درجنوں حکمران اور حکومتیں دیکھ لیں ، جس طرح سے پاکستان کو عمران خان چلا رہا ہے ، میں بڑے وثوق سے پیشگوئی کر سکتا ہوں کہ اب یہ کام ہونے والا ہے ۔۔۔۔ بزرگ ترین پاکستانی صحافی کی پیشگوئی

لاہور (ہاٹ لائن نیوز) 2013میں عمران خاں جلسۂ عام سے خطاب کرنے کراچی آئے، تو فاتحہ خوانی کے لئے قائدِاعظم کے مزار پر گئے۔ کارکن اُن کے ہمراہ تھے جو دیر تک اپنے محبوب قائد کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ عمران خان صاحب نے اُنہیں ٹوکا، نہ اُن کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا،

نامور کالم نگار الطاف حسن قریشی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر جب صفدر صاحب نے فرطِ جذبات میں مادرِ ملت زندہ باد کے نعرے لگائے، تو اُن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لئے پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ لوگ حرکت میں آ گئے۔ اُن کی اَنا کو کراچی کے جلسے نے بہت ٹھیس پہنچائی جس میں عوام نے جوق در جوق شرکت کر کے عمران خان کی حکومت کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اِس جلسے کا اہتمام پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا اور اُس کی طرف سے وفاقی حکومت کے بعض اقدامات پر کڑی تنقید بھی ہوئی۔وزیرِاعظم عمران خان کے ایک بےدماغ وزیر ایف آئی آر درج کرانے متعلقہ تھانے پہنچ گئے۔ ایس ایچ او اُنہیں یہ باور کرانے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے کہ قانون کے مطابق یہ پرچہ مجسٹریٹ صاحب ہی درج کرا سکتے ہیں۔ وہ پولیس پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہے۔ اطلاعات کے مطابق اُنہوں نے سندھ رینجرز کی قیادت سے بات کی۔ وہاں سے چند سفید کپڑوں میں رینجرز، آئی جی ہاؤس بھیجے گئے جنہوں نے آئی جی صاحب کو جگایا اور اُن سے تحکمانہ انداز میں کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف پرچہ درج کرانے کے لئے کہا۔ اُنہوں نے کہا کہ قانون کی رو سے پرچہ مجسٹریٹ ہی درج کرا سکتے ہیں۔ اِس انکار پر اُنہیں زبردستی رینجرز کے پاس لایا گیا جنہوں نے حکم دیا، تو آئی جی صاحب کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا، چنانچہ پرچہ درج ہوا اور ایک ٹیم صفدر صاحب کو گرفتار کرنےہوٹل پہنچ گئی۔ساڑھے سات بجے صبح

محترمہ مریم نواز نے ٹویٹ کیا ہم سوئے ہوئے تھے کہ فورس کے لوگ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور صفدر کو پکڑ کے لے گئے۔ ہمارے قابلِ قدر صحافی جناب حامد میر نے تمام کہانی اپنی ٹویٹ میں بیان کر دی جس نے پورے ملک میں ایک سنسنی پھیلا دی۔ پہلے کوئی بھی شہری یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا کہ پاکستان جو ایک اسلامی اور اِنتہائی مہذب ملک ہے، اِس میں چادر اور چار دِیواری کا احترام اِس دیدہ دلیری سے پامال کیا جا سکتا ہے، مگر جب تمام ٹی وی چینلز پل پل کی خبر دینے لگے، تو عوام کے غصے اور اِضطراب میں اضافہ ہوتا گیا۔ صوبے کے وزیرِاعلیٰ کے بالا بالا ہی اخلاق سوز اور آئین شکن اقدامات کیے جا رہے تھے۔اِس واقعے پر چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے، مگر وزیرِاعظم، وزیرِاعلیٰ سندھ اور چیئرمین پی پی پی کی طرف سے کوئی وضاحتی بیان آیا نہ کسی کو پریس کانفرنس کرنے کی توفیق ہوئی، تب ایک تاریخی اہمیت کا واقعہ رونما ہوا۔ پولیس کی بےتوقیری کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے آئی جی سندھ، بارہ ڈی آئی جیز، اتنی ہی تعداد میں ایس پیز اور ایس ایچ اوز نے چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اِس پر تھرتھلی مچ گئی اور وزیرِاعلیٰ سندھ کے بعد مسٹر بلاول بھٹو نے ایک چشم کشا پریس کانفرنس کی اور آئی جی پولیس کو زبردستی لیجانے کی تحقیقات کے لئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا۔ آرمی چیف نے حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر کورکمانڈر کراچی کو فوری تحقیقات کا حکم صادر کیا اور بلاول بھٹو اور وَزیرِاعلیٰ سندھ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ وہ دونوں آئی جی ہاؤس گئے اور پولیس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اِس ایک واقعے نے ہماری قومی زندگی کے ہولناک احساسات واضح کر دیے ہیں۔ اِس وقت عوام کے اندر یہ شعور و اِحساس راسخ ہو گیا ہے کہ اِنھیں کسی بھی سطح پر فیصلہ سازی کا اختیار نہیں اور طاقت ور طبقے اُن کا معاشی، ذہنی اور نفسیاتی استحصال کر رہے ہیں اور اِصلاح اور مکالمے کے سارے دروازے بند ہیں۔ اِن حالات میں تاریخ کی پیشین گوئی تو یہ ہے کہ معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا اور رِیاستی ڈھانچہ زیروزبر ہو جاتا ہے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بھی بڑے بڑے اسباب یہی تھے، چنانچہ ہر حال میں آئین کے آگے سرنگوں رہنے ہی میں سب کی بھلائی ہے اور متعدد صاحبانِ نظر کے خیال میں نواز شریف کا بیانیہ جدید تاریخ کا میگنا کارٹا ہے۔ حالات کو درست رخ دینے کے لئے وزیرِاعظم کو اپنا کردار اَدا کرنا اور کمرے کا دروازہ توڑنے کے ذمہ داران کو قرار وَاقعی سزا دینا ہو گی۔ سندھ پولیس اور صوبائی حکومت کے عظیم الشان کردار پر محترمہ مریم نواز نے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں