دوا ساز کمپنیوں کی من مانیاں : معروف کمپنی نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر کیا مطالبہ کر دیا ؟ تازہ ترین خبر

راولپنڈی(ویب ڈیسک ) پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے پاکستان میں ادویات کا معیار بہتر کرنے اور ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کو اپیل کی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی ڈاکٹرز جینرک(genric) سسٹم کے تحت نسخے لکھیں تا کہ ڈاکٹر ز اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کو

ختم کیا جاسکے ۔ ڈریپ نے فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کے بے قابو ہونے کے بعد وزیر اعظم کو خود ادویات کے معاملات میں دلچسپی لینے کے لئے خط لکھا ہے ۔92نیوز کے پاس موجود خط کی کاپی کے مطابق ڈریپ نے وفاقی مشیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ کو بارہا مرتبہ فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی من مانیوں کے متعلق آگاہ کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ خط کے کے مطابق گورنمنٹ سپلائی میں ایک پراڈکٹ 100روپے میں سپلائی کی جاتی ہے وہی پراڈکٹ عام جنرل سٹورز پر400تا500میں فروخت کی جاتی ہے ، اس فرق کو ختم کرنے سے عوام کو سستی ادویات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ فارما سیوٹیکلز کمپنیوں نے اپنے قواعد بنا رکھے ہیں ،25ملی گرام کا نجکشن100روپے میں فروخت کیا جاتا ہے تو وہی 100ملی گرام کا انجکشن 400روپے میں فروخت کیا جاتا ہے حالانکہ اس کی قیمت میں بہت کمی لائی جا سکتی ہے ،ڈریپ نے وزیر اعظم سے اس بات کا نوٹس لینے کی بھی اپیل کی ہے کہ دوائی کی ایک پراڈکٹ ایک کمپنی 10روپے میں فروخت کرتی ہے تو اسی سالٹ کی دوائی دوسری کمپنی 30روپے میں فروخت کرتی ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے 30روپے والی دوائی کا معیار بہتر ہے اس لئے اس کی قیمت زیادہ ہے اگر 10والی دوائی کا معیار بہتر نہیں تو اس پر پابندی لگا کر انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ ڈریپ نے نشاندہی کی وقت سب سے زیادہ لوٹ ایک ہربل کمپنی نے مچا رکھی ہے ، ان پر کنٹرول کرنا مشکل ہو

گیا ہے ، 100روپے والی دوائی یا سپلیمنٹ 1000تا1500میں فروخت ہو رہا ہے ان میں سے بیشتر ہربل بھی نہیں ہوتے ، اس کیلئے پارلیمنٹ سے قانون سازی کرائی جائے تاکہ چیک ایند بیلنس کا نظام ان پر لاگو ہو۔ ڈریپ کے مطابق فارماسوٹیکلز کمپنیو ں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے برانڈ کے پراڈکٹ کے نام کی بجائے دوائی کے جینرک نام( سالٹ) کو زیادہ نمایاں لکھیں یہ قانون90فیصد ممالک میں لاگوہے جبکہ یورپین اور عرب ممالک میں اس پر سختی سے عمل ہوتا ہے ، ڈاکٹرز اور فارما سوٹیکل کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ادویات بہت مہنگی اور عوام کو بے جا استعمال کرائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹرز کو زیادہ سے ادویات لکھنے پر بیرون ممالک کے ٹرپ لگوائے جاتے ہیں اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں اس کی روک تھام کے لئے ڈاکٹرز کو پابند کیا جائے کہ بیماری کی تشخیص کے بعد اپنے نسخوں میں دوائی کا جینرک نام لکھیں برانڈ یا پراڈکٹ کا نام نہ لکھیں اس سے ادویات کی قیمتوں میں واضح کمی آ جائے گی ۔یاد رہے وزیر اعظم عمران خان نے ادویات کی قیمتیں بڑھانےوالوں کیخلاف کارروائی کاحکم دیا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب کوکارروائی کی ہدایت کی کہ 72 گھنٹے میں ادویات کی قیمتوں کوپرانی سطح پرلایاجائے۔وزیراعظم کا کہنا تھا عوامی خدمت کےمنصوبوں میں مکمل سہولت دی جائے، نئی ترقیاتی اسکیمزبھی ایک ماہ میں لےلی جائیں۔یاد رہے کہ رواں سال دس جنوری کو تمام ادویات پر پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا تھا، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو تین ماہ بعد ادویات کی قیمتوں میں غیرقانونی اضافے کی یاد آئی۔حال ہی میں ہولسیلرز اور ریٹیل میڈیکل اسٹورز نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جاری کردہ قیمتوں کے خلاف ادویات کی قیمتوں میں سو فیصدسے زائد اضافہ کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں