انگلستان کی ایک نامور شخصیت کو ملک سے غداری کے الزام میں جب سزائے موت دی جانے لگی اور انکا سر گلوٹین پر رکھا گیا تو انہوں نے کیا تاریخی جملہ کہا تھا ۔۔۔۔ عدالتی فیصلوں پر نظر رکھنے والوں کے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے مرحوم جسٹس خدا بخش مری ان دنوں بہت یاد آ رہے ہیں۔ ماضی میں ان کے حوالے سے لکھتے ہوئے میں نے جن مسائل اور خیالات کا اظہار کیا تھا، ان میں آپ کو بھی شریک کرنا چاہوں گی کیونکہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر آج بھی ان کی گہری چھاپ

نامور خاتون کالم نگار زاہدہ حنا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ صاف نظر آتی ہے۔ جسٹس مری ایک ایسے باضمیر اور بے باک قانون داں اور دانشور تھے تاہم یہ بھی ایک المناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ان کی قدر نہیں کی گئی۔چیف جسٹس خدا بخش مری نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کے اس فیصلے پر بہت تفصیلی بحث کی ہے جس نے ملک کی قانونی اور آئینی تاریخ میں وہ نظیر قائم کی جو بعد میں آنے والے ہر طالع آزما کے حق میں پیش کی گئی اور جسے بدقسمتی سے ملک میں اکثر و بیشتر روبہ عمل لایا گیا چنانچہ کامیاب ’’انقلاب‘‘ اقتدار پر قبضے اور آئین میں تبدیلی کا مسلمہ طریقہ طے پایا اور ایسا کرنے والوں کے لیے کوئی سزا کوئی مکافات عمل بھی نہیں۔ایک مغربی مصنف مسٹر ہربرٹ فیلڈ مین نے ڈوسوکیس کے فیصلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہ بات بھی، البتہ، بعید ازقیاس ہے کہ اگر سپریم کورٹ فرد واحد کی طرح بھی احتجاج اور مخالفت میں اٹھ کھڑی ہوتی تو اس سے ان تبدیلیوں پر جو وقوع پذیر ہوچکی تھیں،معمولی سا بھی اثر ہوتا۔‘‘مرحوم جسٹس مری نے فیلڈمین کی اس بات سے اتفاق کیا اور یہ لکھا کہ اگر سپریم کورٹ فرد واحد کی طرح احتجاج کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی اور اس کی مخالفت کرتی تو بھی عملاً صورت حال پرکوئی اثر نہ پڑتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سپریم کورٹ گورنر جنرل کے من مانے حکم کے خلاف فیصلہ دیتی تو اخلاقی اور آئینی سطح پر اس کے زبردست اثرات رونما ہوتے۔

اس سے رائے عامہ بیدار ہوتی اور عوام کی نظروں میں عدلیہ کا وقار بڑھ جاتا ممکن ہے ایسا کرنے میںجج حضرات کو بعض خطرات کا سامنا کرنا پڑتا۔ بہت سے ممالک کی قانونی تاریخ ایسی مثالوں سے خالی نہیں۔ امام ابو حنفیہؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے ان کو بغداد کا قاضی القصناۃ مقررکرنے کی پیشکش کی مگر امام صاحب نے یہ پیشکش مسترد کردی۔سلطان نے حکم دیا کہ امام کو اس وقت تک تازیانے لگائے جائیں جب تک وہ بغداد کا قاضی القصناۃ کا عہدہ قبول نہ کرلیں۔ امام نے تشدد برداشت کیا مگر سلطان کی پیشکش قبول نہ کی کیونکہ امام ابوحنیفہؒ کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ ملک جن سیاسی و معاشرتی حالات سے گذر رہا تھا ان حالات میں وہ شریعت کے مطابق عدل نہیں کرسکتے تھے۔ صد افسوس کہ ہمارے ہاں پاکستان میں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔جسٹس صاحب نے انگلستان کے چانسلر سرتھامس مور(چیف جسٹس) کی مثال بھی دی ہے ۔ سرتھامس مورکی گہری دوستی شاہ ہنری ہشتم سے تھی۔ شاہ نے انھیں ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی منصب پر فائزکیا تھا یہ 1535ء کا ذکر ہے کہ سرتھامس مور نے ملکہ این کی رسم تاجپوشی میں شرکت سے انکارکردیا کیونکہ وہ ملکہ کو اخلاقی اعتبار سے درست نہیں سمجھتے تھے۔ انھوں نے ’’شاہی خاندان کی بالادستی‘‘ کا حلف اٹھانے سے بھی معذوری ظاہرکردی حالانکہ انگلستان کے چرچ یعنی مذہبی رہنماؤں نے اس شاہی حکم کو تسلیم کرلیا تھا اور بجائے پاپائے اعظم کے شاہی خاندان کی بالادستی کا حلف اٹھالیا تھا۔

سرتھامس مور شاہی حکم اور حلف اٹھانے سے انکارکے نتائج سے آگاہ تھے۔مرحوم جسٹس صاحب نے لکھا ہے کہ سر تھامس مور پر جب بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تو انھوں نے اس جھوٹے اور بے بنیاد مقدمہ کا بھی بڑی ہی جرأت اور پامردی سے مقابلہ کیا۔ سر تھامس مور کے خلاف استغاثہ اس قدرکمزور اور ان کی صفائی اتنی مضبوط اور دو ٹوک تھی کہ مقدمہ میں ان کی بریت یقینی تصورکی جا رہی تھی یہاں تک کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک وکیل مسٹر رچ جو شاہی وکیل تھا، اپنی جگہ سے اٹھا اور گواہ کے کٹہرے میں جا کھڑا ہوا۔اس نے جھوٹا حلف اٹھا کر بیان دیا کہ سرتھامس مور نے وہ الفاظ کہے تھے جن کی بنا پر ان پر بغاوت کا الزام صادق آتا ہے۔ سرتھامس مور نے پروقار انداز میں نہایت سکون کے ساتھ صرف اتنا کہا ’’مسٹر رچ، حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے اپنی زندگی کو لاحق خطرات سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ نے جھوٹی قسم کھائی ہے۔‘‘ سرتھامس مورکو موت کی سزا سنائی گئی۔ جب ان کا سر قلم کرنے کے لیے گلوٹین پر رکھا جانے لگا تو انھوں نے اپنا وہ تاریخی جملہ کہا جسے ان کی تمام باتوں سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ سرتھامس مور نے کہا ’’ ٹھہرو، مجھے اپنی داڑھی سنوارنے دو کیونکہ میری داڑھی نے کوئی جرم نہیں کیا۔‘‘جسٹس صاحب نے آج سے بہت پہلے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا ہم نے اپنے اندر کوئی ابوحنیفہؒ ، کوئی تھامس مور یا ان لوگوں جیسا کوئی شخص پیدا کیا ہے جس نے حق و صداقت پر مبنی اصولوں کا بول بالا کیا ہو؟ جسٹس مری کو دنیا سے گئے برسوں گزر چکے ہیں لیکن ان کے سوال کا جواب آج بھی ہم سب پر قرض ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں