ملک میں مزید ایک ہزار 209 افراد میں کورونا کی تشخیص

اسلام آباد: پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے اور اب فعال کیسز کی تعداد 44 ہزار 854 رہ گئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا کے 22 ہزار سے زائد ٹیسٹ کئے گئے۔ سندھ میں 9804 ، پنجاب میں 7386، خیبر پختونخوا میں 1977 ، اسلام آباد میں 2351، بلوچستان میں 76، گلگت بلتستان میں 71 اور آزاد کشمیر میں 341 ٹیسٹ کئے گئے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار 209 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ اس طرح کورونا کے مصدقہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔
2 لاکھ 19 ہزار 783 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد گھٹ کر 44 ہزار 854 ہے۔

سندھ میں مصدقہ کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار 883 ہوگئی ہے، پنجاب میں 91 ہزار 423، خیبرپختونخوا میں 32 ہزار 898، بلوچستان میں 11 ہزار 523، اسلام آباد میں 14 ہزار 766، آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہزار 989 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 918 مصدقہ مریض ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا سے 54 افراد کا انتقال ہوا ہے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 5763 ہو گئی ہے۔ پنجاب میں 2 ہزار 105، سندھ میں 2 ہزار 96، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 169، اسلام آباد میں 162، بلوچستان میں 136، آزاد کشمیر میں 49 اور گلگت بلتستان میں 46 افراد کورونا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں