کوئٹہ سانحہ ، دہشت گردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ شاہ محمود قریشی نےدو ٹوک اعلان کر دیا

ملتان (ہاٹ لائن/مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ ہم سانحہ کوئٹہ کے بارے میں بھارت کی طرح بغیر تحقیقات کے بات نہیں کریں گے، اس سانحے پر ہمیں تشویش ہے، دھماکے میں معصوم لوگ شہید ہوئے ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ،دیکھنا یہ ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے فرقہ واریت ہے یا بیرونی ہاتھ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے اتوار کو ملتان میں شاہ رکن عالم کالونی کے علاقے میں واٹرفلٹریشن پلانٹ کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ پر ہمیں دکھاوے کی باتیں نہیں کرنیں بلکہ تحقیق کرنی ہے،
ہزارہ کمیونٹی پاکستان کا اہم حصہ ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت میں 19مئی تک انتخابات ہورہے ہیں اس وقت تک پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، مودی کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا۔
وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کرتا ہے لیکن پاکستان ایسا نہیں کرتا۔وزیرخارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان 21 اپریل کو ایران اور25 اپریل کو چین کے دورے پر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایران ہمارا دوست ملک ہے ہم اس کے ساتھ سرحد پر حالات بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان چین کے صدرکی دعوت پروہاں کا دورہ کررہے ہیں،وزیراعظم چین میں بین الاقومی فورم میں مہمان خصوصی کے طورپر شریک ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان نے افغانستان کے معاملات میں کبھی مداخلت کی اور نہ آئندہ کرے گا۔ ہم افغان امن کے لیے سہولت کار کا کردار اداکررہے ہیں اور دوست ملک کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ افغان امن مذاکرات کااگلا مرحلہ دوحہ میں ہورہاہے،ہمیں امید ہے کہ امریکا اورطالبان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام آئے،افغانستان میں امن واستحکام علاقے کی خوشحالی اورترقی کے لیے ضروری ہے۔نیب کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ نیب ایک خودمختارادارہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ کرپشن کے تدارک میں حکومت کی مدد کرے گا،کرپٹ لوگ کسی بھی جماعت سے ہوں ان کی بیخ کنی کرنا ہوگی،قوم توقع کرتی ہے کہ نیب بغیر کسی دبا کے اپنا کام کرتا رہے گا۔انہوں نے کہاکہ باصلاحیت افسران حکومتی پالیسیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ تحریک انصاف معاشی بحران کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت گرانا اگرمسئلے کاحل ہوتا تو کوئی حکومت نہ چلتی۔انہوں نے کہاکہ 2018میں عوام نے تحریک انصاف کو منتخب کیا ،ہماری حکومت کوبھی پانچ سال ملنے چاہئیں،پانچ سال کے بعد عوام جو فیصلہ کریں گے وہ قبول ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اسد عمر سمیت کوئی بھی چٹکی بجا کر مسائل حل نہیں کرسکتا،دیکھنا یہ ہوگا کہ گزشتہ دس سال کے دوران لیے گئے ریکارڈ قرضوں کا ذمہ دار کون ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے مصنوعی طورپر روپے کو مستحکم رکھا اور ڈالر کو مصنوعی استحکام دینے کے لیے مارکیٹ میں پھینک دیا جس سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر صرف دوہفتوں کے رہ گئے۔ بلاول بھٹو کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمودقریشی نے کہاکہ بلاول بھٹو ٹرین مارچ کریں ،سندھ مارچ یا پنجاب آئیں یہ ان کا سیاسی حق ہے۔جنوبی پنجاب صوبے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ہمارا یہ پختہ ارادہ ہے ،ہم صوبے کے قیام کے حوالے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ رکاوٹ بن رہے ہیں،جنوبی پنجاب کواس کاتشخص ضرورملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں