پہلے نواز شریف کےسیاسی جانشین شہباز شریف ٹھہرے ، پھر شاہد خاقان بنے ، اور اب مریم نواز باپ کی سیاسی وارث۔۔۔ نواز شریف بار بار کیوں بیانیہ بدلتے رہے ؟ ایک زبردست سیاسی تبصرہ

لاہور (ہاٹ لائن نیوز) اپنے پچھلے کالم کے آخر میں میاں شہباز شریف کے ایک معروف صحافی کے ساتھ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے راقم نے یہ سوال اْٹھایا تھا کہ جب میاں شہباز شریف یہ دعوی کرتے ہیں کہ 2018ء میں مقتدر حلقوں میں یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ حکومت مسلم لیگ نون ہی بنائے گی نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اور اس سلسلے میں وزراء کے نام تک بھی فائنل ہو گئے تھے تو پھر یقیناً میاں شہباز شریف کو یہ بھی علم ہو گا کہ مسلم لیگ نون کی اس وقت حکومت کیوں نہ بن سکی اور کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ وہ عوام کو اس سلسلے میں بھی آگاہی سے سرفراز کرتے۔کہتے ہیں بات شہادت اور دلیل سے کی جائے تو پھر ایک مقام ایسا آتا ہے کہ بڑے سے بڑا نظریاتی مخالف بھی حقائق کو تسلیم کرنے میں بْخل سے کام نہیں لیتا جسکا شائد ہمارے ملک میں بہت کم رواج ہے۔ پولیٹیکل سائنس کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے میاں شہباز شریف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دینے کیلئے راقم کی نظر میں اگر دلیل اور شہادت کا سہارا لینا پڑتا ہے تو پھر ہمیں تاریخ کے وہ اوراق کھولنے پڑینگے اور اْن لمحات کی عکس بندی کرنی پڑے گی جب میاں نواز شریف نے 2013ء میں الیکشن جیتنے پر یہ اعلان کیا تھا کہ میرا سیاسی جانشین حمزہ شہباز شریف ہو گا اور پھر قدم بہ قدم اْن تمام مرحلہ وار ڈویلمینٹ سے بھی پردہ اْٹھانا ہو گا جب مریم بی بی میاں نواز شریف اور اپنی والدہ کے ساتھ ایک دن امریکن صدر اوباما اور اسکی اہلیہ کی بغل میں کھڑی نظر آتی ہیں اور جسکے بعد میڈیا میں یہ کمپیئن چلتی ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی سیاسی جانشینی کی کوئی حقدار ہو سکتی ہے تو وہ پھر مریم نواز شریف ہی ہے۔ تاریخ بڑی ظالم ہوتی

ہے سچ اْگل کر رہتی ہے لہذا اگر سچ ڈھونڈنا ہے تو اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں اس سارے episode کا جائزہ بھی لینا ہو گا اور اْن نجی محفلوں کی گفتگوؤں کو بھی بے حجاب کرنا پڑے گا جب ماڈل ٹاون سانحہ پر بطور وزیراعلی میاں شہباز شریف کی استعفی کی بازگشت نکلی تھی۔ بات صرف یہاں تک نہیں رْکتی اْن اسباب کو بھی ڈھونڈنا پڑیگا جن سے مریم بی بی جو ایک لمحہ اپنے والد سے دوری کا سوچ بھی نہیں سکتی 2015ء میں اپنے والد کے دل کی میجر سرجری پر لندن میں موجود ہونے کی بجائے اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں مقیم رہتی ہے۔ بات وزیراعظم ہاوس پر پہنچتی ہے تو ماضی کے ان دریچوں کو بھی کھولنا پڑیگا کہ جب میاں نواز شریف ایک عدالتی فیصلے جسے کچھ لوگ انجینرڈ فیصلے کے نام سے پکارتے ہیں کے نتیجے میں جب وزارت عظمی سے نااہل ہوتے ہیں تو اپنا successor میاں شہباز شریف کو قرار دیتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہماء شاہد خاقان کے سر پر بیٹھ جاتا ہے۔ وقت یہیں نہیں ٹھہرتا۔ خاندان مغلیہ کی تاریخ شائد دوبارہ زندہ ہوتی ہے میاں نواز شریف اور مریم نواز گرفتاری دینے کیلئے لندن سے لاہور ائرپورٹ پہنچ جاتے ہیں لیکن میاں شہباز شریف کا قافلہ سات گھنٹے کی مسافت کے باوجود ریگل چوک سے ائرپورٹ نہیں پہنچ پاتا۔ راقم کے نزدیک جو بھی طالبعلم ان تمام حقائق سے پردہ اْٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ راقم کی طرف سے میاں شہباز شریف سے پوچھے گئے سوال کا بڑا باآسانی جواب دے سکتا ہے کہ آخرکار وہ کیا وجہ بنی کہ ایک طے شدہ منصوبے کے باوجود نون لیگ کو 2018ء میں حکومت کیوں نہ مل سکی کہیں یہ تو نہیں کہ یہاں بھی مغلیہ دور والی تاریخ دہرائی گئی ہو کیونکہ ہمارے ملک میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ 2008ء میں بھی اس سے ملتا جلتا کچھ ایسا ہی ہوا تھا جب بقول واقفان حال منصوبہ یہ تھا کہ مشرف کی زیر صدارت حکومت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف بناتی نظر آ رہی تھی لیکن سیاست کے شاطر کھلاڑی نے بازی پلٹ کر رکھ دی تھی۔جہاں تک بات آتی ہے عرصہ ڈیڑھ سال پر محیط میاں نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے طویل خاموشی کی تو میاں شہباز شریف کی طرف سے انکے اس اقبالی انٹرویو سے لیکر زبیر عمر کی پہلے غیر اعلانیہ اور پھر اعلانیہ ملاقات اس حقیقت سے عبارت ہے کہ یہاں اصول نام کی کوئی چیز نہیں یہاں کوڑا کوڑا تھْو تْھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ۔ جو اعلان ہے کہ لوکاں دیاں اْچیاں بانگاں تے نہ جاؤ دو طرفہ سچ دیکھو اور ملک کی بہتری تلاش کرو۔ آزادی کی یہ نعمت چھن گئی تو بہت پچھتاؤ گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں