تخت لاہور سے عثمان بزدار کی چھٹی ہونے کے بعد کس کی لاٹری نکلنے والی ہے ؟ اگلا وزیراعلیٰ پنجاب کون ہو گا ؟ سہیل وڑائچ نے نام لے کر پیشگوئی کردی

لاہور (ہاٹ لائن نیوز) ایرانی سیمرغ بھی ہما ہی کی طرح کاپرندہ ہے، یہ دیو مالائی پرندہ بھی اقتدار و اختیار کی علامت ہے۔ محسن لغاری کمال کا مقرر، اعداد و شمار کا ماہر اور مٹا ہوا آدمی ہے۔ خیال یہ ہے کہ عقاب چوہدری اور بزدار دونوں اسلم اقبال اور علیم خان کی مخالفت کریں گے نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے مصالحتی امیدوار کے طور پر محسن لغاری کی لاٹری نکل سکتی ہے۔آسٹریلوی سرخ طوطے کے ممدوح میاں اسلم اقبال کا تعلق لاہور کے بااثر ارائیں گھرانے سے ہے۔ میاں اسلم اقبال آزاد حیثیت میں لاہور جیسے سیاسی شہر سے منتخب ہو کر اپنی مقبولیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔کالا کوا تبدیلی کی جو کائیں کائیں کر رہا ہے اس میں ابھی طے نہیں ہوا کہ ہما پھر جنوبی پنجاب والے امیدوار کے سر پر ہی بیٹھے گا یا پھر شریفوں کو لاہور میں ٹف ٹائم دینے کے لئے لاہور سے اسلم اقبال یا علیم خان کو چنا جائے گا یہ بنیادی فیصلہ ہما کی اگلی نشست کے لئے اہم ہوگا۔ علیم خان اور محسن لغاری بڑے امیدوار ہیں دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی کا گجر بجنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ہو سکتا ہے کہ فی الحال ہما کی نشست بدلنے کی بات پنجاب میں توتا مینا کی کہانی سمجھی جائے مگر یہ دراصل ابابیلوں کے کنکریاں پھینکے جانے والے سچ کے مترادف لگتی ہے۔ ہدہدوں نے پنجاب کے مرکز اقتدار کے درخت میں جب سوراخ کرنے شروع کرنے ہیں تو تب سب کو نظر آ جائے گا کہ کیا ہونے والا ہے؟ہما کی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے تو سب تیتر اور بٹیر اڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ فصلی بٹیرے ہمیشہ اگلے آنے والے کا ساتھ دیتے ہیں کوئی کوئی نیل کنٹھ ایسا ہوتا ہے جو الگ بیٹھا رہتا ہے۔ سب سے جدا اور سب سے مختلف۔ جیسے چوہدری نثار علی جو رکن

پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے باوجود حلف نہیں اٹھا رہے۔ ایوان میں نہیں جاتے وہ کیا چاہتے ہیں یہ کسی کو علم نہیں لیکن شاید طاقتوروں کو اپنی ناراضی دکھانا چاہتے ہیں۔ہمارے ملک کا سب سے قیمتی پرندہ تلور ہے اس کی بھی سیاسی اہمیت ہے ہم برادر عربوں کو اس کے شکار کا لائسنس دے کر خوش کرتے ہیں ایک وقت تھا کہ تھل اور دوسرے ریگستانوں میں بہت سے تلور ملتے تھے اب آہستہ آہستہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں جو پرندہ بڑھ رہا ہے وہ لالی ہے جبکہ طوطے اور بلبلیں اپنی خوبصورت آوازوں کے باوجود کم ہو گئے ہیں یا شاید وہ شکار کا نشانہ زیادہ بنتے ہیں۔ہمارے تلور، پاکستانی اپوزیشن کے سیاستدان ہیں جن کا شکار کرنا ہم سب پسند کرتے ہیں کوئی طاقتور ہو کر کمزور تلور کا شکار کر کے اپنے سینے پر تمغہ سجانا چاہتا ہے یوں لگتا ہے کہ تلوروں کا ہم صفایا کر کے چھوڑیں گے تلور کم ہو گئے مگر لالیاں بڑھ گئی ہیں۔ کوے اور چڑیوں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پیلی ٹانگوں اور چونچ والا یہ بھورا پرندہ بہت ہی مطلب پرست اور زمانہ ساز ہے۔یہ صاف اور گندی ہر جگہ پر چونچ مارتا ہے۔اسی لئے یہ گملے میں پیدا ہونے والے پودوں کی طرح نہ تو آج تک شکاریوں کی نظر میں کھٹکتا ہے اور نہ ہی کوئوں یا چڑیوں کی طرح انہیں پکڑنے کی مہم چلی ہے۔ یہ لالیوں کا دور ہے وہی زمانے کے سرد و گرم سے نکلنے کا فن جانتی ہیں۔ شکرے، فاختائیں، کبوتر، تیتر، بٹیر سب فکر میں ہیں کہ بچیں کیسے؟(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں