چند روز قبل انتقال کر جانیوالے معروف ادیب ڈاکٹر انور سجاد کی پہلی بیوی سے اکلوتی بیٹی منظر عام پر آگئی ، انتقال کے وقت مرحوم کے پاس موجود دوسری بیوی کے حوالے سے ناقابل یقین انکشافات

لاہور(ویب ڈیسک)نامور ڈرامہ رائٹر،براڈ کاسٹراور کثیرالجہات صفات کے حامل ڈاکٹر انور سجاد کے انتقال پر پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے جس انداز میں خبریں چلائیں وہ نہ صرف صحافتی اصولوں سے سراسر متصادم تھیں بلکہ اس حد تک شرمناک تھیں جنہیں سن کر اور پڑھ کر ہر ذی شعور الامان والحفیظ ہی کہہ سکتا ہے۔

ان خیالات کااظہار مرحوم مصنف کی بیٹی پریا فاطمہ نے اپنی خالہ ڈاکٹر فوزیہ رحمن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس نے دُکھ بھرے لہجے میں کہا کہ کسی ایک اخبار نے بھی اُن کی فیملی کے بارے میں ایک سطر بھی درست نہیں لکھی۔پریا فاطمہ نے بتایا کہ میرے بابا (ڈاکٹر انور سجاد)کے بارے میں یہ سب کچھ میری سوتیلی والدہ نصرت سجاد(المعروف رتی)نے اپنے لالچ کے تحت محض مالی فوائد حاصل کرنے کیلئے پھیلا یا،میرے عظیم والد نے پہلی شادی نصرت سے کی جن سے کوئی اولادنہیں،میری حقیقی ماں معروف ٹی وی اداکارہ زیب رحمن سے انہوں نے 1988 میں شادی کی جن کے بطن سے میں نے 1993 میں جنم لیا،میرے بابا نے مجھے بہترین تعلیم دلانے کیلئے مجھے نامور تعلیمی اداروں میں داخل کرایا،میں نے Lums سے ایم اے میں گولڈ میڈل لیا، آکسفورڈ یونیورسٹی سے انتھرو پولوجی میں ایم فل کرنے کے بعد اسی سبجیکٹ میں آج کل پی ایچ ڈی کر رہی ہوں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پریا فاطمہ نے بتایا کہ مجھ سے بڑی ایک بہن عائشہ سجاد بھی ہیں لیکن اس ”باخبر“ میڈیا کو اتنا بھی پتہ نہیں،یہیں سے اندازہ لگا لیں ان خبروں کی ”صداقت“ کیا ہے؟۔گفتگو کے آخر میں پریا نے بتایا کہ میرے بابا (ڈاکٹر انور سجاد کا اصل نام سید محمد سجاد انور علی بخاری تھا)سے نام نہاد”دوستی“ کے دعویدار ایک اینکر نے بار بار امداد کی اپیل کے الفاظ اُن کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن اُس کو اس میں بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،اور موصوف کو لاہور میں ہوتے ہوئے بھی میرے بابا کے جنازے میں شریک ہونے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں