27 جنوری 2011 : میرا ارادہ اس دن لاہور شہر گھومنے کا تھا ، مگر پھر مزنگ چوک پر کیا حالات پیش آئے ۔۔۔؟ اپنی کتاب دی کنٹریکٹر میں ریمنڈ ڈیوس نے انوکھی کہانی بیان کردی

لاہور (ترجمہ و تلخیص : سید بد ر سعید ) ایک بار افغانستان میں ایک اہم آپریشن کے لئے میں بڑی ایس یو وی وین لے گیا تھا لیکن دوران سفر اس کا فریم ٹوٹ گیا اور ہم اسے بہت مشکل سے ایک اور گاڑی کے پیچھے باندھ کر واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔ لاہور میں ہمارے پاس نسبتاً چھوٹی ایس یو وی تھی ۔

میرا ٹیم لیڈر اسی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ میں نے ہمیشہ ٹیم ورکر کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے لہذا اس وقت بھی میں نے ٹیم رکن کے طور پر اسے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ ایس یو وی لے جائے ۔ میں آج سفید سیڈان میں چلا جاؤں گا۔میرا ارادہ کرایہ کی کار لے کر لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کا تھا ۔ یہاں سے ان واقعات کا آغاز ہوا جس نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا اور پھر یہ سب جان ایف کینڈی سکول ہارورڈ میں ایک کیس سٹڈی کے طور پر پڑھایا گیا کہ کس طرح بظاہر بے ضرر اور چھوٹے چھوٹے واقعات مل کر ایک بڑے بحران کو جنم دیتے ہیں ۔ لاہور میں میرے ساتھ پیش آنے والا یہ حادثہ نصابی کتب میں ایک کیس سٹڈی کے طور پر محفوظ ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے نام سے جڑ گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی سفارتی بحران بن کر آپ کے پیچھے ہو تو پھر آپ ساری عمر اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے ۔ یہ سب میرے ساتھ تب شروع ہوا جب میں نے ایک کنٹریکٹر اور پیشہ ور محافظ ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر ایک ایسی گاڑی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جوان حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جن کا اس روز مجھے سامنا کرنا پڑا ۔ اگر اس دن بھی میں تھوڑا جلدی اٹھ جاتا تو شاید یہ سب نہ ہوتا ۔گزشتہ دو برس کے دوران میں نویں بار پاکستان آیا تھا ۔ اس میں سے آدھا وقت میں نے پاکستان کے اہم شہر پشاور میں گزارا جو کہ افغانستان کی سرحد کے قریب ہے

جبکہ باقی آدھا وقت صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رہا تھا جو کہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے ۔ ایک کروڑ آبادی کا حامل یہ شہر لاتعداد جامعات ، بازار ، مساجد ، تاریخی عمارتوں اور ریسٹورنٹس کی وجہ سے مشہور ہے ۔ لاہور اپنی قدیم روایات اور تایخ کی وجہ سے بھی انتہائی اہم شہر ہے ۔یہ شہر دہشت گردوں کا گڑھ بھی تھا اور دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن کی حیثیت بھی رکھتا تھا ۔ میرا کام یہاں موجود غیر ملکیوں کی حفاظت تھی اور یہی وجہ تھی کہ مجھے یہ کام پسند تھا ۔ مجھے غلط نہ سمجھیں لیکن اس وقت میں اور میری باقی ٹیم کے لوگ محض کھیل کے میدان کے ریفری نہیں تھے ۔ اگر کوئی ہمارا نوٹس نہیں لیتا تو اس کا مطلب تھا ہم ٹھیک کام کر رہے ہیں ۔ ایسے واقعات بہت کم تھے جو ناپسندیدگی کا باعث بنتے لیکن اس وقت ہمیں پوری قوت سے یہ بتانا پڑتا تھا کہ ہم وہاں موجود ہیں۔ سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر ہماری بنیادی ذمہ داری اہم لوگوں کی انہی سے حفاظت کرناتھی ۔ مجھے غلط مت سمجھیئے ۔بہت سے لوگ جن کی حفاظت میرے ذمہ تھی وہ بہت زیادہ ذہین نہیں تھے لیکن اپنے کام میں ماہر تھے ۔وہ متوقع خطرات کو بھانپنے کی صلاحیت سے عاری تھے اور وہ غلط موقع پر غلط جگہ پر گھومنے چلے جاتے تھے۔ وہ لوگ واشنگٹن ڈی سی کے دفاتر جیسے عمدہ ماحول کے عادی تھے لیکن انہیں ایسے ممالک میں جانا پڑتا تھا جہاں امریکا کی مخالفت انتہا پر تھی اور شدت پسند گروپ موجود تھے ۔

میری موجودگی اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہ وہاں کوئی احمقانہ حرکت نہ کریں جس سے انہیں نقصان پہنچے اور بحفاظت واپس اپنے گھر لوٹ سکیں ۔ ایک کنٹریکٹر کی ڈیوٹی کتنی اہم ہوتی ہے اور اسے کتنے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیں ۔ کچھ عرصہ قبل میری ذمہ داری یو ایس ایڈ کے افسران کی حفاظت کرنا تھی جو افغانستان کے دیہی علاقوں میں سڑکیں اور چھوٹے مکانات تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ وہاں سروے کے لئے نکلنے سے پہلے میں نے اس گروپ کو خبردار کیا تھا کہ یہ ملک بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے لہذا ہر وقت محتاط رہیں ۔ میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کوئی اِدھر اُدھر نہ ہو اور صرف اس کام پر توجہ رکھیں جو وہ کرنے آئے ہیں ۔ اس کے باوجود ایک خاتون کسی چیز کی تصویر کھینچ رہی تھی جب میں چلایا ’’ رکو ! مزید ایک قدم بھی مت چلنا ‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا کہ میں نے اسے رکنے کا کیوں کہا ہے ۔ میں نے اس کی توجہ سرخ نشان والے پتھر کی طرف دلائی ۔ تب اسے معلوم ہوا کہ وہ خطرناک بارودی سرنگوں کے درمیان کھڑی تھی جو کسی بھی وقت پھٹ سکتی تھیں ۔۔ بارودی سرنگ کے درمیان پھنسی اس خاتون کوبچانے کے لئے اس وقت میرے پاس فوری طور پرکوئی بہتر طریقہ نہیں تھا ۔ میں اس بارودی سرنگ کے قریب گیا اور یو ایس ایڈ کی اس خاتون کو انہی قدموں پر واپس لانے کے لئے اس کی راہنمائی کی اور بالآخراسے وہاں سے نکال لانے میں کامیاب ہو گیا ۔ ایک غلط قدم ہمیں موت سے ہمکنار کر سکتا تھا لیکن میرے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔بارودی سرنگوں کے درمیان محفوظ راستہ تلاش کرنا بھی میری ڈیوٹی کا حصہ تھا ۔

ایک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر آپ کو صورت حال کے مطابق کوئی بھی قدم اٹھانا پڑ سکتا ہے ، اس وقت مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جو کرنا پڑے وہ آپ کرتے ہیں ۔ یہاں کسی کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے کچھ بھی ہو سکتا ہے ، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ بھی مارے جائیں لہذآ پ کو ہر لمحہ مستعد رہنا پڑتا ہے ۔ میرے خیال میں یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ اپنے ڈیوٹی کے دوران مجھے کبھی ایسی صورت حال سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔ میں نے متعدد بار ایسے حالات کا سامنا کیا ۔ مثال کے طور پر ایک بار مجھے کہا گہا کہ میں ڈک چینی ( امریکی نائب صدر ) کے وفد کی گاڑی کے آگے آگے حفاظتی گائیڈ کے طور پر جاؤں۔ میری ذمہ داری تھی کہ ان کے وفد کے راستہ میں مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کو ان سے دور رکھوں تاکہ وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ جائیں ۔اس روز بھی ہمیں ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔افغان صدر حامد کرزئی کے محل سے واپس امریکی سفارت خانے جاتے وقت میں نے دیکھا کہ ایک کار ہائی وے کے انتہائی بائیں سمت سے ہماری جانب آ رہی ہے ۔ میں نے فوری طور پر اپنے اسلحہ بردار ساتھی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قافلہ کی دوسری گاڑیوں کو وائرلیس پر اطلاع کرے کہ وہ انتہائی دائیں جانب ہو جائیں ۔ یہ ہدایت دیتے ہی میں خود فوری طور پر سامنے سے آنے والی آنے والی گاڑی کے راستے میں حائل ہو گیا ۔ میری ڈیوٹی تھی کہ میں اپنے پیچھے آنے والے نائب صدر کی گاڑی کو ہر قیمت پر اس سے بچاؤں اور اگر تیزی سے ہماری جانب بڑھنے والی اس اجنبی کار میں بارودی مواد بھرا ہوا تھا تو میں اسے اس قافلہ سے جتنا بھی دور رکھ سکتا ہوں اتنا دور رکھنے کی ہر

ممکن کوشش کروں ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ میں اس ساری کارروائی کے دوران زخمی بھی ہو سکتا تھا اور ممکن ہے مارا بھی جا تا لیکن اپنا فرض نبھانے کے لئے مجھے یہ سب کرنا ہی تھا ۔ میں نے اس کار سے ٹکرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا لیکن آخری لمحہ میں اس کار نے راستہ بدل لیا ۔میرے خیال میں اس روز میری قسمت میرا ساتھ دے رہی تھی۔ ہمیں علم ہے کہ ہماری ڈیوٹی کا سب سے خطرناک مرحلہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ۔کبھی آپ رات کو اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے بیئر پی رہے ہوتے ہیں تو کبھی آپ کی لاش آپ کے گھر بھجوائی جا رہی ہوتی ہے ۔ ایک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر میں نے متعدد سفارت کاروں کے ہمراہ افغانستان اور پاکستان میں فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔ میں نے جنگی علاقوں اور پُر امن دفاتر دونوں میں کام کیا ۔ ان حالات میں کام کرنے والے کنٹریکٹر کے پاس دو اضافی صلاحیتیں ہوتی ہیں جن کے بل پر وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ ایک اس کے کام کی مہارت اور دوسرا اس کی قسمت ۔ اسے کسی بھی وقت خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ممکن ہے کسی بھی وقت آپ کی مہارت اور قابلیت ناکام ہو جائے لیکن آپ کی قسمت حاوی ہو کر آپ کی جان بچانے کا باعث بن جائے ۔ ابتدا میں آپ کے پاس تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی صلاحیتیں کم ہوتی ہیں لیکن جیسے جیسے آپ کسی ایک کام میں ماہر ہوتے جائیں

آپ کی مہارت اور قابلیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔متعدد جنگی ماہرین اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد لمبے عرصہ تک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہتے ہیں ۔ طویل تجربہ انہیں بروقت فیصلہ سازی میں ماہر بنا دیتا ہے جس کی بدولت وہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ اس سارے عمل میں قسمت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جس دن قسمت ان سے روٹھ جائے اس روز ان کا تمام تر تجربہ اور مہارت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اوروہ مارے جاتے ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ ہمیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ قسمت ہمیں کتنے مواقع فراہم کرے گی اور کب ہم سے روٹھ جائے گی ۔ اس لئے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان واقعات کی وجہ سے مستقل پریشان رہیں یا پھر اسے ڈیوٹی کا حصہ سمجھ کر معمول کی کارروائی سمجھیں ۔ بہرحال اب میں دوبارہ وہیں آتا ہوں جہاں سے یہ ساری داستان شروع ہوئی تھی ۔ اس روز میں سفید سیڈان کار میں لاہور کے سکاچ کارنر (اپر مال ) میں اس احاطے سے باہر آیا جہاں میری ٹیم ٹھہری ہوئی تھی ۔ اس وقت میں صرف اپنے مشن کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ اس روٹ کا جائزہ لے لوں جہاں تین دن بعد میں نے کسی کو لے کر جانا تھا ۔ میرا مقصد اس راستے میں آنے والے ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ عین وقت پر کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو ۔ (جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں