’’2استعفے کوئی بڑی بات نہیں۔۔‘‘ مولانا فضل الرحمٰن بھی عمران حکومت کو پیارے ہوگئے، 5اگست کو بڑا اعلان کردیا

لاہور/سرگودھا(ہاٹ لائن نیوز) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 5اگست کو بھارت کے کشمیر پرتسلط کو آئینی بنانے کے اعلان کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ اور احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے ۔ جامعہ مدنیہ میں پارٹی عہدے داروں مولانا محمد مجد خان ،مولانا رشید میاں ،مولانا نعیم الدین ، مفتی عبد الحفیظ ،حاجی منظور آفریدی،حافظ غضنفر عزیز،بلال احمد میر ،محمد افضل خان ،حافظ راشد ،مولانا محمود الحسن ،صاحبزادہ حافظ فہیم الدین ،سید حسان میاں ،حافظ اعزازالدین ،حافظ اشہد مدنی ،حافظ منظور الحسن ،حافظ بلال احمد درانی اورحافظ عبدالرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے مقبوضہ کشمیر میں عید کے اجتماعات پر پابندی کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کشمیر کاکیس لڑنے میں ناکام رہی ہے ۔ بھارت جبر اور ظلم کے بجائے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دے یہی مسئلہ کا واحد حل ہے ۔فضل الرحمن نے جے یو آئی لاہور کے رہنماچودھری امتیاز قمر مرحوم کے بھائی اور دیگر خاندان کے افراد اور حافظ اطہر عزیز سے ان کی والدہ ،بھتیجے او ر جامعہ مدنیہ میں مولانا عبداللہ مرحوم اور دیگر مرحومین کے ورثا سے تعزیت کی ۔ لاہور میں 3روزہ قیام کے بعدفضل الرحمان سرگودھا چلے گئے ۔جہاں ایم این اے شاکر بشیر اعوان کے بھائی ملک شکیل بشیر اعوان کی وفات پر تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کے پیش کردہ6 آرڈیننس پر اپوزیشن کی مشاورت ہو رہی ہے ،اس پرسب متفقہ موقف اختیار کرینگے ،یہ حساس نوعیت کے آرڈیننس ہیں ۔نئے نیب آرڈیننس کے علاوہ دیگر کو ملک کے حق میں نہیں سمجھتے ۔عید کے بعد رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہو گا ۔آئندہ تحریک کے لیے ملکر تجاویز مرتب کرینگے جس کے بعد آل پارٹیز سربراہی کمیٹی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ ہو گا۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2ایڈوائزرز کے استعفے بڑی بات نہیں کووڈ18 کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں