عمران خان ہم تمہارے ساتھ وہ کریں گے کہ سیدھا میانوالی جا کر ہی رکو گے ۔۔۔۔ اسفند یار ولی کی دھمکی کا نیازی قبیلے کے قابل فخر بیٹے نے پوسٹ مارٹم کر ڈالا

لاہور (ویب ڈیسک) یہ خوشی کیا ہے؟ نون لیگی لوگ اپنے لیڈر سیاستدان حمزہ شہباز کی گرفتاری پر بہت خوش ہوئے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ حمزہ شہباز کو سوچنا چاہئے۔ اُن کی حیثیت کیا ہے۔ صرف یہ کہ وہ شہباز شریف کے بیٹے ہیں۔ میرے خیال میں کچھ اور بھی ہے۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ذاتی حیثیت بہت چیز ہوتی ہے۔جب نون لیگ کے اقتدار کے دن تھے تو بھی حمزہ شہباز کے پاس ایک بہت خوبصورت دفتر تھا جبکہ ان کے پاس کوئی عہدہ نہ تھا۔ میں ان سے ملا تھا عزیزم عمیر خالد میرے ساتھ تھا۔ ہم اُم نصرت کے دفتر سے ان کے دفتر میں گئے تھے۔ مجھے اچھا لگا کہ مائرہ عمیر کے دفتر اور حمزہ شہباز کے دفتر میں کوئی فرق نہ تھا۔ صرف پروٹوکول اور سکیورٹی کا فرق تھا۔ اُم نصرت میں معذور اور تھیلسیمیا کے مریض غریب بچوں کو تازہ خون دیا جا رہا ہے۔ ہماری ساری قوم کے بچوں کو تازہ خون کی ضرورت ہے۔ کاش حمزہ شہباز اس تلخ حقیقت پر غور کرتے۔ بہرحال مجھے حمزہ شہباز کی گرفتاری سے خوشی نہیں ہوئی۔ یہ خوشی ضرور ہو ئی کہ وہ اب لیڈر بن گئے ہیں۔ ہمارے یہاں ضروری ہے کہ لیڈر گرفتار ضرور ہوتا ہے ۔ میرے قبیلے کے قائد مولانا عبدالستار خان نیازی جیل کو اپنا سسرال کہا کرتے تھے جبکہ وہ غیر شادی شدہ تھے۔ مریم نواز حمزہ شہباز سے پہلے گرفتار ہوئی ہیں۔ اس صورتحال کے لیے بھی حمزہ سوچیں گے۔وہ مریم نواز کے لیے اسی طرح محسوس کریں جو ان کے والد شہباز شریف بڑے بھائی نواز شریف کے لیے محسوس کرتے ہیں۔اسفند یار ولی اپنی بستی چارسدہ میں رہتا ہے۔ اس کا والد سیاستدان عبدالولی خان وہیں رہتا تھا۔ عمران خان کے لیے دھمکی دی ہے کہ ہم اسے میانوالی پہنچا دیں گے۔ یہ تو میانوالی کے لوگوں کی بھی تمنا ہے۔ انہوں نے ہی ووٹ دے کر انہیں اقتدار میں پہنچایا ہے۔مگر وہ میانوالی میں نہیں رہتے۔ جب وہ اقتدار میں نہ تھے بلکہ سیاست میں نہ تھے تو بھی میانوالی میں نہ رہتے تھے۔ انکے والد بھی میانوالی میں نہیں رہتے تھے۔ ان کے بھائی ظفراللہ خان شیرمان خیل میانوالی میں رہتے تھے۔ لوگ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ وہاں عمران کے لیے بھی بہت محبت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں