وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔۔!! تعلیمی ادارے کُھلتے ہی کورونا بے قابو، ایک ہی سکول سے تشویشناک اطلاعات

پشاور (ہاٹ لائن نیوز) ذرائع کے مطابق پاکستان میں چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے تا ہم اساتذہ کے کرونا ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں، ایک ہی سرکار سکول کے سات اساتذہ کرونا کا شکار ہو گئے۔ اساتذہ کا تعلق گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 کینٹ پشاور سے ہے۔

خیبرپختونخواہ کے محکمہ تعلیم کے مطابق ایک ہفتہ قبل اساتذہ کے کورونا ٹیسٹ کرائے گئے تھے، کورونا سے متاثرہ اساتذہ میں سے کوئی بھی طلبا سے نہیں ملا، ان اساتذہ کے دوبارہ بھی کورونا ٹیسٹ کئے جائیں گے، تمام اساتذہ کے ٹیسٹ سے متعلق محکمہ صحت سے بات ہوچکی ہے۔ اساتذہ میں کرونا کی تشخیص کی بعد اس سکول کے لیٹ کھلنے کا امکان ہے،متاثرہ سکول کب کھلے گا اس بارے میں محکمہ تعلیم دوبارہ اعلان کرے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز تعلیمی ادارے کھلنے کے پہلے روز ہی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تعلیمی ادارہ سیل کر دیا گیا،این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسزرپورٹ ہونے پربڑا تعلیمی ادارہ سیل کر دیا گیا،این سی او سی کے مطابق ٹارگٹڈ ٹیسٹنگ کے دوران ادارے میں16کورونا کیسز رپورٹ ہوئے،کورونا کی روک تھام کیلئے کنٹکٹ ٹریسنگ کا عمل جاری رہےگا۔ این سی او سی نے کہا ہے کہ والدین اور اساتذہ سے گذارش ہے کہ بچوں کو اسکول بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خاص خیال رکھیں بچوں کو ماسک پہنا کر اسکول روانہ کریں چاہے وہ کپڑے کا ماسک ہی کیوں نہ ہو۔ ۔بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اسکول ہر گز نہ بھیجیں.اگر طبیعت ذیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے۔ پوزیٹیوآنےکی صورت میں اسکول کو مطلع کیا جائے۔ این سی او سی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. ۔یقین کریں کہ بچے اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں یا ہینڈ سینیٹائیزر کا استعمال کریں. ڈرائیور حضرات جو بچوں کو اسکول یا کالج لے کر جاتے ہیں وہ اپنی گاڑیوں میں سماجی فاصلہ یقینی بنائیں۔ گاڑی میں بیٹھاتے وقت یقین کریں کہ بچوں نے فیس ماسک پہنے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں