوں سے قبل ہوگایا اپیل کے دوران ہی ہوجائےگا۔ ’نواز کی رہائی‘ کیلئےمریم نے اپنی مہم شروع کردی ہے اور منڈی بہاالدین میں عوامی جلسہ بھی کیاجس میں اعلان کیاکہ جج کی ویڈیو کےبعد نواز کے خلاف ان کا فیصلہ کالعدم قراردیاجاناچاہیئے۔ پی ٹی آئی حکومت اس حوالےسے فیصلہ کرچکی ہےکہ ارشد ملک کوبچاناہےاور وزیرِ قانون اوروزیرِ اطلاعات دونوں نےمریم نواز اور پی ایم ایل(ن) کی قیادت کوثابت نہ کرنےکی صورت میں نتائج سےخبردارکیاہے۔ لیکن نیشنل اکائونٹیبلیٹی پر وزیراعظم کے ساتھی شاہزیب اکبر نےاپنی میڈیا سےگفتگومیں درمیانی راستہ اختیارکیاہے۔ جب انھوں نے ویڈیو کےمواد پر شکوک کااظہار کیااور تجویز دی کہ مریم کو عوامی راستے کی بجائے عدالتی راستہ اختیارکرناچاہیئےتھا۔ ان کا ماننا ہے کہ جج کو بھی خود کو صاف کرنا چاہیئے۔ ایک ٹی وی ٹاک شومیں انھوں نے کہا،’’ اگر میں ان کی جگہ ہوتاتوجب تک میں خودکوصاف نہ کرالیتاتب تک اپناکام روک دیتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں میں جوکچھ ہوااس سے احتساب کے عمل پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ یہ سب چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کےمعروف کالم نگارکےساتھ انٹرویوسےشروع ہواتھا۔ اپنے یکے بعد دیگرے دو کالموں میں انھوں نے نیب سربراہ کے ساتھ اپنی ملاقات سے پردہ اٹھایاتھا جو ان کے مطابق ’آن دی ریکارڈ‘ اور آف دی ریکارڈ‘ دونوں ہی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں