کراچی: خواتین پر چاقو سے حملے کے پانچوں کیسز عدم ثبوت پر بند

کراچی میں خواتین کو چاقو سے زخمی کرنے کے تمام پانچوں مقدمات کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کی بنا پر اے کلاس قرار دیتے ہوئے بند کردیا گیا جبکہ ملزم کے گرفتار مبینہ سہولت کار کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

ہاٹ لائن کے مطابق کراچی پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں رپورٹ جمع کرائی کہ انہیں گرفتار ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملے اور عدالت سے درخواست کی کہ ان کی رہائی کا حکام دیا جائے جبکہ اس سے قبل پولیس نے مذکورہ کیسز میں اہم سہولت کار شہزاد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی رپورٹ منظور کرلی جس میں کیسز کو اے کلاس کرنے اور شہزاد کو رہا کرنے کا حکم جاری کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
پولیس نے تسلیم کیا کہ تفتیش کے دوران شہزاد کے مذکورہ کیسز میں ملوث ہونے کے حوالے سے شواہد نہیں ملے۔
خیال رہے کہ 15 اکتوبر 2017 کو یہ رپورٹس منظر عام پر آئیں تھیں کہ پنجاب کے شہر ساہیوال کی پولیس نے کراچی میں خواتین کو چھریوں کے وار سے زخمی کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
ڈسٹرکٹ انسپکٹرجنرل (ڈی آئی جی) سلطان علی خواجہ کا کہنا تھا کہ ملزم وسیم، جو ساہیوال میں پیش آنے والے کراچی جیسے واقعات میں ملوث تھا، کو کراچی منتقل کیا جارہا ہے جہاں ان سے کراچی میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے مزید تفتیش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے اوائل میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نامعلوم ملزم کی جانب سے خواتین پر چاقو سے حملوں کے واقعات منظر عام پر آئے تھے جس کے نتیجے میں مقامی رہائشیوں میں خوف ہراس پھیل گیا تھا جبکہ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے مذکورہ ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا تھا تاہم فوری طور پر کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔
بعد ازاں پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت کے انتظامی جج کو بتایا تھا کہ وسیم کے مبینہ ساتھی محمد شہزاد کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا تھا کہ وہ وسیم کو تحفظ دے رہے تھے۔
ان واقعات کے حوالے سے 3 متاثرہ خواتین نے کراچی کے مختلف تھانوں میں 3 مقدمات درج کرائے، جن میں سے دو شارع فیصل تھانے اور ایک گلستان جوہر تھانے میں درج ہوا، متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ ان پر ایک چاقو بردار موٹر سائیکل سوار شخص نے حملہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے حملہ آوروں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
بعد ازاں عزیز بھٹی اور شارع فیصل تھانوں کی حدود میں ’چاقو بردار‘ شخص کے حملے میں مزید 4 خواتین زخمی ہوگئی تھیں اور یوں کراچی میں چاقو کے حملے سے متاثرہ خواتین کی تعداد 10 ہوگئی تھی۔
یاد رہے کہ مراد علی شاہ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین پر چھریوں سے حملے میں دو ملزمان کے ملوث ہونے کے واضح اشارے ملے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ دوسرے کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال سے ہے۔
وزیراعلیٰ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے مجرموں کےگرد گھیرا تنگ کردیا ہے اور کسی کوقانون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں