انتہائی افسوسناک حقیقت سامنے آگئی

نیویارک(ہاٹ لائن نیوز) ’اونلی فینز‘ (OnlyFans)نامی ویب سائٹ بنانے کا مقصد تو ویب سائٹ انتظامیہ کے بقول کچھ اور تھا لیکن اب اس ویب سائٹ کے ذریعے نوعمر لڑکیاں اپنا جسم فروخت کر رہی ہیں اور اس کے ذریعے آمدنی کمانے کی کوشش کر رہی ہیں، جن کا خیال ہے کہ اس ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ان کی برہنہ اور نیم برہنہ تصاویر اور ویڈیوز محفوظ ہیں لیکن اب اس حوالے سے تشویشناک انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اونلی فینز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹ اداکاروں، گلوکاروں اور دیگر فنون میں مہارت رکھنے والوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر لوگ ان فنکاروں کے واقعی فین ہیں تو ان کا کام دیکھنے کے عوض ماہانہ فیس ادا کریں۔ تاہم اب اس ویب سائٹ پر لڑکیاں اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی پوسٹ کر رہی ہیں اور رقم کما رہی ہیںان لڑکیوں کے پوسٹ کیے گئے مواد کے بارے میں ’ناٹ یور پورن‘ نامی کیمپین گروپ کی بانی کیٹ ایساکس کا کہنا ہے کہ ”لڑکیوں کی قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر اونلی فینز سے لیک ہو کر فحش فلموں کی ویب سائٹس پر پوسٹ ہو رہی ہیں۔ فی الحال یہ لڑکیاں اس ویب سائٹ کو آمدنی کا آسان ذریعہ سمجھ رہی ہیں لیکن مستقبل میں یہ کام ان کے لیے بھیانک خواب ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا لیک ہو کر فحش ویب سائٹس پر پوسٹ ہونے والا مواد ہٹایا جانا لگ بھگ ناممکن ہے اور تمام عمر کے لیے ان کے لیے شرمندگی کا سبب بنے گا۔ فحش فلموں کی ویب سائٹ ’پورن حب‘ نے تو ’ویڈیوز لیکڈ فرام اونلی فینز‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری بھی بنا دی ہے۔ رواں سال میں اب تک اونلی فینز سے لڑکیوں کی30لاکھ تصاویر اور 750گھنٹے دورانیے کی ایچ ڈی ویڈیوز لیک ہو کر فحش فلموں کی ویب سائٹس پر پوسٹ ہو چکی ہیں۔ جو لڑکیاں اس ویب سائٹ کو محفوظ سمجھ کر سائن اپ کر رہی ہیں، ان اس کے انجام کے متعلق پہلے سوچ لینا چاہیے۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز اونلی فینز پر قطعی محفوظ نہیں ہیں۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں