بریکنگ نیوز: کپتان عمران خان کا جمعہ کے روز بڑا جلسہ کرنے کا اعلان ۔۔۔۔ مگر کس شہر میں ؟ ٹائیگروں کے کام کی خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے جمعے کو مظفر آباد میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جمعے کو مظفر آباد میں بڑا جلسہ کرنے جا رہا ہوں ، دنیا کو بتاﺅں گا

کشمیر میں بھارتی فوج نے مسلسل محاصرہ کر رکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کو یقین دلاﺅں گا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں محاصرہ ختم کرنے کے مطالبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، عالمی برادری بھارتی قابض افواج کی جانب سے کی جانے والی بے تحاشا انسانی حقوق کی پامالیوں سے لاتعلق نہ ہوں، جو وہ اپنے کرفیو اور محاسبے کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کے اندر ڈھا رہے ہیں ۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے سیوریج و کچرے کے مسائل پر کراچی میں براہ راست مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں تمام ترقیاتی کام وفاقی ادارے اپنی نگرانی میں کروائیں گے اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے 14ستمبر کو کراچی کے د ورے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی میں صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کو شامل کیے بغیر اپنی نگرانی میں اور وفاقی اداروں کے ماتحت منصوبوں کا آغاز اور فنڈز کے اجرا پر غور شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے قانونی و سیاسی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ وہ کراچی میں وفاقی حکومت کے براہ راست کردار کے لیے قانونی راستہ تلاش کریں گے۔ دوسری جانب میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ نالوں کی صفائی کراچی کا مستقل حل نہیں ہے یہاں سب سے پہلے کچرے کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر علی زیدی نے جو نالوں کی صفائی کا کام کیا وہ عارضی تھا اب پھر نالوں کی وہی صورتحال ہو گئی ہے، پارٹی سے ہٹ کر اگر کراچی میں ترقیاتی کام کیئے جائیں گے تو کراچی بہتر ہو گا،کراچی میں سیوریج کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر نیا بنانے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی حل نہیں،کراچی سے بدعنوانی کو ختم کرنا ہے تو اس نظام کو مکمل طور پر بدلنا ہو گا اور اصولوں سے ہٹ کر کچھ کام کرنے ہوں گے، اگر اسی طرح کا نظام چلتا رہا تو کراچی مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ خصوصی گفتگوکرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی ڈی ایم سی اور کے ایم سی کے ملازمین کا استعمال درست نہیں ہو رہا۔ اب وفاقی حکومت نے سیوریج و کچرے کے مسائل پر کراچی میں براہ راست مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں