پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف اپنے میچ میں 400 رنز بنا سکتی تھی ، مگر انہیں کس نے اور کیوں منع کر دیا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے پر کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر مایوس ضرور ہیں لیکن دونوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھلاڑیوں نے آخری چار میچوں میں بہت ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مکی آرتھر، جن کا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ اس

نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورلڈ کپ تک کا ہے، کہتے ہیں کہ جس طرح ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف ہاری اس کے بعد ممکن ہی نہیں رہا کہ رن ریٹ کو واپس اوپر لایا جاتا، اور یہ ان کے لیے بہت مایوس کن تھا۔ انھوں نے کہا ٹیم نے انگلینڈ کو ہرا کر تسلسل قائم کیا لیکن پھر بارش کی وجہ سے ٹیم نو دن تک کرکٹ نہ کھیل سکی جس کی وجہ سے جو تسلسل بنا تھا وہ ٹوٹ گیا۔ مکی آرتھر نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم جیتنے کی پوزیشن میں تھی لیکن اس نے وہ موقع ضائع کر دیا۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں چار سو رنز بنانے کے بارے میں مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ٹیم میٹنگ میں اس بارے میں سوچا گیا تھا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ وکٹ پر جائیں اور سوچ لیں کہ چار سو رنز بنانے ہیں۔ انھوں نے کہا پہلے دس اوورز بہت اہم تھے اور ایک بڑے سکور تک پہنچنے کے لیے آپ کو مضبوط بنیاد درکار ہوتی ہے۔ فخرزمان کے جلدی آؤٹ ہونے پر کا کہنا تھا کہ وکٹ جارحانہ بیٹنگ کے لیے آسان نہیں جس کے بعد سوچا گیا کہ صرف جیتنے کے لیے کھیلا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ میچ جیتنے کے بعد ڈریسنگ روم میں ہر کوئی مایوس تھا اور کوئی جشن نہیں منایا گیا، اور نہ مبارکباد کا تبادلہ ہوا کیونکہ ٹیم سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا لیکن نوجوان کرکٹرز کو سراہا جانا چاہیے بجائے اس کے کہ منفی انداز میں تنقید کی جائے۔کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ انڈیا کے خلاف شکست کے بعد انھوں نے تمام کھلاڑیوں سے یہ کہا تھا کہ کہیں نہ کہیں کھلاڑیوں سےغلطی ہورہی ہے کیونکہ کوچنگ سٹاف سخت محنت کررہا ہے لیکن میدان میں یہ کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہے کہ اچھا پرفارم کریں۔انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اتنے زبردست دباؤ کے بعد ٹیم نے آخری چار میچوں میں بہت ہی عمدہ پرفارمنس دی۔سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ان چار میچوں میں پاکستان کے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں نے اچھا سکور کیا جبکہ بولرز نے بھی متاثرکن کارکردگی دکھائی۔(بشکریہ : بی بی سی )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں