اگر مودی جیت گیا تو بھارت سمیت پورے خطے میں کیا ہونیوالا ہے ؟ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا خصوصی تبصرہ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نام نہاد سیکولر بھارت کا مسلمانوں سے متعلق اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ رپورٹ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل سے پردہ اٹھا دیا۔ اخبار کے کے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو کاروبار اور عبادت کرنے کے حق سے محروم کرنے کے

بعد جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ امریکی اخبار نے بھارت کی اندرونی حقیقت بتاتے ہوئے مزید لکھا کہ بھارت میں مودی حکومت آنے کے بعد مسلمانوں کیلئے مسائل میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا‘ گائے کے تحفظ کے نام پر بھی انتہا پسند ہندو بے لگام ہیں۔ گوشت کا کاروبار مسلمانوں کیلئے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ دکانیں زبردستی بند کرانا اور گوشت لے جانے کے شبے میں مسلمانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔ مسلمان اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں۔ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں نے رواں انتخابی عمل پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے جبکہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں مسلمانوں کیلئے انتہا پسند بھارت میں رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور مزید 8 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔پاکستان نے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ،ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی کو ملٹری کیمپ میں تبدیل کردیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران پلوامہ اور بارہمولہ میں 8 کشمیری نوجوان شہید کر دیے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے تین نوجوانوں نصیر پنڈت، عمر میر اور خالد احمد کو ضلع پلوامہ کے علاقے ڈالی پورہ میں محاصرے اور سرچ آپریشن کے دوران شہید جبکہ ایک مکان کو بھی دھماکے سے تباہ کردیا۔ڈالی پورہ میں ہی پر امن مظاہرین پر قابض فوجیوں کی فائرنگ سے رئیس احمد ڈار نامی ایک اور نوجوان شہید جبکہ اس کا بھائی یونس احمد ڈار زخمی ہو گیا۔ یہ دونوں فوجیوں کی طرف سے تباہ کیےگئے مکان کے مالک کے بیٹے بتائے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں