اگر پاکستان ہماری یہ بات مان لے تو ۔۔۔۔ بھارت سے عمران حکومت کے لیے ایک اور بڑی پیشکش آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکا میں متعین بھارتی سفیر ہَرش وردھن شرنگلا نے وزیراعظم نریندر مودی کی 2019 کی انتخابی کامیابی کے بعد بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت تک پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا جب تک وہ دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی ختم نہیں کرتا۔

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی آئی تھی۔ ہرش وردھن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی ذمہ داری پاکستان پر ہے، جب تک ایک مخصوص ملک دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پراستعمال کرنا بند نہیں کرتا اور جب تک بھارت اُس پالیسی کے نتیجے میں نقصان برداشت کرتا رہے گا اس وقت تک کسی بھارتی حکومت کو عوام یہ مینڈیٹ نہیں دیں گے کہ وہ اُس مخصوص ملک سے رابطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بھارت میں ہر شہری چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال، بھوٹان، بنگلادیش، سری لنکا، مالدیپ اور افغانستان کی مثال لے لیں، ہمارے سب کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے ’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس (ترقی)‘‘ کے نام سے ترقیاتی پروگرام شروع کیا تھا، ان کی پالیسی سب کیلئے ہے جس میں بھارت کے پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں، ہم نے اس پروگرام کیلئے 27؍ ارب ڈالرز کی رقم مختص کی ہے، ہم پاکستان کو دعوت دیتے ہیں کہ اس پروگرام میں شمولیت اختیار کرے، لیکن دوہری پالیسی وہ چیز ہے جسے ہم قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جب بھی دہشت گردی سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو سب کا فیصلہ غیر جانبدار ہوتا ہے، اسلئے جو بھی ہوگا اس کا انحصار پاکستان پر ہے، لیکن ہمیں فی الحال دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد بھارت نے بھی ایران سے تیل کی درآمد بند کر دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا میں بھارتی سفیر ہرش وردھن کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایران سے تیل کی درآمد روک دی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی سفیر برائے امریکا ہرش وردھن کا کہنا تھا کہ بھارت پہلے ہی ایرانی تیل کی درآمد میں غیر معمولی کمی لا چکا تھا۔ تاہم امریکی پابندیوں کے بعد سے ایران سے تیل کی درآمد نہیں کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل میں ایران سے تیل کی درآمد کاحجم صرف 10 لاکھ ٹن تھا۔جب کہ امریکی اتحادی کے طور پر وینزیلا سے بھی تیل درآمد نہیں کر رہے۔ بھارتی سفیر کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے بھارت کو پریشانی کا سامنا ضرور ہے کیونکہ بھارت اپنی ضروریات کا 10 فیصد ایرانی تیل سے پورا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایران امریکا مسئلے پر بطور تھرڈ پارٹی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔واضح رہے اس سے قبل امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی کے بعد ترکی نے ایرانی تیل کے لیے اپنی بندرگاہیں بند کردی تھیں۔ اس بندش کے نتیجے میں ترکی کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ترکیاپنی تیل کی ضروریات کیسے پوری کرے گا۔ اس وقت ترکی معیشت اور اقتصادیات کے لیے یہ ایک اہم سوال ہے۔کیونکہ ترکی ان آٹھ ممالک میں سے ایک ہے جنہیں امریکا کی طرف سے ایران سے تیل خرید کرنے کی چھوٹ دی گئی تھی۔ امریکا کی طرف سے دی گئی مہلت 2 مئی کو ختم ہوگئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں