تبدیلی والے تو صرف پریس کانفرنسوں کے شوقین نکلے ۔۔۔۔ کل کی ہڑتال میں تاجروں سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کس وجہ سے ناکام ہو گئی

لاہور (ویب ڈیسک ) ملک بھر میں تاجروں کی ہڑتال رکوانے یا اسے ناکام بنانے کے لئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بنائی جانے والی 10 رکنی کمیٹی ہڑتال رکوانے یا ناکام بنانے میں خود ناکام ہو گئی ۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کی سربراہی میں بنائی جانے والی دس رکنی

کمیٹی میں صوبائی وزراء اور مشیران شامل تھے جنہیں وزیراعظم نے اپنے اپنے اضلاع میں تاجروں کی ہڑتال کے حوالے سے ٹاسک دیا تھا لیکن دس رکنی کمیٹی کے ارکان اس سارے عرصے میں میڈیا سیشن تک ہی محدود رہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اضافی ٹیکسو ں کیخلاف تاجروںکی ملک گیر ہڑتال، وفاقی اورصوبائی دارالحکومتوں سمیت کئی شہروں میں کاروباری مراکز بند، کچھ کھلے رہے،کراچی میں ملا جلا رحجان دیکھا گیا ،بیشتر مرکزی مارکیٹیں اور بازار بند جبکہ میڈیسن مارکیٹ، ایمپریس مارکیٹ اور اکبرروڈ کی دکانیں کھلی رہیں،راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور،پشاور ، فیصل آباد اور گوادر میںتجارتی مراکززیادہ تر بند رہے، احتجاج مخالف ٹریڈرز الائنس کاروبار کھلوانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا،آزاد کشمیر کے تاجروں نے بھی ہڑتال کی دھمکی دیدی ہے جبکہ انجمن تاجران پاکستان، مرکزی تنظیم تاجران اور دیگر تنظیموں کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ پر امن ہڑتال کے ذریعے ہم نے حکومت کو اتحاد اور آئینہ دونوں دکھا دیئے، ٹیکس پہلے بھی دیتے تھے آئندہ بھی دینگے مگر شب خون قبول نہیں، معیشت اور کاروبارتباہ کرنیوالی شرائط واپس لی جائیں ورنہ احتجاج کا سلسلہ بڑھے گا۔ تفصیلا ت کے مطابق تاجر تنظیموں کی اپیل پر اضافی ٹیکسوں اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف ملک گیر ہڑتال ہوئی ،کراچی میں تاجروں کی ہڑتال کی کال پر ملا جلا رحجان دیکھنے میں آیا، بیشتر مرکزی مارکیٹیں اور بازار بند جب کہ کچھ کھلی رہیں،ہڑتال کی کال پر الیکٹرونکس مارکیٹ اور موبائل مارکیٹ سمیت مختلف مارکیٹس بند رہیں، شہر میں مین مارکیٹس سے دور مختلف بڑی شاہراہوں پر قائم ہزاروں دکانیں کھلی رہیں جن میں میڈیسن مارکیٹ، اکبر روڈ اور ایمپریس مارکیٹ کی بیشتر دکانیں شامل ہیں،طارق روڈ الائنس کی کال پر طارق روڈ کی مارکیٹ بند رہی۔صوبے کے دیگر شہروں لاڑکانہ، ٹھٹھہ، نوابشاہ، حیدرآباد، گھارو، دھابیجی، گجو، مکلی اور میرپور ساکری میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جب کہ ہڑتال کے باعث کراچی، حیدرآباد اور سکھر جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔ کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدرمحمد رضوان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے موبائل فون کا کاروبار مکمل بند کر دیا ہے تاجروں کو ذاتی مفادکوبالائے طاق رکھتے ہوئے اجتماعی مفاد میں مکمل شٹرڈاؤن کرناچاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں