اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک نہیں ہیں ، ہم خود کو فریب دے رہے ہیں اور ہماری حالت یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ نے قوم اور حکمرانوں کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں بھارتی دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کشمیریوں پر جو مظالم بھارتی درندوں کی جانب سے ڈھائے جارہے ہیں اُس کے نتائج بھارت کو اللہ جانے کب بھگتنا پڑیں گے؟ کشمیری مسلمان اس وقت سخت آزمائش سے دوچار ہیں، ایک طرف اُنہیں بھارتی دہشت گردی کا سامنا

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ ہے، دوسری طرف میری نظر میں مسلم دنیا کی اِن مظالم پر مسلسل خاموشی، یا صرف بیانات کی حدتک مذمت کشمیریوں پر اُس طرح دہشت گردی ہی کے زمرے میں آتا ہے جیسی دہشت گردی بھارت کررہا ہے، یہ درست ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں جارحانہ کردار ادا کرناچاہیے ، صرف مذمتی بیانات سے یا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے اور وہاں اپنے اپنے گندے کپڑے دھونے سے بھارت کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ مگر سالہا سال سے کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں جن کی اب اخیر ہوگئی ہے، یا ہندوستان ماورائے قانون وانسانیت جو اقدامات مقبوضہ کشمیر میںکررہا ہے اُس کے خلاف جارحانہ کردار کی توقع صرف پاکستان سے ہی نہیں کی جانی چاہیے، یہ مسلمانیت کا مسئلہ ہے جس کے لیے پوری مسلم اُمہ کو اکٹھا ہوکر کوئی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے، اور یہ صرف ”مسلمانیت“ کا معاملہ نہیں ہے، یہ ”انسانیت“ کا معاملہ ہے، میں حیران ہوں ہر معاملے میں ”انسانیت“ کوپیش نظر رکھنے والی ”گوری دنیا“ کو کیا ہوگیا ہے کہ کشمیر میں جو ستم ڈھائے جارہے ہیں، اُس پر اُن کی انسانیت بھی خواب خرگوش کے مزے لُوٹ رہی ہے، گوری دنیا کے بارے میں، میں نے کئی بار لکھا ”وہاں انسان کی جان کی بھی اُتنی ہی اہمیت ہے جتنی حیوان کی جان کی ہے۔ اب بھارتی مظالم کے نتیجے میں جومسلمان مقبوضہ کشمیر میں روزانہ شہید ہورہے ہیں اُس پر گوری دنیا کا کردار بھی ایسا ہی”کھسرانہ“ ہے جیسا کھسرانہ کردار

ہماری مسلم اُمہ کا ہے، سو اِن حالات میں کشمیریوں کا فی الحال کوئی پُرسان حال نہیں ہے، اللہ ہی ہے جو اُن کی مدد کرے۔ انسان اور مسلمان تو شاید اِس قابل ہی نہیں رہے عملی طورپر اُن کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور آگے بڑھ کر بھارتی درندگی کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیں۔…. جہاں تک اِس معاملے میں پاکستان کے کردار کا تعلق ہے میں افسوس کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں اِس معاملے میں جو پیغام کوئی عملی کردار ادا کرکے دنیا یا بھارت کو ہمیں دینا چاہیے تھا اُس سے اب تک ہم قاصر ہیں، ہمارے حکمرانوں کا رویہ اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں اِس لیے زیادہ قابل ِ مذمت ہے کہ یہ فرض حکومت کا ہوتا ہے یاجمہوری حکومتوں میں وزیراعظم کا ہوتا ہے جب قومی معاملات خطرناک موڑ پر آن پہنچیں یا ملک کی سالمیت کو خطرہ ہو تو ہرقسم کے ذاتی وسیاسی اختلافات بُھلا کر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے، اور ایک ”ہجوم“ کو کچھ دنوں کے لیے پھر سے ایک ”قوم“ بنانے کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے۔ جمہوری ذہن رکھنے والے حکمران چاہے کتنے ہی انتقام پسند کیوں نہ ہوں ملکی سالمیت کو جب بھی خطرہ ہوتا ہے وہ اپوزیشن رہنماﺅں سے خود رابطے کرتے ہیں، اُن سے مشاورت کرتے ہیں، سب مل کر ایک مو¿قف اپناتے ہیں جس سے دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی معاملات میں لوگوں کے ایک دوسرے سے اختلافات ہوسکتے ہیں قومیمعاملات میں سب ایک ہی پرچم

کے نیچے کھڑے ہیں،” اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں“…. اِس ملی نغمے کی جتنی بے حرمتی اب ہورہی ہے شاید ہی اِس سے قبل ہوئی ہوگی، کشمیر کو ہم اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں، ہماری شہ رگ تقریباً کٹ چکی اور ہم عملی طورپر اتنی مزاحمت بھی نہیں کررہے کہ ہماری یہ ساکھ ہی بچ جائے ہم بڑے بہادر، غیور اور حق کے لیے مرمٹنے والے لوگ ہیں ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی نظریں پاکستان کے کردار کی طرف اُٹھی ہوئی ہیں پاکستان میں حکمران اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں مِل ملا کر جو تماشے کررہی ہیں اُس سے دنیا کو یہ سمجھنے میں ذرا دِقت کا سامنا نہیں ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں کا اظہارِ یک جہتی محض دیکھاوے کا ہے، اِس ضمن میں اِس ملک کی ”اصل قوتوں“ کا کردار بھی فی الحال غائبانہ ہے، اُن کی خصوصی کاوشوں اور کوششوں سے پاکستان کے نام نہاد سیاسی و جمہوری حکمران اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے اُلجھے رہنے کے بدترین مقام پر آن کھڑی ہوئی ہیں، لہٰذا اب یہ ”اصل قوتیں“ خود بھی چاہیں قومی معاملات میں اِن سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے سے شاید قاصر ہی رہیںگی، یہ آگ اصل میں اُنہی کی لگائی ہوئی ہے جس میں پورا مُلک اِس وقت جلتا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بُلا کر گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑی گئی ہے یوں محسوس ہورہا تھا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نہیں، یا اُن کی

مدد کے لیے پاکستان کے کسی ٹھوس اور عملی کردار واضح کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات لگانے، ایک دوسرے کو گندہ بلکہ مزید گندہ کرنے، ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں اور دھمکیاں دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر اپنی طرف سے بڑی زبردست تقریر کی، مگر یہ تقریر ایک سچے مسلمان اور سچے پاکستانی کی نہیں تھی، اُنہوں نے مشکل کی اِس گھڑی میں عملی طورپر کشمیریوں کی مدد کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں دیا، دوسری طرف اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی اِس ضمن میں روایتی گندی سیاست کا مظاہرہ ہی کرتی رہیں، وزیراعظم عمران خان پر ایسی الزام تراشی کررہی تھیں جس کا فائدہ بھارت کو تو ہوسکتا ہے، کشمیریوں اور پاکستان کو ہرگز نہیں ہوسکتا، کبھی کبھی میرے اس تکلیف دہ احساس کی شدت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کہ جو کچھ پاکستان کے حکمران اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں کررہی ہیں وہ اصل میں بھارت کو غیر دانستہ طورپر فائدہ پہنچانے ہی کی ایک کوشش ہے، …. البتہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتہائی دلیرانہ مو¿قف اپنانے پر میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کو خراج تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا، اُنہوں نے اپوزیشن کی طرف اشارہ کرکے اُنہیں بالکل ٹھیک شرمندہ کیا کہ جب وزیراعظم نے اُن کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ بتائیں کیا میں بھارت پر حملہ کردوں؟“ تو اپوزیشن لیڈر کو کھسیانہ سا یا کھسرانہ سا جواب دینے کے بجائے دوٹوک اور واضح انداز میں کہنا چاہیے تھا ”قدم بڑھاﺅ وزیراعظم ہم تمہارے ساتھ ہیں“ …. جو زبردست تقریر فواد چوہدری نے کی ایسی تقریر کی توقع ہم اپنے وزیراعظم سے کررہے تھے، چلیں یہ دلیری اُنہی کے ایک وزیر نے دیکھا دی توہم اسے اُنہی کی دلیری سمجھیں گے، مگر عملی دلیری دکھانے کے لیے اور طرح کے اقدامات کرنا پڑیں گے، ایسے اقدامات جو اُن کی شہرت یا خصوصیات کے مطابق ہوں، تاریخ اُنہیں کن الفاظ سے یاد کرے؟ یا تاریخ میں اُنہیں کس کردار کے ساتھ زندہ رہنا ہے؟اِس کا فیصلہ اُنہیں خود کرنا ہے اور جلدی کرنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں