ہم پل صراط پر چل رہے ہیں!

مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کبھی ریاست کے تین بڑے ستون شمار ہوتے تھے۔ جب جمہوری دور کاآغاز ہوا تو آباؤ اجدادِ جمہوریت نے ان تینوں ستونوں ہی کی نشاندہی کی۔ میڈیا اس وقت بھی موجود تھا جب 1789ء میں فرانس میں انقلاب آیا اور جب 1917ء میں روس میں ایک اور طرح کا (اشتراکی)انقلاب آیا تو بھی پریس میڈیا موجود تھا اور الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو کی شکل میں آہستہ آہستہ جمہور کے اذہان میں کہیں تشکیل پا رہا تھا۔ لیکن جب 1939ء میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ڈاکٹر گوئبلز نے جرمنی میں ہٹلر کے بعد دوسرا بڑا نام پایا۔ اہلِ مغرب نے اس نئی اختراع کو جس کا نام پروپیگنڈا رکھا گیا تھا، ہاتھوں ہاتھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے نشرو اشاعت کے نئے دریچے وا ہونے لگے۔ ریڈیو، ٹرانسسٹر، ٹیپ ریکارڈر، وی سی آر اور ٹیلی ویژن وغیرہ متعارف ہو گئے۔ یہی دور تھا جس میں میڈیا کو بھی ریاست کا چوتھا ستون بنا دیا گیا۔ جمہوریت کے نفاذ اور اس کی نشرواشاعت میں میڈیا نے اتنا بڑا رول ادا کیا کہ بعض لوگوں کے ہاں اسے ریاستی عناصرِ اربعہ میں اہم ترین عنصر سمجھا جانے لگا۔ حکومتوں کو بنانے اور گرانے میں میڈیا کا رول نوشتہ ء دیوار بننے لگا اور جب اس میں سوشل میڈیا کا تکملہ بھی شامل ہو گیا تو گویا جمہور کے چاروں طبق روشن ہونے لگے۔ آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہر بالغ عورت اور مرد کے ہاتھ میں جب تک موبائل فون نہ ہو تب تک اس کی ’’تکمیلِ ذات‘‘ مشتبہ تصور کی جاتی ہے۔ اس کا پیٹ بے شک خالی ہو،جیب، اس جامِ جمشید سے خالی نہیں ہوتی۔ آپ لاکھ کسی کو سمجھائیں بجھائیں کہ فیس بک، واٹس اَپ اور یو ٹیوب وغیرہ آپ کا قیمتی وقت ضائع کروانے کے سوچے سمجھے منصوبے ہیں، کوئی عاقل سے عاقل اور بالغ سے بالغ خاتون یا مرد بھی آپ کی بات نہیں سنے گا۔ وہ دن گئے جب نصیحت کرنے والے خال خال پائے جاتے تھے، اب تو کسی کو بھی کسی ناصح کی ضرورت نہیں رہی۔ جو پوچھنا ہے، وہ ’’گوگل‘‘ سے پوچھ لیں۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلّا!

یہ سوشل میڈیا جو آپ کی جیب میں پڑا ہے،چونکہ ’’میڈیا والدین‘‘کا آخری بچہ ہے اس لئے لاڈلا بھی ہے اور گاہ گاہ بے لگام بھی ہو جاتا ہے !۔۔۔ آپ کی طرح مجھے بھی دن میں کئی آڈیوز، ویڈیوز، واٹس آپس وغیرہ موصول ہوتی ہیں جن کو دیکھنا، سننا اور پڑھنا کارے دارد ہوتا ہے۔ اس کا علاج میں نے یہ ڈھونڈا ہوا ہے کہ اس انبارِ معلومات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک کو سنجیدہ ،دوسرے کو نیم سنجیدہ اور تیسرے کو غیر سنجیدہ سمجھتا ہوں۔۔۔ بعض پیغامات کا متن ایسا ہوتا ہے جو بھیجنے والے کی عقل و دانش کی دلیل ہوتا ہے۔ آپ اس سے پہلو تہی تو کر سکتے ہیں لیکن اس میں بیان کئے گئے استدلال کو آسانی سے رد نہیں کر سکتے۔ جس کسی نے بھی آپ کو یہ معلومات بھیجی ہیں، خواہ اس کا منبع یا اصل ارسال کنندہ کوئی بھی ہو، آپ اس کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔

یہ پہلا حصہ ہے۔۔۔ دوسرا حصہ نیم سنجیدہ معلومات کی شکل میں آتا ہے۔ اس میں اقوالِ زریں، بیش قیمت مقولہ جات جن میں اکثر خود ساختہ اور ایجاد بندہ ہوتے ہیں، تاریخی حوالہ جات، نظم و نثر کے ’’شہپارے‘‘ اپنی ذات کی تشہیر کا ساز و سامان بصورتِ تصاویر و تحاریر اور ایسی ویڈیو کلپس ہوتی ہیں جو بیشتر یک طرفہ دلیل و دعویٰ شمار کی جا سکتی ہیں۔ بہت سے دوست اپنے سینے کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے یہ سب کچھ آپ کو ارسال کرتے ہیں اور چونکہ اس رسل و رسائل پر کوئی لاگت نہیں اٹھتی اس لئے اس مواد کی تشہیر و اشاعت، تولیدِ آبادی کی طرح چلیپائی ہوتی ہے۔ یعنی ایک کے بعد دو، تین اور چار نہیں بلکہ ایک کے بعد دو، دو کے بعد چار ،چار کے بعد 16 اور 16کے بعد 256 اور علی ھذالقیاس۔۔۔! آپ سارا دن دوستوں کو اپنے یہ پند ہائے سود مند اور یہ تصاویرِ دلپذیر بھیج کر خوش ہوتے رہیں آپ کی جیب سے کچھ نہیں جائے گا۔ صرف وقت صرف ہوگا جو ہم پاکستانیوں کے پاس شروع ہی سے وافر اور فاضل ہے۔ ہم نے اس فاضل وقت کو کسی تعمیری کام کے لئے تھوڑا استعمال کرنا ہے۔۔۔سوشل میڈیا میں معلومات کا تیسرا حصہ غیر سنجیدہ مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی کوئی حدود و قیود مقرر نہیں ہوتیں ۔ بھیجنے والے کو آپ نہ بھی جانتے ہوں تو جب اس کا جی چاہے، آپ کو یہ انمول تحفے بھیج سکتا ہے۔آپ کے دوستوں کا ایک ایسا حلقہ بھی ہوتا ہے جو بے تکلفی کی حدود سے آگے نکل جاتا ہے اور گویا من تو شدم تو من شدی والی بات ہو جاتی ہے، حجاب اٹھنے لگتے ہیں اور بالآخر کلام ہونے لگتی ہے۔۔۔ ایسے نادر کلپ اور ایسی کمیاب تصاویر و تحاریر آپ دیکھ دیکھ کر اور پڑھ پڑھ کر بعض اوقات محظوظ ہوتے اور بعض اوقات رنجور ہو جاتے ہیں ۔

میرے نزدیک یہ رنجوری بھی، انتہائے حظ کی ایک دوسری شکل ہے۔ جب مشکلیں زیادہ آن پڑتی ہیں تو نہ صرف آسان ہو جاتی ہیں بلکہ سامانِ راحت و انبساط بھی بن جاتی ہیں۔ جو دوست احباب سوشل میڈیا پر ایسا مواد ارسال کرتے ہیں وہ بہت محظوظ کرنے والا بھی ہوتا ہے اور سبق آموز بھی بن جاتا۔ کچھ اور ہو نہ ہو ان کو دیکھ اور پڑھ سن کر ذہن کو کریدنے کے مواقع تو مل جاتے ہیں، پرانی یادداشتیں تازہ ہونے لگتی ہیں اور تمسخر و تفنن اکثر اوقات تفکر و تدبر کا روپ دھار لیتا ہے۔

ان دنوں چونکہ 2نومبر نزدیک آ رہا ہے، بعض بے تکلف احباب کی طرف سے ایسی ایسی E.mails اور Clipsملتی ہیں جن کا ذکر صفحہء قرطاس پر پھیلانے کی ہمت نہیں ہوتی۔دل بہت چاہتا ہے کہ ان پیغامات پر تبصرہ کروں، انہیں کالم کا موضوع بناؤں اور اس طرح دل کا وہ غبار ہلکا کروں جو آہستہ آہستہ دبیز اور وزنی ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت اور تحریک انصاف میں جو رسہ کشی جاری ہے، اس پر آپ دن کو نہ صرف پریس میڈیا بلکہ رات کو الیکٹرانک میڈیا پر بھی بہت کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں۔ دل دھڑکتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا دھماکہ نہ ہو جائے جس میں حملہ آوروں کی شناخت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ میری مراد اُس دھماکے سے ہے جس کے فریقین آٹھوں پہر ہم سب کے سامنے رہتے ہیں۔ ایسی ایسی گوہر افشانیاں ہو رہی ہیں کہ آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آتا۔ ہم پاکستانیوں کو اندازہ ہی نہیں کہ مابدولت آتش فشاں کے دہانے کے کس قدر قریب فروکش ہیں۔

آج پاکستان کو سب سے بڑا جو چیلنج درپیش ہے وہ اندرونی امن و امان کا ہے۔ لیکن ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے بیٹھے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں اس گتھی کو سلجھانے کے لئے پاکستان اور بھارت میں کوئی بیک چینل ڈپلومیسی بھی جاری ہے یا نہیں لیکن اس ’’خفیہ طرزِ گفتگو‘‘ کی جتنی ضرورت آج ہے یقین کیجئے پاکستان کو پہلے کبھی نہ تھی۔ آج پاکستان ایک پل صراط سے گزر رہا ہے۔ وہ کسی طرف بھی گر سکتا ہے۔ دائیں طرف گرے تو نرم و گداز روئی کے گدے ہیں اور بائیں طرف گرے تو گہرے ، مہیب اور تاریک غار۔۔۔

حکومت دریائے جہلم اور دریائے سندھ (اٹک) کے پلوں کو بند کرنے کی باتیں کر رہی ہے، سینکڑوں کنٹینروں کو ہائر کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف اور اس کی ہم خیال قیادت کو نظر بند کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، شیخ رشید کی لال حویلی کو 15دن کا نوٹس دیا جا رہا ہے کہ نکل جاؤ وگرنہ نکال دیئے جاؤ گے۔۔۔ دوسری طرف عمران خان کی فاسٹ باؤلنگ عروج پر ہے۔ ان کی رگیں اور چہرے کے نقوش ان کی شدید گرم خیالی کے غماز ہیں۔ ان کی آنکھوں میں بجلیوں کی چکاچوند پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے اور ان کی تقریروں میں سرجیکل سٹرائیک کی سی تیزی اور کاٹ نظر آنے لگی ہے۔(انڈیا کی حالیہ سرجیکل سٹرائیک نہیں بلکہ وہ سرجیکل سٹرائیک جو عسکری پمفلٹوں میں تحریر ہے)

معلوم نہیں اس صورتِ حال کی نزاکت کا کچھ علم حکومت کو بھی ہے کہ نہیں کہ پاکستان ایک بارود خانہ بنا ہوا ہے۔ اسے ایک چنگاری کی ضرورت ہے۔ وہ چنگاری اگر کہیں سے بھی آکر گر گئی تو دھماکے کو روکنا اور آتش افروزی کو بند کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ باہر بیٹھے دشمنوں کو ہوگا۔ یہ دشمن پاکستان کی سیاسی قیادت کو استعمال کرنے کی سوگند کھائے بیٹھا ہے۔ کون کسے سمجھائے کہ یہ لمحہ اپنے موقف پر اڑ جانے کا نہیں تاہم نجانے مجھے اب بھی ایک موہوم اور مدھم سی امید کی کرن نظر آتی ہے جو شائد اتفاقاً کہیں سے ابھرے اور اس ہونی شدنی کو ٹال دے وگرنہ نہ تو حکومت کے کلی اختیارات، عوام کے آنے والے سیلِ غیض و غضب کے آگے بند باندھ سکیں گے اور نہ ہی پی ٹی آئی کی شعلہ بیانیاں اس کی منزلِ مقصود کا کوئی سراغ لا سکیں گے۔ کوئی تیسری قوت آئی تو اس سے پاکستان کا مقدر سنورنے کی بجائے مزید بگڑے گا۔

جوں جوں دن گزر رہے ہیں، دشمن کے عزائم کھل کر سامنے آتے جا رہے ہیں۔NDTV کے مطابق کل ہی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار محمود اختر کو مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا اور پھر چھوڑ دیا گیا۔ اس پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع دی گئی ہے کہ اس اہلکار کو واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔اسے ’’ناپسندیدہ شخص‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ اب پاکستان نے جواب غزل کے طور پر کسی بھارتی سفارتی اہلکار کو ملک بدر کرنا ہے۔ دیکھیں قرعہء فال کس کے نام نکلتا ہے! راجستھان سے دو بھارتی باشندوں (مولانا رمضان اور سبھاش جانگیر) کو دہلی کے چڑیا گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اس پاکستانی سفارتی اہلکار کو حساس دستاویزات پاس آن رہے تھے۔۔۔ ان دونوں بھارتیوں کی شکلیں دیکھیں تو وہ کسی بھی حوالے اور کسی بھی طرف سے جاسوسی کی ابجد سے بھی واقفیت کی چغلی نہیں کھاتے۔۔۔ نجانے انڈیا کے محکمہ ء جاسوسی کو قیافہ شناسی کی بھی کوئی شُدبُد ہے یا نہیں۔جب آپ کا دشمن آپ پر وار کرنے کو بے تاب ہو، جب اس کی پشت پر امریکہ، اسرائیل اور افغانستان کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہو تو پھر اندرونی معاملات ٹھیک کرنے کے لئے کس کو پہل کرنی چاہیے؟۔۔۔ حکومت کو یا پی ٹی آئی کو؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں