اداکار عامر خان کو یہ وارننگ نما مشورہ کیوں دے دیا گیا ؟ جانیے

ممبئی (ویب ڈیسک) ممبئی میں حکام کی جانب سے کنگنا کے دفتر کا حصہ مسمار کیے جانے کے بعد جو ہنگامہ ہوا اس کے بعد کنگنا نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ انھیں ’ممبئی میں ڈر لگتا ہے۔‘جواب میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے جھٹ سے انھیں وائی کیٹیگری کا تحفظ فراہم کروا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اداکار عامر خان نے اپنی بیگم کرن راؤ کے حوالے سے کہا تھا کہ انھیں انڈیا میں عدم برداشت کے موجودہ ماحول سے ڈر لگتا ہے، تو بی جے پی کے رہنماؤں نے انھیں پاکستان جانے کی صلاح دے ڈالی تھی۔نامور صحافی نصرت جہاں کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔ویسے کنگنا اپنی جگہ کافی اہم ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کنگنا اس وقت مرکزی حکومت کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ملک میں ریکارڈ توڑ بے روزگاری، مسلسل گرتی ہوئی معیشت اور کورونا کے معاملے میں امریکہ سے مقابلے کے درمیان سُشانت سنگھ کا معاملہ، ریا چکرورتی کی گرفتاری اور کنگنا کا ہنگامہ غالباً حکومت کے لیے اس وقت بہت اہم ہے، عوام کو مصروف اور بے خبر بھی تو رکھنا ہے۔ریاست ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والی اداکارہ کنگنا رناوت کا کریئر 2004 میں فلم ’گینگسٹر‘ سے شروع ہوا تھا، لیکن اب انھوں نے فلموں کے ساتھ ساتھ سیاست کا سفر شروع کر دیا ہے، اور وہ بھی وائی کیٹیگری کی سکیورٹی کے ساتھ۔اب وہ کشمیری پنڈتوں کا درد سمجنے لگی ہیں اور بابری مسجد پر بھی فلم بنانے والی ہیں۔ ویسے کنگنا کی ہمت کو بھی داد دینی پڑے گی جنھوں نے ایک ساتھ کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ٹوئٹر پر انھوں نے فلم انڈسٹری کے ساتھیوں پر اپنے زبانی اٹیک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی شام انھوں نے اداکارہ سونم کپور اور دیا مرزا کی جانب سے ریا چکرورتی کی حمایت کرنے پر انھیں بہت کچھ کہہ ڈالا۔انھوں نے لکھا ’میرے دفتر کے سانحے کے دوران اچانک انہوں نے ریا کے لیے انصاف مانگنا شروع کر دیا۔‘ویسے دیا مرزا نے تو کنگنا کی حمایت میں ٹوئٹ کی تھی، ہاں ساتھ میں لفظ انصاف سے پہلے ریا چکرورتی کا نام بھی شامل کرنے کی غلطی کر بیٹھیں۔اس تمام معاملے میں ابھی تک جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے، آگے کیا کچھ ہو گا یہ کہنا مشکل ہے ہاں اتنا کہا جا سکتا ہے ’پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں