عمران خان کو آج کل کس چیز کا پچھتاوا ہے ، وہ اپنی کس حالیہ غلطی پر شدت سے نادم ہیں ؟ نامور صحافی مظہر برلاس نے بڑا راز فاش کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) الیکشن 2018میں پاکستانی عوام نے تبدیلی کے نام پر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت تو بن گئی مگر قرضوں کا ایک پہاڑ اس کے سامنے تھا، ملک کو مقروض ترین بنانے والا اسحٰق ڈار مفرور ہوچکا تھا، اسے بھگانے میں ایک باریش وزیراعظم نے

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کردار ادا کیا۔ ایک مشکل ترین دور میں عمران خان نے ایک نالائق ترین کے حوالے وزارت خزانہ کردی۔ عمران خان کو اب بھی اس بات کا پچھتاوا ہے کہ انہیں ان کے چہیتے نے مزید مشکلات کا شکار کیا۔ عمران خان کو مجبوراً ڈاکٹر حفیظ شیخ کو قبول کرنا پڑا۔ جیکب آباد سندھ سے تعلق رکھنے والے دھیمے مزاج کے ڈاکٹر حفیظ شیخ آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کر چکے ہیں، نئے معاہدے کی شرائط طے پاچکی ہیں، پاکستان کو آئی ایم ایف سے تین سالوں میں چھ ارب ڈالرز مل جائیں گے، ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی دو سے تین ارب ڈالرز مل جائیں گے۔ اسد عمر کے ہوتے ہوئے تو مذاکرات کی ناکامی یقینی تھی، حفیظ شیخ نے اتنا تو کیا کہ قرض لے کر دے دیا، ان کا اگلا ہدف ایف ا ے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا ہے، ڈاکٹر حفیظ شیخ اس میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ کٹھن سفر میں قرض تو لے لیا گیا ہے مگر اب قرض کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہوگا، یہ قرض پاکستان ہی کے کام آئے گا۔ اس قرض سے حکمرانوں کے بیرونی دنیا میں محلات نہیں بنیں گے۔ اس دور میں ان پچیس ماڈلز کی جادوگری بھی نہیں چلے گی جن کے امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، سوئٹرز لینڈ، سنگا پور اور نیوزی لینڈ میں فارن کرنسی اکائونٹس ہیں، جنہوں نے اپنے ایسے پیشے لکھوا رکھے ہیں جن پر ٹیکس بہت کم ہوتا ہے۔ اب منی لانڈرنگ کا گھنائونا کھیل نہیں ہوگا

اور نہ ہی اسحٰق ڈار جیسا وزیر خزانہ آنے والوں کے لئے معاشی بارودی سرنگیں بچھائے گا۔ عہد گزشتہ میں ایک طرف کرپشن اور منی لانڈرنگ ہوئی تو دوسری طرف انڈسٹری کا بیڑا غرق کردیا گیا۔ گزشتہ دور میں اداروں کی بربادیوں کی بھی طویل داستان ہے، اسی لئے تو جب ایک ٹی وی پروگرام میں ندیم افضل چن انتہائی سنجیدگی سے پوچھتے ہیں کہ ’’اچھا کوئی ایک ادارہ بتا دیں جو آپ نے نفع بخش چھوڑا ہو؟‘‘ اس سادہ سے سوال پر (ن)لیگ کے محسن شاہنواز رانجھا پر لمبی خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ واقعتاً (ن)لیگ نے سب اداروں کو خسارے میں دھکیل دیا تھا۔دوستو! گھبرانے کی ضرورت نہیں، اس سے بھی مشکل وقت قوموں پر آجاتے ہیں۔ ترکی کا بھی یہی حال تھا ،آج ترکی دنیا کی 17ویں بڑی معیشت ہے۔ یہ مانا کہ پاکستان پر قرضہ ہے، یہ مانا کہ ڈالر ایک سو چالیس روپے کا ہے، یہ بھی مان لیا کہ ہمارے پاس 8ارب ڈالرز کا زرمبادلہ ہے، یہ بھی مان لیا کہ ہمارے سارے ادارے خسارے میں ہیں مگر یاد رہے کہ ہمارا پی آئی اے جو گزشتہ تیس سالوں سے خسارے میں تھا، خسارے سے نکل آیا ہے، این ایچ اے اور پوسٹل سروسز نے منافع دینا شروع کردیا ہے، ریلوے کو شیخ رشید بہتری کی لائن پر لے آئے ہیں، ہمارے ہاں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، کسی ایک سیکٹر میں نہیں، کئی سیکٹرز میں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پاکستان کو اہم بنائے رکھتی ہے۔ مشکل وقت ہے، کٹھن سفر ہے مگر یہ گزر جائے گا، اچھے دن آئیں گے، کٹھن راستے پر سرور ارمان کا شعر یاد آگیا ہے کہ؎ بہت دشوار ہے کرنا تعین اس کی شدت کا ۔۔ ترازو میں جو رکھی جائے نفرت بھی، محبت بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں