وہاڑی میں خاتون پر پولیس تشدد: واقعہ کا مرکزی کردار اس وقت کس اعلیٰ حکومتی شخصیت کے گھر میں چھپا ہوا ہے ؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

وہاڑی(ویب ڈیسک)خاتون تشددکیس کے مرکزی ملزم ایاز دولتانہ نے اپنے بچائو کے لئے کوششیں تیز کر دیں ، روزنامہ دنیا کے مطابق ملزم ایاز دولتانہ اس وقت لاہور میں حکومتی پا رٹی کے رہنما کی رہائشگاہ پر موجود ہے اور اس کوشش میں ہے کہ مقدمہ سے گلو خلاصی ہو جائے ، ایاز دولتانہ اشفاق دولتانہ مرحوم

کا حقیقی بھائی ہے ،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم ایاز دولتانہ اور اس کی فیملی کو بچانے کے لئے سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں اورظہوراں مائی پر صلح کے لئے شدید دبائو بھی ڈالا جا رہا ہے۔ پولیس تشدد کی شکار ظہوراں بی بی کی حالت نہ سنبھل سکی، ڈاکٹروں نے ورثا، عزیزوں کو خاتون سے زیادہ باتیں کرنے سے منع کردیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی حالت خطرے میں ہے، علاج و معالجے میں کوئی کمی کوتاہی نہیں برتی جارہی مگر حالت تشویشناک ہے، ظہوراں بی بی کے ورثا نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے بہترین علاج کی سہولت کیلئے لاہور کے ہسپتال میں داخل کروایا جائے، اسے اور خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ علاوہ ازیں خاتون ظہوراں بی بی نے رات گئے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے تشدد کے دوران مجھے مکمل برہنہ کئے رکھا اور میرے پاﺅں پر رولر چلاتے رہے، مجھے خدشہ ہے کہ میں معذور ہوچکی ہوں۔ ظہوراں بی بی نے بتایا کہ پولیس والے میرے نازک اعضا پر کرنٹ لگاتے رہے اور مجھ پر تشدد کی آوازیں کسی کو ٹیلی فون پر سناتے اور ہنستے رہے۔ ایک اور خبر کے مطابق سیالکوٹ مسیحی برادری کی عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنانے پر تھانہ کوٹلی لوہاراں کے 2 تھانیدار وں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انکوگرفتار کر لیا گیا جبکہ ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ روزنامہ دنیا چند روز قبل تھانہ کوٹلی لوہاراں سیالکوٹ میں تعینات اے ایس آئی نوید ارشد باجوہ اور شاہد گھمن نے 5 کانسٹیبلوں کے ہمراہ مقدمہ میں مطلوب پطرس نامی ملزم کو گرفتار کرنے کیلئے پکاگڑھا سیالکوٹ میں چھاپہ مارا تو ملزم کی عدم موجودگی پر گھر میں موجود خواتین کو پکڑ کر تھانہ لے گئے جس پر لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے کشمیر روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا تھا جس پر پولیس نے خواتین کو چھوڑ دیا متاثرین نے آئی جی پنجاب کو درخواست دی جسکی ہدایات پر ڈی پی او سیالکوٹ نے انکوائری کی۔ترجمان ڈی پی او آفس نے دنیا کو بتایاکہ ابتدائی طورپردونوں تھانیداروں سمیت ریڈ میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو قصور وار پایا گیا جن کے خلاف ڈپی پی او کی جانب سے مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ دونوں اے ایس آئی اور 5 کانسٹیبلوں کو معطل کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا اور گرفتار کرکے تھانہ سول لائن کی حوالات میں بند کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں