دنیا میں بینک کی بنیاد کس قوم نے رکھی ؟ وہ معلومات جو کوئی نہیں جانتا

بینکوں کی تاریخ جب ہی شروع ہوتی جب سے مغرب میں عیسائی اقدار کمزور پڑتی ہیں۔ عیسائیت جہاں پر دنیا پرستی کو معتوب سمجھا جاتا تھا اور کامیابی کو آخرت سے ہی جوڑا جاتاتھا۔ وہاں سود کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔سود usuryعیسائیت میں ممنون تھی خاص کر کیتھولک چرچ میں تو ہرقسم کے شرح سود اور زر کی لین دین پر

فیس لینے تک کی مما نعت تھی۔ مگر آہستہ آہستہ جیسے جیسے سرمایہ دارنہ اقدار کا غلبہ ہوتا گیا تو سب سے پہلے سود کی کچھ شرح کو جائز گردانا جانے لگا۔ اور پھر ١٨ صدی میں پروٹسٹینٹ کے غالب آنے کے بعد تو ہر قسم کے سود سے پابندی اٹھ گئی ۔ یہود یت میں آپس میں تو سود کی ممانعت تھی مگر دیگر افرد کے ساتھ سود کی لین دین جائز تھی۔ اس لیے زر کے بازار میں شروع میں صرف یہودی ہی لین دین کرتے تھے مگر جیسے جیسے عیسائی معاشرہ میں دینا پرستی غالب آگئی اور چرچ کا اثر رسوخ ختم ہوتا گیا سود کی حرمت قائم ہوگئی۔سرمایہ داری جو کہ ١٥ ویں ١٦ صدی تک صرف یورپ کے چند ساحلی شہروں فلورینس، نیپل، وینس تک تھی ۔ جہاں پر مغرب کے تاجر اپنے مفتوح علاقوں سے لوٹ کا مال جمع کرتے۔ اس مال کی خرید و فروخت میں کثیر سرمایہ دارکار تھا جو کہ یہودی ساہوکار سود پر ان تاجروں کو فراہم کرتے تھے۔یہ ساہوکار ان قرضوں کے عیوض سود سے جمع رقوم کو مزید سرمایہ کاری کے لیے رہن پر سونے اور دیگر قیمتی اشیاء کو رکھ کر قرضہ فراہم کرتے اور ایک پرچی دینے۔ جس پر اس ساہوکار کا اعتبارہوتا۔ اس اعتباری پرچی کو لوگ مزید لین دین کے لیے استعما ل کرتے اس طرح سے سب سے پہلے اعتباری کرنسی کی شروعات ہوئیں۔بینکوں کی شروعات سب سے پہلے اٹلی کے شہر لومبارڈی (Lombardy) میں قرون وسظی میں مرچینٹ بینکیگ سے ہوئی جہاں پر اجناس کی پیداوار اور

خرید و فروخت پر سودی قرضے سب سے پہلے یہویوں نے شروع کیے اس وقت تک عیسائیت میں سود کی حلت موجود تھی۔ نا صرف سودی قرضے فصل کی کاشت کے وقت دیے جاتے تھے بلکہ فصل کی کاشت اسکو خریدار تک حفاظت سے پہچانے کی ذمہ داری کے لیے انشورنس بھی کی جاتی تھی۔ان قرض کو جاری کرنے والے افرا د اجناس کی ماکیٹ میں ایک بینچ(Banch) میں بیٹھ جاتے اس بینچ کو اطالوی زبان میں بانک کہتے تھے وہاں سے بینک کی اصطلاح شروع ہوئی۔ ١٦ ویں صدی میں وینس میں تاجروںکی حفاظت سے ادائیگی کے پیش نظر زر کے تاجروں نے طلائی کرنسی میں لین دین کی جگہ پہلی دفعہ چیک کا استعمال کیا گیا۔ اس طرح چیک کے ذریعہ سے لین دین شروع ہوئی ، جو کی پہلے پرچی کے ذریعہ ہوتی تھی۔ یہ ایک آسان طریقہ تھا اس لین دین سے بینک کے مالکان کے کھاتے میں کافی رقم جمع ہوگئی جو کہ اس نے مزید قرضے پر دینی شروع کردیں۔ اس طرح طلائی زر ان بینکاروں کے پاس آگیا اور اس کے عیوض کاغذ کے چیک جاری ہوگئے جوکہ دیگر ادائیگیوں کے لیے بھی استعمال ہونے لگے۔ یہ کاروبار نجی طور پر خوب فروغ پایا اور دیگریورپ کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔ برطانیہ میں میں گولڈ اسمتھ بینکاری نے فروغ پایا۔ سونے کے تاجر بھی یہ ہی کام کرتے تھے کہ لوگوں سے سونا لیتے اس کے عیوض قرضہ فراہم کرتے یہ قرضہ ایک پرچی پر لکھا ہوتا لوگ اس پرچی سے خرید و فروخت کرتے۔

کم لوگ اس سونے کو نکلوتے اور زیادہ جمع کرواتے۔جس سے ان سناروں کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس سونے اور چاندی کے محفوظات کے بدلہ مزید قرضہ فراہم کرے اور انکو کاغذی رسید دے جس کے پیچھے کچھ نہ ہو سوائے سنار کے اعتبار کے اس طرح یہ رسید پہلی اعتباری بینک کرنسی بن گئی۔ یہاں سے سب سے بڑا منظم فراڈ شروع ہوا اور آج تک جاری ہے کہ کھاتے دار بینک اپنے ڈپاسٹ سے کئی گناہ زیادہ قرض فرا ہم کردیتے ہیں یہ قرض اعتباری کرنسی کی صورت میں اشیاء اور خدمات کی خرید و فروخت کو ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے آپ اگلے ابواب میں ملاحظہ فرمائیں گے۔١٥ سولہویں صدی تک یہ بینکاری نجی شعبہ تک محدود رہی اور متعدد خاندان اس سے مستفید ہوئے۔ یہ خاندان خلافت عثمانیہ تک پہنچ گئے تھے اور زر کا کاروبار وہاں بھی فروغ دیا۔ مگر یہ کس نہج تک پہنچا یہ ایک تحقیق طلب مسئلہ ہے۔ ویں ١٨ ویں صدی میں یہ بینک نجی سطح سے نکل کر ریاستی سطح تک پہنچ گئی تاکہ زر کے اس کاروبار کو اعتبار حاصل ہو اور کوئی نجی شخص فراڈ نہ کرسکے اور قلاش نہ ہوجائیں اس لیے کہ بینک اپنی محفوظات سے بڑھ کر قرضہ فراہم کرنا شروع ہوگئے ۔ مگر جب یہ افواہ گرم ہوجاتی کہ فلاں شخص جو کہ بنکاری کر رہا ہے وہ دوالیہ ہوگیا ہے تو جنہوں نے اس کے پاس طلائی کرنسی یا اشیاء رکھوائی ہوتیں وہ جوق در جوق اس سے اسکو حا صل کرنے کا

مطالبہ کرتے چوں کی وہ اس رقم سے زیادہ قرضہ فراہم کرچکا ہوتا ہے تو وہ ان رقوم کو دینے سے قاصر ہوتا تھا ۔وہ سنار قلاش ہوجاتا اور لوگوں کی رقم ڈوب جاتی ۔اس مشکل کے حل کے لیے ایک ریاستی مرکزی ادارہ کی ضرورت پڑی جو کہ تمام کا محافظ ہو اور آفت میں انکو مدد فراہم کرسکے اور قلاش ہونے سے بچا سکے۔ نجی ان مالیاتی اداروں کو ایک مرکزی ادارہ سے منسلک کردیا گیا۔ سب سے پہلے وینس میں سرکاری سطح پر١٦١٧ء میں بینک گیرو(Giro)قائم ہوا اس کے بعد ١٨ ویں صدی میں بینک آف انگلینڈ قائم ہو ا اور اس کے ساتھ ہی بینکاری کی باقاعدہ شروعات ہوگئیں اور اعتباری کرنسی جسکو عام طور پر کاغذی کرنسی کہتے ہیں اسکی شروعات ہوگئیں۔بینک آف انگلینڈ کو پہلا باقاعدہ مرکزی بینک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اسکے بعد سے بینک دیگر فرائض بھی انجان دینے لگا جیسے بینکوں کا بینک، کرنسی نوٹوں کا اجرائ، زری پالیسی کو قابو کرنے کا لائحہ عمل ۔بینکوں کی تاریخ کو اگر دیکھیں تو پتہ چلے کا کہ مغرب میں عیسائیت کی شکست کے بعد سے جب سے مغرب میں تشکیل جدید (Enlightenment) کی تحریک نے فروغ پایا تو سود کو جواز ملا کہ اس کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ سرمائے کو منظم کیا جاسکے۔ سود کی لین دین نجی طور پر تو ہر معاشرہ میں جاری تھی، لوگ سودی لین دین محدود پیمانے پر کررہے تھے۔ مگر اسکو پزیرائی اور ادارتی صف بندی بینکوں کے ادارے سے ہی ملیں۔بینک نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ تجارت اور ذریعی قرضوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے بہانے سودی قرضوں کی لین دین کو کاروبار بنا لیا اس کی بنیاد پر سودی کرنسی کا اجراء کردیا۔ طلائی اور نقرئی کرنسی جو کہ اصل پیمانہ تبادلہ تھی اسکو تبدیل کرکے قرضوںکی بنیاد پر اعتباری کرنسی کا اجراء کردیا۔ اس اعتباری کرنسی پر بینک کا اختتار ہے کہ وہ جتنا زر چھاپنا چھاہے چھاپ سکتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں