کیا سندھ وزیراعظم کا نہیں؟ دو سابق وزرائے اعظم عمران خان پر برس پڑے، بڑے پتے کی بات کہہ دی گئی

ملتان (ہاٹ لائن نیوز) رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پی ڈی ایم رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر آج اجلاس ہوا، کراچی واقعہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سب کے سامنے ہے،

بلاول نے پریس کانفرنس کی اور ساری باتیں کیں، ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، ملک میں آئین کیا کہتا ہے، اس ملک کے وزیراعظم نے فوج کو بھی سیاست میں ملوث کر دیا ہے،وزیراعظم کو چاہیے تھا وزیراعلیٰ سندھ کو فون کرتے اور ان سے بات کرتے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بدنصیبی ہے کہ ملک کا وزیراعظم اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہا ہے، ملک کا ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے،وفاق اور صوبے کے درمیان ٹکراؤ ہے،ہم سندھ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،کیا گزشتہ دنوں سے وزیراعظم نے ملکی صورتحال پر کوئی بات کی ؟ہم اصولی موقف اپنانے پر پولیس کے بھی ساتھ ہیں، پی ڈی ایم کا احتجاج جاری رہے گا۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کو پرواہ نہیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے؟ پی ڈیم ایم سے اس سارے معاملے کی مذمت کرتے ہیں،حکومت کی گھٹیا‌ حرکتوں کی مذمت کرتے ہیں،وزیراعظم ملکی مسائل سے ناآشنا ہیں،آئین کی بالا دستی ہوتی تو وزیراعظم صوبے کے وزیراعلیٰ کو فون کرتا۔ راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ یہ ایسا واقعہ ہوا اتنا بدنصیبی کی بات ہے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوجانے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی ذمہ دارانہ بیان نہیں آیا، تمام سیاسی لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی،واقعے سے ایسے لگا جیسے وفاق خود ملوث ہو،گزشتہ روز بلاول بھٹو نے احسن طریقے سے معاملات پر بات کی، وزیراعظم پورے سین سے غائب ہیں،وزیراعظم کراچی کے واقعات پر خاموش کیوں ہیں؟کیا سند ھ وزیراعظم عمران خان کا نہیں ؟وزیراعظم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہورہے ہیں ،ملک میں غیر یقینی کی فضا قائم ہے ،وزیراعظم ساکن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں