پاکستانی سیاست اور جموریت میں امپائر کا کردار ۔۔۔ مگر امپائر دراصل کون ہوتا ہے اور کس طرح سے اشارے دیتا ہے ؟ صف اول کے صحافی کی معلوماتی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک) جمہوری ریاستوں میں سیاسی جماعتیں اور عوام ہمیشہ آزاد اور طاقتور الیکشن کمیشن( ای سی) کی وجہ سے انتخابات پر اعتماد رکھتے ہیں ، جہاں’’امپائر‘‘ جیسی اصطلاحات کرکٹ کے علاوہ کہیں موجود نہیں ہیں۔ پاکستان میں نہ صرف ہمارے اندر سیاسی بلوغت کی کمی ہے بلکہ ہم ایک دوسرے پر اعتماداور یقین بھی نہیں رکھتے۔

تجزیہ کار مظہر عباس اپنی نئی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔ ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم ایک ایسا نظام تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں جہاں تمام فریق نتائج قبول کرکے حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کی اجازت دیں۔ یہ بھی ایک ریکارڈ کی بات ہے کہ اس ملک میں سیاست اور انتخابات کا انتظام کس طرح سے کیا جاتا ہے اور انتخابی اصلاحات کے باوجود زیادہ بہتری نہیں آئی ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی ان کے متعصبانہ اور بچگانہ رویہ کی ذمہ دار ہیں۔سیاست اور انتخابات میں بہت سارے جمہوری سانحے ہوئے جن کےذمہ دار امپائر اور کھلاڑی دونوں ہیں۔ آگے بڑھنےکیلئے ہم تاریخ کے ان تمام حقائق کو قبول کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر 60 کی دھائی میں صدارتی انتخاب منصفانہ ہوتا تو محترمہ فاطمہ جناح پاکستان کی پہلی خاتون صدر ہوتیں اور یہاں تک کہ بنگالی بھی خوش ہوتے ، کیونکہ وہ ڈھاکہ سے جیت گئی تھیں۔ اگر ہم نے 1970 میں اکثریت والی پارٹی کو اقتدار سونپ دیا ہوتا اور دوسری جماعتوں نے اسے قبول کرلیا ہوتا تو ہم مشرقی پاکستان کے سانحے کو ٹال سکتے تھے۔ اگر انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 1988 اور 1990 کے انتخابات میں مداخلت نہ کی ہوتی تو ہم جمہوریت کو مضبوط بناچکےہوتے۔

خود مارشل لاء کے تحت انتخابات ایک لطیفہ ہے لیکن ، 1970 ، 1985 اور 2002 کے تمام انتخابات مارشل لاءکے دوران ہوئے۔یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ ہم نے زیادہ تر لوکل باڈی الیکشنز کاانعقاد مارشل لاء کے تحت کیا۔ دوم پولیٹیکل انجینئرنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے،جسے ہم انتخابات سے قبل،اس دوران اور بعد میں حکومت سازی کے وقت دیکھتے ہیں۔ اگر ہم واقعتا ًسیاسی استحکام چاہتے ہیں تو ان اداروں کو جانچنا ہوگا۔ تیسری معقول وجہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کااختیارات میں کمزور نظرآناہے۔اس کی وجہ اس کے وسائل تھے اور گنجائش کے بغیر انتخابارت کاانعقاد کرناہے جوبیرونی مداخلت کاسبب بنا۔ الیکشن کمیشن کو ایک ادارہ کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور اسے مستقل بنیادوں پر ہزاروں افراد کی خدمات حاصل کرنے کے بھی وسائل حاصل کرنا ہوں گے ، جو بہت سے بے روزگار نوجوانوں کو بھی پیشے کے طور پر اپنائے جانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ ای سی پی کےپاس اساتذہ،عدلیہ یافوج پرانحصارکرنے کی بجائے اپنی مشینری اور افرادی قوت ہونی چاہیے۔جوکہ اکثر سیاسی جماعتوں کامطالبہ بھی ہے۔ بااختیار ای سی پی ہی آگے بڑھنے کاراستہ ہے،جس پرساری سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔لیکن پھربھی ہم اس پرعملدرآمدکرانے اور اس کوغیرجانبدارامپائرماننے میں ناکام رہے ہیں۔ 18 ویں ترمیم نے ان میں سے کچھ امور حل کئے ہیں

لیکن مخمصہ یہ ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں میں صحیح کام کیلئے صحیح لوگوں کے انتخاب میں پختگی کا فقدان ہے۔ کسی غیر جانبدار اور غیرمتعصب شخص کی بجائے وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جوان کے حق میں ہو۔ یہ استثناء ریٹائرڈ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کے معاملے میں تھا ، جنہوں نے 2013 کے انتخابات کرائے تھے ، لیکن وہ 2بنیادوں پر ناکام رہے تھے۔ ایک اس نے پرانے عمل اور انہی اداروں پر انحصار کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں چنا اور دوسرا ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے باوجود انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کیا۔ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ای سی ممبروں پرعدم اتفاق رائے ،حکومت اور اپوزیشن کا موجودہ بحران آزادی مارچ اور وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے افراد میں سیاسی پختگی کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ ای سی پی مکمل کئے بغیر الیکشن کیسے کرواسکتے ہیں،ایک اور بڑابحران بھی آنے کوہےکیونکہ چیف الیکشن کمشنر ، ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا ریٹائر ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں