مریم نواز کی ضمانت پر رہائی کو ساڑھے سات کروڑ روپے کے مچلکوں سے ہی کیوں مشروط کیا گیا تھا ؟ اس عدالتی شرط کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ بی بی سی کا حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی تو ملنے کے بعد بدھ کی صبح رہا کر دیا گیا ہے اور ان کی رہائی کے بعد سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج ان کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف

نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ کو بھی جاتی امرا میں ان کی رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔مریم نواز خود بھی سروسز ہسپتال میں موجود تھیں اور ان کی ضمانت اگرچہ پیر کو منظور ہوئی تھی تاہم رہائی کے روبکار بدھ کو جاری کی گئی۔مریم نواز کو بھی جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں انھیں نواز شریف کے ساتھ والے کمرے میں رکھا گیا تھا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بدھ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹرز نے مریم نواز شریف کو والد کی صحت کی بنا پر سخت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔بیان کے مطابق نواز شریف کے علاج کے لیے ان کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کر دیا گیا ہے جہاں وینٹی لیٹر اور کارڈیک آئی سی یو کی سہولیات بھی میسر ہوں گی۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی پلیٹلیٹ کاؤنٹ کم ہونے کے باعث انھیں ہسپتال ایکوائرڈ انفیکشن ہونے کا خطرہ ہے۔ اسی لیے ڈاکٹرز نے نواز شریف کے لیے ان کی رہائش گاہ پر خصوصی میڈیکل یونٹ بنانے کی تجویز دی۔لاہور ہائی کورٹ نے پیر کے روز مریم نواز کی درخواستِ ضمانت منظور کی تھی تاہم ان کی رہائی اس بات سے مشروط کی گئی کہ وہ اپنا پاسپورٹ، دو، دو کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکے اور سات کروڑ روپے نقد عدالت میں جمع کروائیں۔قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایسا کم دیکھنے میں آتا ہے کہ

عدالت نے کسی سے ضمانت کی شرط کے طور پر نقد رقم رکھوائی ہو۔لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مریم نواز کو ‘دو، دو کروڑ روپے کے دو مچلکے ٹرائل کورٹ کو مطمئن کرنے کے لیے جمع کروانے ہوں گے۔’تاہم ساتھ ہی انھوں نے لکھا کہ ‘وہ اپنی سچائی یا بونافائیڈی قائم کرنے کے لیے سات کروڑ روپے نقد اور اپنے پاسپورٹ بھی ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع کروائیں گی۔’عدالت نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 28 میں یہ بھی لکھا ہے کہ استغاثہ نے عدالت کو درخواست گزار یعنی مریم نواز کی بنک سٹیٹمنٹ دکھائی جس کے مطابق انھوں نے سنہ 2011 میں ایک چیک کے ذریعے سات کروڑ نکلوائے، اسی باعث استغاثہ کو ڈر ہے کہ وہ بھاگ جائیں گی۔’اس لیے ہم (عدالت) اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے مشروط حکم جاری کریں گے۔’قانونی ماہر اور وکیل سلمان اکرم راجہ نے بی بی سی سے بات کر تے ہوئے بتایا کہ ‘عمومی طور پر بعد از گرفتاری ضمانت دینے کے مقدمات میں عدالتیں ضمانت کے بانڈز یا مچلکے ہی لیتی ہیں تاہم یہاں عدالت نے تھوڑی اور سختی کی ہے اور کہا کہ آپ نقد رقم جمع کروا دیں۔’تاہم مریم نواز کی وکیل اعظم نذیر تارڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سات کروڑ نکلوانے کے حوالے سے عدالت نے خود فیصلے میں لکھا کہ ‘اس نکتے کو سامنے لانے سے استغاثہ کو زیادہ فائدہ نہیں ہے تاہم پھر بھی عدالت نے استعاثہ کو مطمئن کرنے کے لیے نقد رقم جمع کروانے کا حکم صادر کیا۔’وکیل اور قانونی ماہر اسد جمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کا اختیار ہے اور وہ ایسا کہہ سکتی ہے کہ ضمانت کے طور پر نقد جمع کروائیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مقدمات میں ایسا نہیں ہوتا اور اس مقدمہ میں بھی اس شرط کی انھیں کوئی تفصیلی دلیل نظر نہیں آئی۔فوجداری کے وکیل علی ضیا باجوہ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں مچلکوں کی مد میں نقد رقم جعع کروانا ایک معمول کے مطابق کارروائی ہوتی ہے تاہم پاکستان میں مریم نواز کے مقدمے میں یہ غیر معمولی شرط دیکھی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بطور وکیل میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عدالت کی طرف سے ایک سخت شرط تھی۔’مریم نواز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ ضمانت کی مچلکے کے طور پر سات کروڑ روپے نقد رکھنے کی عدالتی فیصلے کی خلاف اپیل دائر کر سکتی تھیں تاہم موجودہ حالات میں انھیں اس کا مشورہ نہیں دیا گیا۔نذیر تارڑ کے مطابق ‘اس میں مزید دو ہفتے لگ جانے تھے اور اس دوران وہ جیل میں رہتیں، اس لیے ان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ضمانت حاصل کر لیں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں