طالبان کاوفد مجھ سے ملناچاہتاتھا لیکن ۔۔۔“، وزیر اعظم عمران خان نے اہم انکشاف کردیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ کچھ ماہ پہلے طالبان کا وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت نہیں چاہتی تھی کہ طالبان کی مجھ سے ملاقات ہو,اب میں واپس جاﺅں گا تو طالبان سے ملوں گا۔امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میںسوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان

نے کہا کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں دو طرح کا ذہن تھا جس کے باعث سٹریٹجک گہرائی کا تصور وجود میں آیا۔ پاکستان کے ایک طرف انڈیا ہے اور دوسری طرف افغانستان ہے اور پاکستان بیچ میں سینڈوچ بنا ہوا تھا لیکن آج پاکستان میں سٹریٹجک گہرائی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاک فوج اور حکومت ایک ہی پیج پر ہے ، میں نے جب بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تو آرمی میرے پیچھے کھڑی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی طوربھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،اور افغانستان کے لوگ خود ہی اپنا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ ماہ پہلے طالبان کا وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے ہمیشہ افغانستان کے فوجی حل کی مخالفت کی ہے۔ لیکن افغان حکومت نہیں چاہتی تھی کہ طالبان کی مجھ سے ملاقات ہواب میں واپس جاﺅں گا تو طالبان سے ملوں گا۔ افغانستان میں الیکشن ہونا چاہیے جس میں طالبان کو بھی حصہ لینا چاہیے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے پاکستان ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان جو اس

وقت سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’ میں صدر ٹرمپ کو یقین دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے پاکستان ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔پوری دنیا کا فرض بنتا ہے کہ اب افغانستان میں چار دہایوں کے بعد امن قائم کیا جائے‘‘ ۔اس سے پہلے انہوں نے اپنے ایک تویٹر پیغام میں کہا کہ میں امریکی صدر کی جانب سے گرم جوش خوش آمدید اور ملاقات پر شکریہ ادا کرتا ہوں، ان کی جانب سے پاکستان کی بات کو سمجھنے اور وفد کو آسانی فراہم کرنے پر میں انکا شکرگزار ہوں، میںامریکی صدر کی جناب سے ہمیں وائٹ ہاؤس اور اس کے پرائیویٹ کوارٹرز کی سیر کروانے کے لیے وقت نکالنے کی قدر کرتا ہوں۔اب انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان مین امن کے قیام کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز جب وزیراعثم عمران خان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی تو امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں، امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے، پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے۔ر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں پاکستان افغانستان میں لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہپاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی بہت مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ چاہتا تو ایک ہفتے میں افغان جنگ جیتی جا سکتی تھی لیکن میں جانوں کا ضیاع نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں