آٹے کے پیڑوں کو نرم اور تازہ رکھنے کے لیے چند آسان ٹوٹکے

لاہور (ویب ڈیسک ) گندم کی روٹی کے بغیر پاکستان میں کھانا نامکمل محسوس ہوتا ہے۔مکمل گول اور نرم روٹی مختلف پکوانوں اور دالوں کے ساتھ کھائی جاتی ہے اور یہ غذائیت بخش بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ کی غذا میں روٹی کی شمولیت کو صحت کے لیے فائدہ مند

سمجھا جاتا ہے جو کہ خشک آٹے ، پانی اور کئی بار تیل کو ملا کر چھوٹے پیڑے کی شکل میں پہلے تیار ہوتی ہے جس کے بعد بیلن کی مدد سے اسے مکمل گول شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔روٹی کو توے میں بھی بنایا جاتا ہے جبکہ بازار میں تندوروں میں بھی اسے خریدا جاسکتا ہے۔ روٹی میں کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے جبکہ فائبر کی مقدار زیادہ جو نظام ہاضمہ کو درست رکھنے میں مددگار جز ہے۔ فائبر کا زیادہ استعمال پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے اور بے وقت بھوک سے بچاتا ہے۔ مگر اکثر افراد کو ایک مشکل کا سامنا ہوتا ہے کہ آٹے کے پیڑے کو زیادہ دیر تک تازہ اور نرم رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور بمشکل ایک دن بھی گندھا ہوا آٹا چل نہیں پاتا۔ تاہم اگر آپ چند معمولی چیزوں پر عمل کریں تو پیڑے کی زندگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ جب آٹا گوندھ کر پیڑے بنالیں تو ان کو المونیم فوائل سے ڈھک دیں اور پھر کسی برتن میں ڈال کر فریج میں رکھ دیں۔ پیڑوں کو مکمل طور پر ڈھک دیں تاکہ ہوا اندر داخل نہ ہوسکے۔ آپ پیڑوں کو ائیرٹائٹ کنٹینر میں بھی اسٹور کرسکتے ہیں جس کے بعد فریج میں رکھ دیں، جس سے وہ جلد خراب نہیں ہوتے۔ آٹے میں بہت زیادہ پانی کو ملانا اسے بہت جلد خراب بھی کرسکتا ہے، تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم مقدار میں ہی پانی کو اس میں شامل کریں، اگر آپ کو پیڑوں کی کثافت میں کمی محسوس ہو تو اس میں مزید خشک آٹے کو شامل کردیں۔ آپ پیڑوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے آئل یا گھی کی پتیلی تہہ سے بھی ان کو کور کرسکتے ہیں، جس کے بعد کنٹینر میں ڈال کر فریج میں رکھ دیں، یہ چکنائی آٹے کو سیاہ اور خشک ہونے سے بچاتی ہے اور پیڑے کو نرم اور تازہ رکھتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں