فخر زمان بھی کورونا کیخلاف میدان میں آ گئے، ایسا پیغام جاری کر دیا کہ پوری دنیا عش عش کر اٹھی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز فخر زمان بھی کورونا کیخلاف مہم کا حصہ بن گئے ہیں جنہوں نے ”سیلوٹ سلام“ کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے جارح مزاج بلے باز فخرزمان نے

پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی آگاہی مہم ”سلیوٹ سلام“ کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ وائرس کے خلاف جنگ میں ہم سب یکجا ہیں، پوری دنیا کورونا سے نبرد آزما ہے، احتیاط، احتیاط اور احتیاط ہی اس کا توڑ ہے۔فخرزمان نے کہا کہ ”سلیوٹ سلام“ کی عادت اپنا کر خود کو کرونا سے بچائیں، بار بار ہاتھ دھوئیں، غیر ضروری میل ملاپ سے اجتناب کریں، شہری حکومت پنجاب کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ مل کر کورونا کو شکست دیں گے۔ بکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ 2012 اور 2013 کے دوران پوری دنیا میں کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق کوروناوائرس ماضی میں بھی سامنے آچکا ہےپریل 2012 سے مئی 2013تک کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی مختلف لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق یہ کیسز مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں سامنے آئے تھے جن میں اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 40 کیسز میں سے20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ادارے کے مطابق یہ کیسز فرانس ، جرمنی اور برطانیہ میں بھی رپورٹ ہوئے تھے اور ان تمام کیسز کا مشرق وسطیٰ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق تھا۔فرانس اور جرمنی میں متاثر ہونے والے افراد نے خود کبھی مشرق وسطیٰ کا سفر نہیں کیاتھا تاہم ان کے قرابت داروہاں سے آئے تھے جن سے انہیں بھی یہ مرض لاحق ہوگیا۔کورونا وائرس کا آخری کیس دس مئی2013کو سامنے آیا تھا۔متاثرہونے والے انتالیس افراد کی تفصیلات کے مطابق اکتیس مرد تھے اور ان کی عمریں 24 سے 94سال تک تھیں۔ان تمام کیسز کی لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی اور مریضوں کو ہسپتال بھی منتقل ہونا پڑا۔بہت سے مریضوں میں یہی علامات بھی ظاہر ہوئیں جو ابھی ہیں تاہم اس وقت کچھ لوگوں کو ڈائیریا کی شکایات بھی ہوئی تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک مریض ایسا بھی تھا جس میں مذکورہ علامات نہیں تھیں تاہم بخار، جسم میں درد اور دست جیسی شکایا ت تھیں، اس کا نمونیہ بھی اتفاقی طور پر ریڈیوگرافی کے دوران سامنے آیاتھا۔عالمی ادارے کے مطابق ان چالیس میں سے بیس مریض ہلاک ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں