عمران خان کے اقتدار میں آںے کے بعد ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہو گیا ؟ حیرت انگیز اعداد وشمار سامنے آگئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ٹیکس سسٹم میں مزید 7لاکھ 50ہزار افراد شامل ہو گئے ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سید شبرزیدی نے ایک بیان میں کہاہے کہ مزید 7لاکھ 50ہزار افراد ٹیکس سسٹم میں شامل ہو نے سے ملکی معیشیت کو سہارا ملے گا ، ان کی شمولیت سے سال 2018 میں انکم ٹیکس گوشوارے

جمع کرانے والوں کی تعداد 25لاکھ ہو گئی ،ادھرچیئرمین ایف بی آر نے ایک مراسلے میں سوئی گیس کمپنیوں کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ پر غیر موجود افراد کو گیس کنکشن نہ دینے کی ہدایت کی ہے ،مراسلہ میں مزید لکھا گیا ہے کہ بہت سے کمرشل وصنعتی صارفین جو کہ ایکٹیو ٹیکس پیئرلسٹ پر موجود نہیں ہیں لیکن ان کو گیس کنکشن ملا ہوا ہے ،چیئرمین ایف بی آر گیس کمپنیوں کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ پر غیر موجود صارفین کو کنکشن نہ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ چیئر مین ایف بی آر نے کمپنیوں سے استدعا کی ہے کہ ایسے تمام افراد کا ڈیٹا ایف بی آر سے شیئر کریں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ایمنیسٹی سکیم عمران خان کی حکومت نے متعارف کروائی تھی ۔ تفصیلات کے مطابق شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں قانونی کاروبار کرنا مشکل جبکہ غیر قانونی کام کرنا آسان ہے۔ بے نامی قانون سے پانچ سال کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی تو پہلے بے نامی قانون کو پڑھیں۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے پوچھے گئے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایمنسٹی سکیم میں آئیں گے، ان کا نام خفیہ رکھا جائے گا۔ اس آرڈیننس کو اردو زبان میں بھی لوڈ کیا جائے گا تاکہ عام لوگ بھی اس کو سمجھ سکیں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ تیس جون تک ایمنسٹی سکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا تھا، ۔شبر زیدی کا کہنا کہ ایمنسٹی سکیم سے پہلے بے نامی اکاؤنٹ کا قانون نافذ ہو چکا ہے۔ لوگوں کو بے نامی قانون سے متعلق ادراک ہوگا تو شاید ہی کوئی بے نامی جائیداد رہے گی۔ بے نامی اکاؤنٹ رکھنے والوں کو 7 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمنسٹی سکیم کا مقصد ٹیکس اکٹھا کرنا نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں