پیسے کی کارستانیاں اور سینیٹ کا دنگل : واضح اکثریت کے باوجود اپوزیشن اتحاد کیسے ہار گیا ؟ کالم نگار مظہر عباس نے ایک اور کہانی سامنے رکھ دی

لاہور (ویب ڈیسک) الزام کے لئے اِدھر اُدھر دیکھنے کی ضرورت نہیں بس اپنا اپنا گریباں چاک کریں، جواب مل جائے گا۔ منڈیوں میں یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ آپ بکنے والے بنیں خریدار تو مل ہی جاتا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات سے لے کر چیئرمین سینیٹ کے منتخب ہونے تک اور

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی شکست تک، سیاستدانوں نے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اسے بے توقیر ہی کیا۔ بقول جون ایلیا ۔۔۔۔ کہیں باہر سے نہیں گھر سے اٹھا ہے فتنہ ۔۔۔ شہر میں اپنے ہی دفتر سے اٹھا ہے فتنہ۔۔۔ جناب آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، جناب شہباز شریف اور اپوزیشن جماعتوں کے دیگر قائدین سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ سینیٹ الیکشن کی منڈی اسی دن سے لگ جاتی ہے جس دن سینیٹرز کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ کیا یہ منڈی چند سال پہلے نہیں لگی۔ خود پاکستان تحریک انصاف بھی اس کا شکار ہوئی اور اسے نوٹس لینا پڑا۔ سندھ میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے اراکین جن میں سے کچھ پاک سرزمین پارٹی میں چلے گئے تھے، ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ کس ڈھٹائی سے سودے بازی ہوئی تھی۔ کیا ہم بھول گئے کہ90کی دہائی میں راتوں رات پوری پنجاب اسمبلی ایک جماعت سے دوسری طرف چلی گئی۔ کیا1989میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں کیسے بھائو لگے تھے اور کیسے لوگ بکے تھے۔ لہٰذا صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی نے ان 14سینیٹروں کے لئے ’’بونس‘‘ کا کام کیا جن میں سے شاید کچھ مارچ 2021میں ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔ اب انہیں دوبارہ منتخب ہونے کے لئے کچھ تو کرنا ہی تھا اس لئے انہوں نے دو تین گھنٹے کے لئے ضمیر تبدیل کر لیا۔ ذرا تصور کریں ابھی قرارداد پیش ہوئی تو اپوزیشن کے 64اراکین کھڑے ہوئے اور

صادق سنجرانی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ خفیہ رائے شماری ہوئی تو 14ضمیر بیٹھ گئے یا یوں کہیں کہ سو گئے۔ ویسے تو پاکستان کی سیاست میں اصول، ضمیر نام کی کوئی چیز کم ہی ہوتی ہے مگر یہ اکثر خفیہ رائے شماری میں جاگ جاتا ہے یا کام آ جاتا ہے۔ صادق سنجرانی خوش قسمت آدمی ہیں، ہار کر بھی جیت گئے۔ ووٹ تو انہیں میر حاصل بزنجو کے مقابلے میں کم پڑے مگر عدم اعتماد کی تحریک کے 53ووٹ درکار تھے جو خفیہ رائے شماری کا شکار ہو گئے۔ اب سنجرانی صاحب کو ایک سال نہیں لمبی مدت رہنا ہے کیونکہ مارچ2021 کے بعد تو ویسے ہی تحریک انصاف اور اتحادیوں کی اکثریت ہوگی بلکہ دو تہائی ہوگی کیونکہ سندھ کے علاوہ انہیں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے ساتھ مرکز میں بھی اپنے سینیٹرز منتخب کرانے میں مشکل نہیں ہوگی۔ منڈی تو بہرحال پھر بھی لگے گی۔ بااصول سیاستدانوں کے لئے جو اپوزیشن میں ہوں یا حکمراں جماعت میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وفاداریاں تبدیل کر کے ایک جماعت سے دوسری جماعت کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں۔ سنجرانی صاحب جس طریقے سے پہلی بار آئے تھے کم و بیش ویسے ہی اب ٹھہر گئے ہیں۔ جو لوگ آصف زرداری صاحب کی سیاست پر Phdکریں گے وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ایک صوبہ تک کیسے محدود ہو گئی۔ وہ یہ بھی دیکھیں گے کہ وہ کون سے سیاسی اصول تھے جس کی بنیاد پر پارٹی کے سینئر اور بااصول اور سینیٹ کے وقار کو بلند کرنے والے رضا ربانی کی جگہ صادق سنجرانی کو

چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسے تو بڑی مشکل سے سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا، تو سنجرانی سے شکایت بنتی نہیں ہے۔ میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہم نے انتخابات میں چاہے وہ قومی اسمبلی کے ہوں یا صوبائی اسمبلی کے یا سینیٹ کے اصل خرابی کی جڑ ’’ٹکٹ‘‘ دینے سے شروع ہوتی ہے جس کی بنیاد بہرحال پارٹی کی خدمت نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے یہ بات سارے اراکین کے بارے میں نہیں مگر وہ لوگ جو وفاداریاں تبدیل کر کے آتے ہیں ان میں سے بیشتر سودے بازی کرتے ہیں، انہیں ٹکٹ بھی مل جاتا ہے اور جماعت جیت جائے تو وزارت بھی۔ بحیثیت صحافی میں یہ سلسلہ 1985سے دیکھتا آ رہا ہوں۔ قربانی دینے والا اکثر قربانی کا بکرا بن جاتا ہے یا منڈی میں بیچ دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا سیاسی کلچر زوال پذیر ہے۔ خریدار منڈی کا رخ اسی وقت کرتا ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ بکنے والا مال موجود ہے۔ تبدیلی کا مینڈیٹ تو عمران خان صاحب کے پاس ہے اگر اپوزیشن کسی کو تبدیل کرانا چاہے گی تو اسے خان صاحب کی وکٹ پر جانا پڑے گا اور اپنی وکٹ پر تو خان خاصا مضبوط نظر آتا ہے۔یہ تجربہ اپوزیشن کے لئے سبق آموز ہے۔ اتنی واضح اکثریت کے باوجود شکست نے بڑے سوالات اٹھا دیئے ہیں مگر تلاش گھر سے شروع کریں۔ ویسے بھی الزام لگانے سے پہلے یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ سب کیسے ہوا۔ اگر اردگرد بکائو مال رکھا ہوا ہے تو وہ تو صرف سوداگر کی تلاش میں رہے گا۔ نظریاتی یا اصول پسند لوگ ساتھ ہوں گے تو وہ تختہ دار پر بھی چڑھ جاتے ہیں مگر ضمیر کا سودا نہیں کرتے۔ بہرحال سنجرانی صاحب مبارک ہو۔ آپ واقعی سینیٹ کی تاریخ کے ایک منفرد چیئرمین ہیں جن کا منتخب ہونا بھی سرپرائز تھا اور اقلیت میں ہوتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک کو شکست دینا بھی حیران کن رہا۔ اپوزیشن 2021کی تیاری کرے اور آئندہ ٹکٹ دیتے وقت باضمیر لوگوں کو ٹکٹ دے ورنہ خفیہ رائے شماری کے نتائج ایسے ہی آئیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں