کامیابی کے بہت قریب۔۔!!کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کیلئے چین امریکہ ایک پیج پر ۔۔۔امریکی صدر نے واضح اعلان کر دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) چین کے صدر کے ساتھ ویکسین کی تیاری پر بات ہوئی۔ کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کورونا ٹاسک فورس کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ان کی چین کے صدر کے ساتھ کورونا کی ویکسین کی تیاری

پر بات ہوئی ہے۔ امریکی صدر نے پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ کورونا کی ویکسین بنانے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔گزشتہ کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد امریکی صدر نے ٹوئیٹ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ٹیلیفونک رابطے کی تفصیل بتائی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان کی چینی صد شی جن پنگ کے ساتھ بہت اچھی گفتگو ہوئی جس میں دنیا میں تباہی پھیلانے والے کورونا وائرس سے متعلق بات چیت کی گئی۔امریکی صدر کے مطابق چین نے وائرس سے متعلق مزید معلومات حاصل کی ہیں۔ امریکی صدر نے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں میں امریکہ نے چین اور اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور پہلی پوزیشن پر آ چکا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے 18 ہزار 691 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اور مزید 4 سو افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد امریکہ بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 4 ہزار 126 ہو گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزار 695 کی سطح کو پہنچ گئی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جبکہ امریکہ میں اب تک وائرس سے

متاثرہ 2 ہزار 522 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں مزید تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کا آغاز دسمبر 2019 میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے ہوا تھا اور وہاں پر اب تک مجموعی طور پر 81 ہزار 394 افراد اس مرض سے متاثر ہوئے جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 3295 ریکارڈ کی گئی ہے۔چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں رواں ماہ مارچ میں حیران کن کمی آئی اور رواں ماہ کے وسط تک ووہان سے ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا جس کے بعد ووہان سے لاک ڈاؤن کو بھی سلسلہ وار ختم کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کو چینی وائرس قرار دینے والے ملک امریکہ میں حیران کن طور پر اس مرض سے سب سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ 27 مارچ کی صبح تک امریکہ میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 85 ہزار سے زائد ہو گئی تھی جو کہ اب 1 لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اس وباء کے مرکز سمجھے جانے والے ملک چین سے بھی زیادہ ہو گئی اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں اس مرض سے ہلاکتیں بھی چین سے بڑھ جائیں گی کیوںکہ امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریاست نیویارک میں ہوئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیو یارک میں کورونا کے مریضوں کے لیے درکار وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کے باعث دو مریضوں کے لیے ایک ہی وینٹی لیٹر استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ گورنر اینڈریو کومو نے اعلان کیا تھا کہ نیویارک کے اسپتالوں میں کورونا کے دو مریضوں کا ایک ہی وینٹی لیٹر سے علاج کیا جا سکے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئیڈیل صورت حال نہیں ہے لیکن اس سے کام چل سکتا ہے کیونکہ آنے والے ہفتوں میں نیو یارک میں 30 ہزار وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں