”جادو ہیں تیرے نین، غزالاں سو کہوں گا“

(عین غین میاں)

چہرے کا حسن صباحت کہلاتا ہے،رنگ کا وضاحت ،ناک کا جمال

کسی نے سوال کیاتجھے حسن کی تفصیل معلوم ہے ؟اس نے کہا جی ہاں! چہرے کا حسن صباحت کہلاتا ہے،رنگ کا وضاحت ،ناک کا جمال ،آنکھوں کا حلاوت ،منہ کا ملاحت ،زبان کا ظرافت ،عادات واطوار کا لیاقت اور بالوں کا حسن کمال ہے۔”
حسن کی یہ تفصیل میں نے الف لیلیٰ میں پڑھی تھی اور جب اس حسن کی مکمل تعریف شاعر کرتا ہے تو اک حسین غزل تخلیق ہوتی ہے۔
غزل ایران سے جب برصغیر میں پہنچی تو اسے اک نئی جہت ملی اور اک نئی زبان۔
ولی دکنی کو ہم اردو غزل کا معمارکہیں توبے جا نہ ہوگا۔انہوں نے غزل کی بنیاد بہت ہنرمندی سے رکھی اور محبوب کی تعریف بہت خوبصورت اندازمیں کی۔ انداز ملاحظہ ہو:
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوکہوں گا
جادو ہیں تیرے نین، غزالاں سو کہوں گا
میر کی شاعری میں داخلی کیفیات زیادہ ہیں :
اشک آنکھوں سے کب نہیں آتا

لوہو آتا ہے تب نہیں آتا
لیکن میر بھی حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔وہ اپنے محبوب کی تعریف میں ایسی نازک اور خوبصورت تشبیہ لاتے ہیں کہ کمال فن کی داد دینی پڑتی ہے:
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
جب غالب غزل کہتے ہیں تو اس کو اوجِ کمال پر پہنچا دیتے ہیں ۔ان کے کلام میں آفاقیت ،جدت ،فلسفہ، شوخی ،ظرافت ،حسنِ بیان اورمنظر کشی اپنے عروج پر ہے۔وہ جب حسن کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں:
ترے سرو قامت سے اک قد ِآدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

حسرت موہانی شاعری میں تغزل کے شیدائی رہے اورفلسفیانہ مضامین سے غزل کو بوجھل نہیں کیا ۔حسرت نے ثابت کیا کہ غزل زندگی کی جدوجہد میں کسی کا راستہ نہیں روکتی۔ قید خانے میں چکی پیستے ہوے غزل کہنا صرف دل والوں کا کام ہے۔جب وہ حسن کی تعریف کرتے ہیں توکیا کہتے ہیں، ان کے ایک شعر کا مصرعہ پیش ہے :
”رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام “


غزل کے اس سفر میں اور بھی قدآورشعراءملتے ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔دور حاضر میں ایک بہت خوبصورت لہجے کے شاعر احمد فرازتھے جنہوں نے غزل کو چار چاند لگا دئیے۔وہ صحیح معنوں میں غزل کے شاعر ہیں ۔وہ حُسن کی تعریف یوں کرتے ہیںکہ:
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اسکی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں