طلال چوہدری کہیں کے نہ رہے۔!! سیاست پر تاحیات پابندی عائد۔۔۔ (ن) لیگی رہنما کو ایک اور جھٹکا دے دیا گیا

لاہور(ہاٹ لائن نیوز) مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری کی سیاست کرنے پر تاحیات پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی ہے۔ یہ قرار داد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن پنجاب اسمبلی مسرت جمشید چیمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ (ن) لیگ کے سابق وزیر طلال چودھری نے اپنی ہی پارٹی کی معزز خاتون ممبر قومی اسمبلی کو تنظیم سازی کی آڑ میں رات تین بجے ہراساں کیا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ طلال چودھری کی اس حرکت پر خاتون ممبر کے بھائیوں نے اس کی ہڈیاں توڑ دیں۔ وہ اس واقعہ سے قبل بھی خواتین کو ہراساں کرنے کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے میں مشہور ہیں۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کے ایوان کا (ن) لیگ کے اکابرین خصوصاً مریم صفدر سے مطالبہ ہے کہ طلال چودھری کو معزز خاتون ممبر قومی اسمبلی کو ہراساں کرنے پر پارٹی سے فوری طور پر نکالا جائے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان الیکشن کمیشن سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ طلال چودھری کی سیاست کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کیس میں میں پولیس کو خاتون ایم این اے کے بعد خود طلال چوہدری بھی نہ ملے اور اسلام آباد پہنچ گئے۔ فیصل آبادکےاسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی ) عبدالخالق کے مطابق پولیس طلال چوہدری کا بیان لینے لاہور کے نجی اسپتال پہنچی تاہم وہ پہلے ہی اسپتال سے جاچکے تھے۔ اے ایس پی عبدالخالق کہتے ہیں کہ انہیں اسپتال عملے نے بتایاکہ طلال چوہدری کو ڈسچارج کردیا گیا ہے لیکن انہيں ڈسچارج سلپ نہيں دکھائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں