بہاولپور؛ محکمہ ایجوکیشن میں ایجوکیٹرز کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر ردو بدل اور گھپلوں کا انکشاف

بہاولپور (ہاٹ لائن ) محکمہ ایجوکیشن بہاول پور میں ایجوکیٹرز کی بھرتی 2016-17 میں بڑے پیمانے پر ردو بدل اور گھپلوں کا انکشاف۔ دیہی علاقوں کی خواتین کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے میرٹ سے باہر کر کے سفارشی اوراقربا پروری کی بنیاد پر امیدواروں کو جگہ دی گئی۔
تفصیل کے مطابق ایجوکیشن کی بھرتی 2016-17 میں فارم جمع کرانے کے لیے راہنمائی ڈیسک نہ ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں کی خواتین کے فارمز پر بے بنیاد اعتراضات لگا کر مسترد کر دیے گئے۔ امیدواروں نے فارمز کی تصحیح کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے دفتر متعدد بار درخواستیں جمع کرائیں لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ محکمہ ایجوکیشن کی ناانصافی کا شکار ثمینہ مصطفی، نوشین عنبر، ثوبیہ ،سعدیہ مراد، خدیجہ اکبر و دیگر خواتین نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی تعلیم کے حصول اور روشن مستقبل کی امید میں محنت کرتے گزار دی ہے لیکن اب میرٹ پر آنے کے باوجود جاب نہ ملنے کی وجہ سے انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لوگوں کے طعنوں اور میرٹ کے قتل عام کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے بچوں کو بھی نہ پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کمشنر بہاولپور ، وفاقی وزیر تعلیم میاں بلیغ الرحمٰن اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ محکمہ ایجوکیشن بہاول پور کے مظالم کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے فوری کاروائی کی جائے تاکہ کئی خاندانوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں