اب سے یہ کام کرنے پر 15 برس قید، 70 لاکھ ریال جرمانہ ہوگا۔۔۔۔ سعودی حکومت نے بڑا اعلان کر دیا

جدہ (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں منی لانڈرنگ پر 15 برس تک قید اور 70 لاکھ ریال تک کے جرمانے کی سزا مقرر ہے۔دنیا کا کوئی بھی ملک منی لانڈرنگ کے جرائم کا متحمل نہیں ہوتا۔اس سے سنگین اقتصادی اور سماجی نقصانات ہوتے ہیں۔سعودی وزارت خزانہ نے ٹویٹر پر بتایاہے کہ منی لانڈرنگ

سعودی قانون کے مطابق جرم ہے۔ ہر شخص کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ اس کے پاس جو دولت ہے وہ اسے کہاں سے ملی۔ مالیاتی ادارو ں کے ساتھ لین دین کرتے وقت رقم کی منتقلی کا حقیقی مقصد بھی بتانا پڑے گا۔سبق ویب سائٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کھاتیدار نے کسی مالیاتی ادارے سے معاملہ کرتے وقت سوالات کے غلط جوابات دیئے تو اسی صورت میں اس کی باز پرس ہوگی ۔ سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر “المعتقلی الرأی” (عقیدے کے جرم میں قید) نام کے اکاؤنٹ سے، جس سے عموماً سعودی حکام کیطرف سے مخالف عقیدے کے حامل افراد کو گرفتار کر لئے جانیکی خبریں دی جاتی ہیں، “حجاز” سے تعلق رکھنے والے معروف شیعہ عالم دین “محمد الحبیب” کو سعودی حکام کیطرف سے 12 سال قید کی سزا سنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ مذکورہ بالا پیغام میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکام نے معروف شیعہ عالم دین “محمد الحبیب” کو بغیر کسی الزام میں 3 سال تک قید رکھنے کے بعد سعودی بادشاہت سے مخالف عقائد رکھنے کے جرم میں مزید 12 سال کی قید اور 5 سال تک نظربند رکھے جانے کی سزا سنائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں