میری یہ بات لکھ لو اگر اس جگہ ایک بھی حملہ ہوا تو ایسی دہشتگردی شروع ہوگی کہ لوگ القاعدہ کو بھول جائیں گے۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کی پیشگوئیوں نے سب کو چونکا دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو ایسی دہشتگردی شروع ہوگی کہ لوگ القاعدہ کو بھول جائیں گے۔امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایران تنازعہ پر جنگی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے، ایران تنازعہ کے پاکستان پر

بدترین اثرات مرت ہوں گے، ایران پر حملہ ہوا تو ایسی دہشتگردی شروع ہوگی کہ لوگ القاعدہ کو بھول جائیں گے۔پاک ایران تعلقات اور حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ایران کے ساتھ اتنے گرمجوش تعلقات نہیں ہیں لیکن ہمارے باہمی احترام کے تعلقات ہیں۔افغان امن عمل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے تمام ہمسایے امن عمل میں شریک ہوں، پاکستان، افغانستان اور امریکہ سب سے زیادہ وہاں امن چاہتے ہیں باقی کوئی ملک وہاں امن نہیں چاہتا ، بہت سے ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو دوسرے ممالک کو بھی امن عمل میں شریک کرنا چاہیے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ میڈیا کوکنٹرول نہیں بلکہ جوابدہ بنانا چاہتے ہیں، پاکستان میں میڈیا صرف آزاد ہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو آﺅٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے۔امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی کے 18 سال برطانیہ میں گزارے اور وہاں کے میڈیا کو آزاد پایا لیکن میرے خیال میں پاکستانی میڈیا برطانوی میڈیا سے بھی زیادہ آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا صرف آزاد ہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو آﺅٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے۔تصور کریں کہ ایک ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں کہا جارہا

ہوتا ہے کہ صبح ان کی طلاق ہوجائے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں صحافیوں پر تشدد ہوا ، زرداری کے دور میں صحافی غائب ہوئے،میرے وقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا،پاکستان جیسا میڈیا آپ کو کہیں نہیں ملے گا،ہمیں میڈیا واچ ڈاگ کے ذریعے انہیں کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، غلط طور پر رپورٹ کرنا شروع کردیا کہ آئی ایم ایف نے ڈالر اتنے روپے کا کرنے کا کہا ہے،یہ سنسر شپ نہیں ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ2001 تک سرکاری ٹی وی تھا جب آزاد چینل آئے تو میرے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا اس لیے میں میڈیا کا سب سے بڑا بینفشری ہوں،میں مختلف چینلز پر جا کر اپنا منشور بتاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ جب ہم پانامہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے مے فیئر فلیٹس کہاں سے خریدے؟ تو ایک میڈیا چینل نے نواز شریف کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔یہاں تک کہ انہوں نے مجھ پر ذاتی نوعیت کے حملے کرنا شروع کردیے ،میڈیا کو اپوزیشن کا کردار ادا کرناچاہیے لیکن انہیں بلیک میلنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج نے سابق وزیر اعظم کو سزا دی لیکن اپوزیشن اس کی ایک ویڈیو لے آئی اور اس کو بلیک میل کرنا شروع کردیا،میڈیا والوں کو بھی بتانا ہوگا کہ ان کی آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟ انہیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح ٹیکس ادا کرنا ہوگا،میڈیا کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں