ورلڈ کپ2019 کن کھلاڑیوں کا آخری ورلڈکپ ہو گا؟

لندن (ویب ڈیسک) لندن اور ویلز میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019کے آغاز میں کچھ دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔ 10 بہترین ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے لیے بھرپور تیاری کررہی ہیں۔تمام ٹیموں نے اپنے اپنے اسکواڈز کا بھی اعلان کر دیا ہے اور ان میں کئی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو کہ

پہلی بار عالمی کپ میں شرکت کریں گے جب کہ کئی ایسے سینئر اور تجربہ کار کھلاڑی بھی ایکشن میں نظر آئیں گے جو پہلے بھی میگا ایونٹ میں حصہ لے چکے ہیں۔ان میں سے کئی سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں نے اس ورلڈ کپ کو اپنے کیرئیر کا آخری میگا ایونٹ قرار دیا ہے جب کہ یہ عالمی کپ کئی سینئر کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی آخری ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر شعیب ملک نے قومی ٹیم کے لیے کئی میچوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ اوپننگ، فیلڈنگ، لوور آڈرر بیٹنگ سے لیکر آف اسپن بولنگ تک عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔شعیب ملک کا شمار بھی کچھ لیجنڈ پلیئرز میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ صدی میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا اور تاحال کھیل رہے ہیں۔ 4 اکتوبر 1999 کو ایک روزہ کرکٹ شروع کرنے والے شعیب ملک اور محمد حفیظ قومی ٹیم کے سنیئر اور تجربہ کار پلیئرز ہیں۔ 37 سالہ سابق کپتان پہلے ہی کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکےہیں۔ وہ دوسری اور آخری بارعالمی کپ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔واضح رہے کہ آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز پاکستان کے لیے ایک ڈرؤانا خواب ثابت ہوا ۔ ملک کی قیادت میں پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں 0-5 سے وائٹ واش ہونا پڑا۔انہوں نے 2007 میں پہلی بار ورلڈ کپ میں سابق کپتان اور موجود چیف سلیکٹر انضمام الحق کی قیادت میں ٹیم کی نمائندگی کی۔

انہوں نے 282میچز میں 7481 رنز بنائے جب کہ 156 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں 9 سنچریاں اور 44 ففٹیز بنائیں اور بہترین فیلڈنگ کرتے ہوئے 96 کیچز تھامے۔قومی کرکٹ ٹیم نے چند سنیئر کھلاڑیوں کے علاوہ 10 نئے کھلاڑیوں کا اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔ ’’پروفیسر‘‘ محمد حفیظ ان چند تجربہ کار کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ 38سالہ کرکٹر نے 3اپریل 2003 میں زمبابوے کیخلاف کرکٹ کا آغاز کیا۔ وہ ممکنہ طور پر تیسرا اور آخری ورلڈ کپ کھیلیں گے۔محمد حفیظ اگرچہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بہترین کپتان رہے لیکن ون ڈے کرکٹ میں ان کی پرفارمنس خاطر خواہ نہیں رہی۔ انہوں نے 2007 اور 2011 ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی۔ انہوں نے 208میچز میں 33 کی اوسط سے 6302رنز بنائے۔ وہ 11سنچریاں اور 35 نصف سنچریاں داغ چکے ہیں۔انہیں گزشتہ عالمی کپ بھی قومی ٹیم کا حصہ بنایاگیا تھا لیکن وہ ایونٹ سے 6 روز قبل پنڈلی کی انجری میں مبتلا ہونے کے باعث شرکت نہ کرسکے۔ بعدازاں ان کی جگہ ناصر جمشید کوٹیم میں شامل کیا گیا۔خیال رہے کہ اوپننگ بیٹسمین پاکستان سپر لیگ سیزن فور میں اپنا انگوٹھا تڑوا بیٹھے تھے، اس کے بعد سے انہوں نے اب تک کرکٹ شروع نہیں کی۔ انہوں نے یویو ٹیسٹ تو پاس کر کے قومی ٹیم میں جگہ بنائی لیکن میگا ایونٹ سے قبل انہیں خود کو فٹ ثابت کرنا ہوگا۔8مارچ 1984کو ویلنگٹن میں پیدا ہونے والے روز ٹیلر چوتھی بار میگا ایونٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ انہوں نے 2006 میں ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ سے ون ڈے کرکٹ کا آغاز کیا۔

کیوی بیٹسمین روس ٹیلر 2011 ورلڈ کپ میں پاکستان کیخلاف میچ میں 131 رنز کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے ناقابل شکست رہے۔ ان کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف 302 رنز اسکور کیا۔روس ٹیلر ون ڈے کرکٹ کے چوتھے بیٹسمین ہیں جنہوں نے اپنی سالگرہ کے دن پر تھری فیگرز اننگز کھیلی۔ اس سے قبل ونود کامبلی، سچن ٹنڈولکر اور سانتھ جے سوریا اپنی سالگرہ کے دن سنچریاں بناچکے ہیں۔ گزشتہ عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی بار فیصلہ کن مرحلے میں پہنچی اوروہ اس وقت بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔35 سالہ راس ٹیلر مارچ 2010 میں آسٹریلیا کیخلاف ایک میچ میں قومی ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں جس میں انہوں نے 81 گیندوں پر سنچری بنائی اور تیز ترین سنچری بنانے والے پہلے کیوی کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ روز ٹیلر کو قومی ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ 20 سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔آسٹریلین کرکٹ ٹیم عالمی کپ میں ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔ آسٹریلیا نے پہلی بار 35 سالہ شان مارش کو15 رکنی اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ وہ 2008 سے ون ڈے کرکٹ میچز کھیل رہے ہیں لیکن وہ کبھی عالمی کپ کے لیے آسٹریلوی ٹیم میں جگہ نہ بناسکے۔ البتہ ان کے بھائی مچل مارش فاتح آسٹریلین ٹیم کا حصہ تھے۔30مئی سے شروع ہونے والے میگا ایونٹ میں وہ غالباً پہلی اور آخری بار ایکشن میں نظر آئیں گے۔ شان مارش نے 2008 میں ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے سیریز سے ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد کھلاڑی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں