خان صاحب : آپ اقتدار میں آنے کے قابل تھے یا نہیں اس بات کو چھوڑتی ہوں مگر اتنا سن لیجیے اب اگر آپ نے میڈیا پر پابندی لگائی تو ۔۔۔۔۔۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں ۔۔۔۔۔۔ عاصمہ شیرازی کی ایک چبھتی ہوئی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) 2002 کی اسمبلی کی کوریج سے سیاسی رپورٹنگ کا آغاز کیا تو ایوان میں نہ تو محترمہ بےنظیر بھٹو تھیں اور نہ ہی میاں برادران۔ان بھاری بھر کم شخصیات کی کمی کو البتہ بے حد محسوس کیا جاتا تھا تاہم جنرل مشرف کی آمریت نما جمہوریت میں پارلیمان کو اتنا استحقاق ضرور تھا کہ

نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پابندیوں کے باوجود عوامی مسائل اور غیر جمہوری معاملات پر بھرپور بحث کی جاتی۔ایک طرف اعتزاز احسن کی مدلل تقاریر ہوتیں تو دوسری جانب خواجہ آصف دبنگ دلائل دیتے۔ کبھی محمود خان اچکزئی اپنے مخصوص انداز میں تنقید کرتے دکھائی دیتے تو کہیں جاوید ہاشمی۔ کبھی قمر زمان کائرہ تو کبھی شیری رحمان اور چوہدری منظور، کبھی حافظ حسین احمد کا جداگانہ انداز تو کبھی قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان کا الگ نقطہ نظر۔ خواجہ سعد رفیق، تہمینہ دولتانہ، خرم دستگیر اور تو اور چوہدری نثار تک غیرجمہوری قوتوں کو ناکوں چنے چبواتے۔جمہوریت نہیں تھی، براہ راست تقاریر عوام تک نہیں پہنچ پاتی تھیں مگر میڈیا کے ذریعے کم از کم اسمبلی کی حد تک اظہار ضرور ہو جاتا تھا۔اخبارات گیلریاں چھاپتے تھے۔ افضل خان مرحوم، محمد ضیاء الدین، عامر متین، نصرت جاوید جیسے سینیئر کالم نویس گیلری لکھتے تو جہاں اپوزیشن کو رہنمائی ملتی وہیں حکومت معترض ہونے کی بجائے جوابدہ ہوتی۔ظفر عباس، حامد میر، فاروق اقدس جیسے سینیئر صحافی ایڈیٹرز کے لیے متعین نشستوں پر براجمان ہوتے تو ہم جیسے جونیئرز پارلیمان کی کوریج کے لیے کچھ زیادہ چوکس رہتے۔میر ظفراللہ جمالی اور اُن کے بعد چوہدری شجاعت حسین اور پھر شوکت عزیز وزارت عظمی کے عہدوں پر پہنچنے کے باوجود ایوان کو عزت افزائی بخشتے۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی حکومتی بینچوں کو متحرک رکھتے۔ اُس وقت بھی آٹے اور چینی کے بحران رہے مگر وزیر جواب دہ ہوتے اور حزب اختلاف موثر آواز بلند کرتی۔

آمریت کے اس دور میں بھی میڈیا کو محدود مگر آزادی میسر تھی۔ آزاد منش عدلیہ البتہ تب سیلف سینسر شپ کا شکار تھی۔ اپوزیشن شہری آزادیاں، عوامی مسائل اور انسانی حقوق پر کھل کر آواز اٹھاتیں اور ن لیگ کی مختصر تعداد آج کی بڑی تعداد سے کئی درجے موثر تھی تو پیپلز پارٹی کے اراکین پیٹریاٹ بننے کے باوجود اپنے نظریے کے ساتھ وجود رکھتے تھے اور اس کا برملا اظہار کرتے تھے۔ایوان میں اُس وقت بھی عمران خان نمایاں رکن اسمبلی تھے۔ جنرل مشرف مخالف اور جمہوریت کی حمایت میں ایک موثر آواز۔ عمران خان صاحب کی تحریک انصاف صرف ایک نشست پر مشتمل تھی مگر وہ ایک نشست کئی نشستوں پر بھاری تھی۔ چینی، آٹے، ٹیکسوں کے نفاذ اور سب سے بڑھ کر جنرل مشرف کی خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے اور خاص کر کے عافیہ صدیقی پر کپتان کا موقف آج بھی یاد ہے۔پھر کیا ہوا کہ کپتان بدل گیا۔ میڈیا کی آزادی، انسانی حقوقی پامالی، عافیہ صدیقی کی بازیابی، مافیاز کی استحصالی پر بات کرنے والا کپتان کہیں گم ہو گیا۔ مان لیا کہ اقتدار کے لیے یہ سب کچھ جائز تھا مگر اب تو اختیار آپ کے ہاتھ میں اور اقتدار آپ کے پاس ہے، اگر ہے۔پارلیمنٹ اپنے وجود سے منفی ہو رہی ہے۔ میڈیا مسلسل دباؤ کا شکار اور انتظامیہ۔۔۔ یعنی اگر خود وزیراعظم اس بات سے بےخبر ہوں کہ سوشل میڈیا سے متعلق منظور کیے جانے والے قواعد میں کیا ہے تو اس اختیار کے کیا کہنے۔جناب وزیراعظم صاحب! آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ اس ملک کے عوام نے آپ کو کم ووٹ دیے یا زیادہ، آپ اقتدار میں آ سکتے تھے یا نہیں مگر آپ سے توقعات ضرور باندھیں تھیں۔اس میڈیا نے آپ کو جس مقام پر پہنچایا آج آپ اُسی کے پر کاٹ رہے ہیں۔ جس سوشل میڈیا کی آنکھوں کا آپ تارا تھے اُسی پر قینچی چلا رہے ہیں۔ جو عوام آپ کے متوالے تھے اُنھی پر قدغنیں لگا رہے ہیں۔جنرل مشرف کی آدھی کابینہ بٹھا کر یہ تو یاد رکھیں کہ اتنی پابندیاں تو میڈیا پر اُس وقت بھی اس لیے نہ لگیں تاکہ اظہار ہوتا رہے اور لولی لنگڑی جمہوریت سے ملک چلتا رہے۔ عوام کا غصہ ٹی وی سکرینوں اور ہاتھوں میں پکڑی مشینوں سے نکلتا رہے اور عوام سڑکوں پر نہ نکلیں۔جنرل مشرف نے چینلوں پر پابندی لگائی تو مہینوں نہیں دنوں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور اصل مقتدر بھی قہر سے نہ بچ سکے۔جناب وزیراعظم ! آپ کی کرسی سلامت رہے، اقتدار بھی اور اختیار بھی۔۔۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں