حجاجِ کرام آج رمی جمار اور قربانی میں مصروف

مکہ مکرمہ: آج نمازِ فجر کے بعد سے حجاجِ کرام کے قافلے منیٰ میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ شیطان کو کنکریاں مارنے (رمی جمار) اور قربانی کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ قربانی کے بعد بال منڈوانے یا ترشوانے کا مرحلہ ہے؛ اور یوں مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد حجاجِ کرام اپنے احرام کھول کر معمول کے لباس میں واپس آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ طوافِ زیارت بھی جاری ہے۔

سعودی عرب کی وزارت حج نے اس سال حج کرنے والوں کو رمی کےلیے سینیٹائز کی گئی کنکریوں کی تھیلیاں فراہم کی ہیں جبکہ حجاج گروپوں کی شکل میں جمرات کی رمی میں مصروف ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ’’سعودی پریس ایجنسی‘‘ کے مطابق، شہری دفاع کے محکمے نے حج کرنے والوں کی امن و سلامتی یقینی بنانے کےلیے منیٰ میں سہولیات میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری اردو اخبار ’’اردو نیوز‘‘ کے مطابق، حجاجِ کرام نے مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کے بعد چند گھنٹے آرام کرکے رات کا باقی ماندہ حصہ عبادت میں گزارا جبکہ انہوں نے قربانی کےلیے کوپن پہلے ہی خرید لیے تھے۔ سر کے بال منڈوانے یا ترشوانے کے خصوصی انتظامات منیٰ میں مکمل ہیں۔ اس کے بعد حجاج احرام کی پابندی سے آزاد ہوں گے۔

میدان عرفات میں حجاج کی صحت و سلامتی کےلیے حفاظتی تدابیر اور صحت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ مکہ میونسپلٹی کے صفائی کارکنان مشینوں کی مدد سے جمرات کے پل سمیت منیٰ کے تمام علاقوں کی صفائی بھی کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں